Loading
مختصر خبر کبھی کبھی تاریخ کے طویل باب کا پیش لفظ بن جاتی ہے۔ بظاہر یہ محض ایک بحری راستے کی حد بندی، چند سفارتی ملاقاتوں اور تکنیکی انتظامات کا معاملہ دکھائی دیتا ہے، لیکن درحقیقت اس کے عقب میں طاقت، معیشت، خودمختاری اور عالمی نظام کی نئی صف بندی کا پورا منظرنامہ سانس لے رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بارے میں ایران اور عمان کے درمیان سامنے آنے والی پیش رفت اسی نوعیت کا واقعہ ہے، جسے صرف ایک علاقائی سمجھوتے کے زاویے سے نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کے آئینے میں پڑھنے کی ضرورت ہے۔
آبنائے ہرمز کو محض ایک سمندری گزرگاہ سمجھنا حقیقت کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تیل کے ذخائر، عالمی تجارت، عسکری طاقت، سفارتی توازن اور بین الاقوامی قانون ایک دوسرے سے گتھے ہوئے ہیں۔ دنیا کی توانائی کی شہ رگ سمجھی جانے والی اس آبی راہداری میں معمولی سی کشیدگی بھی بین الاقوامی منڈیوں کو ہلا دیتی ہے، جب کہ اس کی بندش نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جدید دنیا اپنی تمام تکنیکی ترقی کے باوجود چند حساس جغرافیائی مقامات کی محتاج ہے۔
ایران اور عمان کے درمیان بحری ٹریفک کو الگ الگ راستوں سے منظم کرنے کی تجویز بظاہر ایک انتظامی حل ہے، مگر اس کے سیاسی مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تہران اپنی ساحلی حیثیت کو صرف دفاعی نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ایک باقاعدہ انتظامی اور قانونی اختیار کے طور پر بھی تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ دوسری طرف عمان ایک ایسے ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے جو تنازع کو عسکری تصادم سے نکال کر سفارتی نظم میں منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مسقط ایک مرتبہ پھر خطے میں توازن پیدا کرنے والی ریاست کے طور پر اپنی شناخت مضبوط کرتا دکھائی دیتا ہے۔اس کے باوجود یہ خوش فہمی مناسب نہیں ہوگی کہ مجوزہ انتظام نافذ ہوتے ہی بحران ختم ہو جائے گا۔ خود ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ محفوظ راستے کا تعین مکمل سلامتی کی ضمانت نہیں۔ اس اعتراف میں دراصل پورے بحران کی اصل حقیقت پوشیدہ ہے۔ مسئلہ صرف جہازوں کے گزرنے کا نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان کا ہے۔ جب سمندر میں جنگی بیڑے آمنے سامنے ہوں، اقتصادی پابندیاں برقرار ہوں، فضائی نگرانی معمول بن چکی ہو اور طاقت کے استعمال کی دھمکیاں مسلسل دی جا رہی ہوں تو محض نقشے پر لکیر کھینچ دینا پائیدار امن پیدا نہیں کرسکتا۔
امریکا کی مخالفت بھی اسی تناظر میں قابلِ غور ہے۔ واشنگٹن آزاد بحری آمدورفت کے اصول کو بنیاد بنا کر کسی ایسی ترتیب کو قبول کرنے سے گریزاں ہے جس سے ایران کو خصوصی انتظامی حیثیت یا مالی فائدہ حاصل ہو۔ اس موقف کے پیچھے بین الاقوامی قانون کی بحث ضرور موجود ہے، مگر اس سے بڑھ کر یہ طاقت کے توازن کا سوال ہے، اگر تہران کو اس حساس گزرگاہ میں باقاعدہ کردار مل جاتا ہے تو یہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی برتری بھی تصور کی جائے گی، جسے امریکا آسانی سے قبول کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔
دوسری جانب ایران کا اصرار ہے کہ اصل خطرہ امریکی بحری موجودگی اور دباؤ کی پالیسی ہے۔ اس موقف کو محض سیاسی بیان قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ گزشتہ برسوں میں پابندیوں، فوجی نقل و حرکت، اسرائیل۔ایران کشیدگی اور خلیجی سلامتی کے بدلتے ہوئے منظرنامے نے اس خطے کو مسلسل غیر یقینی کیفیت میں رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نیا معاہدہ صرف متعلقہ فریقوں کی نیت پر نہیں بلکہ ان بیرونی عوامل پر بھی منحصر ہوگا جو کسی بھی وقت صورتِ حال کو دوبارہ کشیدہ بنا سکتے ہیں۔
حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تیل بردار جہازوں پر حملوں نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے سمندری راستے اب ایک دوسرے سے الگ نہیں رہے۔ ہرمز، باب المندب اور بحیرہ احمر ایک ہی اسٹرٹیجک زنجیر کی کڑیاں بن چکے ہیں، اگر کسی ایک مقام پر کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی سپلائی چین پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے صرف ایک گزرگاہ کی بحالی کافی نہیں، بلکہ پورے بحری سلامتی کے ڈھانچے کو ازسرنو استوار کرنے کی ضرورت ہے۔
اس بحران کا ایک معاشی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ صرف تیل پیدا کرنے یا درآمد کرنے والے ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی افراطِ زر، صنعت، نقل و حمل اور خوراک کی قیمتوں تک اس کے اثرات پہنچتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی قرضوں اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں، ایسے ہر بحران کی سب سے بھاری قیمت ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں استحکام کسی ایک خطے کا مفاد نہیں بلکہ عالمی معیشت کی بنیادی ضرورت ہے۔
اس سارے منظرنامے میں ایک حقیقت مسلسل نمایاں ہو رہی ہے کہ طاقت کے استعمال کی زبان کبھی دیرپا حل پیدا نہیں کرتی۔ دھمکی، پابندی، ناکہ بندی اور جوابی انتباہ وقتی دباؤ تو پیدا کر سکتے ہیں، لیکن اعتماد بحال نہیں کر سکتے، اگر مذاکرات واقعی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں تو انھیں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا عسکری دباؤ کا شکار بنانے کے بجائے عملی ضمانتوں، باہمی احترام اور علاقائی شراکت داری کی بنیاد پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
آبنائے ہرمز کا مستقبل دراصل اس سوال کا جواب بھی ہے کہ کیا دنیا اب بھی طاقت کی سیاست کے زیراثر چلے گی یا حساس بین الاقوامی راستوں کا نظم مشترکہ ذمے داری کے اصول پر استوار ہوگا، اگر موجودہ پیش رفت باہمی اعتماد میں تبدیل ہو گئی تو یہ صرف ایک آبی گزرگاہ کی بحالی نہیں ہوگی بلکہ کشیدگی سے مکالمے کی طرف ایک اہم پیش قدمی ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر بیرونی رقابتیں، عسکری دباؤ اور سیاسی عدم اعتماد غالب رہے تو یہ معاہدہ بھی ان بے شمار سفارتی کوششوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جو امید تو جگاتی ہیں مگر تاریخ کا رخ بدلنے میں کامیاب نہیں ہو پاتیں۔
پاکستان کے لیے بھی یہ صورت حال محض دور دراز کا سفارتی مسئلہ نہیں۔ ملکی درآمدات، توانائی کی ضروریات، صنعتی پیداوار اور برآمدی شعبہ عالمی ایندھن کی قیمتوں سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ تیل مہنگا ہونے کا مطلب صرف درآمدی بل میں اضافہ نہیں بلکہ مہنگی بجلی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، افراط زر اور عوام پر مزید معاشی دباؤ بھی ہے۔ اسی لیے اسلام آباد کے لیے ضروری ہے کہ وہ کسی ایک فریق کی سیاسی صف بندی کا حصہ بننے کے بجائے خطے میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی رابطوں کو فروغ دینے اور تجارتی راستوں کے تحفظ کے ہر اقدام کی حمایت کرے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے محض خاموش کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتی بلکہ متوازن سفارت کاری اس کے قومی مفاد کا تقاضا ہے۔
اسی تناظر میں عمان کا کردار خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں جہاں اکثر ریاستیں واضح اتحادوں اور محاذ آرائیوں کا حصہ بنتی رہی ہیں، وہاں عمان نے نسبتاً خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کو اپنی شناخت بنایا ہے۔ اس کی خارجہ پالیسی یہ ثابت کرتی ہے کہ چھوٹی ریاستیں بھی اگر اعتماد اور غیر جانب داری کو برقرار رکھیں تو بڑے تنازعات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہی سفارتی سرمایہ آج عمان کو اس قابل بنا رہا ہے کہ وہ ایسے وقت میں رابطے کا پل بنے جب براہ راست بات چیت تقریباً ناممکن دکھائی دیتی ہے۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ موجودہ بحران نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ اکیسویں صدی میں جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں۔ اقتصادی پابندیاں، بحری ناکہ بندیاں، توانائی کی ترسیل، مالیاتی دباؤ اور سفارتی تنہائی اب جدید تنازعات کے بنیادی ہتھیار بن چکے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی معاہدے کی کامیابی صرف عسکری کشیدگی میں کمی سے وابستہ نہیں بلکہ اس امر سے بھی مشروط ہوگی کہ کیا متعلقہ فریق ایک دوسرے کے بنیادی خدشات اور اقتصادی مفادات کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔
اگر ایران، عمان، امریکا اور دیگر متعلقہ قوتیں اس موقع کو محض وقتی سیاسی کامیابی کے بجائے دیرپا استحکام کی بنیاد بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ صرف آبنائے ہرمز کی بحالی نہیں ہوگی بلکہ خطے میں ایک نئے سفارتی باب کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر دھمکیوں، طاقت کے اظہار اور باہمی بداعتمادی کو ہی مذاکرات پر فوقیت دی گئی تو موجودہ پیش رفت بھی ماضی کی ان متعدد کوششوں کی طرح ادھوری رہ جائے گی جنھوں نے امید تو پیدا کی مگر امن کی مستقل بنیاد نہ رکھ سکیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مشرق وسطیٰ کو عالمی طاقتوں کی رقابت کا میدان بنانے کے بجائے مشترکہ اقتصادی مفادات، علاقائی ذمے داری اور سیاسی تدبر کی بنیاد پر ایک ایسا فریم ورک تشکیل دیا جائے جو سمندروں کو تصادم کا محاذ نہیں بلکہ تعاون کی شاہراہ بنا سکے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل