Loading
نیویارک / لندن: دنیا کی آٹھ بڑی بین الاقوامی شپنگ تنظیموں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر لازمی ٹول یا سروس فیس عائد کرنے کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کی جائے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان تنظیموں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز کے نام مشترکہ کھلا خط ارسال کیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز جیسے بین الاقوامی بحری راستے پر لازمی ٹول یا ایسی سروس فیس نافذ کرنا، جو عملی طور پر ٹول ہی کے مترادف ہو، بین الاقوامی بحری قوانین اور کئی دہائیوں سے رائج اصولوں سے انحراف ہوگا۔
شپنگ تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں اس قسم کی فیس عائد کرنے کی اجازت دی گئی تو مستقبل میں دنیا کی دیگر اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہوں پر بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف آزادانہ جہاز رانی کا اصول متاثر ہوگا بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تنظیموں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے ہر روز بڑی مقدار میں خام تیل، قدرتی گیس اور دیگر تجارتی سامان مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس لیے یہاں کسی بھی نئی مالیاتی پابندی یا لازمی فیس کے نفاذ سے شپنگ اخراجات میں اضافہ اور عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
خط میں اقوام متحدہ اور آئی ایم او سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں اور ایسے کسی بھی اقدام کی حوصلہ شکنی کریں جو عالمی بحری نظام کے لیے خطرناک نظیر بن سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز کی سکیورٹی، جہاز رانی اور ممکنہ نئے انتظامی طریقہ کار کے حوالے سے مختلف سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل