Thursday, August 06, 2026
 

نئے صوبے یا خود مختار مقامی حکومتیں

 



ملک میں گورننس یا نظام کی ناکامی کے بارے میں جو بات کی جا رہی ہے وہ کوئی نئی بات یا کہانی نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے جاری حکمرانی کے بحران کی جیتی جاگتی کہانی ہے۔بدقسمتی سے اس پر سیاسی اور غیر سیاسی حکومتوں نے ہمیشہ سمجھوتہ کیا اور ایسی اصلاحات کی سیاست سے گریز کیا جو ملک میں حکمرانی یا گورننس کے نظام میں بہتری اور شفافیت کو پیدا کرسکے ۔ یہ جو کچھ سیاسی نوحہ پڑھا جارہا ہے یہ ہم کئی برسوں سے حکمرانی کے بحران کے تناظر میں پیش کر رہے تھے۔لیکن حکمرانوں کے سیاسی نعروں،خوشنما وعدوں اور جذباتی سیاست میں کوئی بحران نہیں تھا۔لیکن اب حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ حکومت کے نظام میں تبدیلی کی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ ممکن ہے اس گفتگو کے پس پردہ کوئی ایجنڈا ہو،لیکن ایک بات طے ہے کہ اس ملک کے سنجیدہ افراد اور مختلف شعبہ کے ماہرین کے بقول ملک کو جس انداز سے چلایا جارہاہے وہ چل نہیں سکے گا۔ مسئلہ محض گورننس کے بحران کا ہی نہیں بلکہ سیاسی ،جمہوری،آئینی یا قانونی ،عدالتی ،انتظامی ،انسانی حقوق ،آزادی اظہار اور شہری آزادیوں کا بھی ہے جس نے ملک کے مجموعی حالات کو بگاڑ دیا ہے اور اب ہم سب سر جوڑ کر حالات کی تبدیلی کا نقشہ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک بحث ہمیشہ سے اچھی حکمرانی کے تناظر میں نئے صوبوں کی تشکیل یا خود مختار مقامی حکومتوں کی رہی ہے۔ایک دفعہ پھر اس بحث کو ہم قومی سطح پر بڑی شدت سے دیکھ رہے ہیں۔ کوئی نئے صوبوں یا نئے انتظامی یونٹ کی بنیاد پر گورننس سے جڑے مسائل کے حل کی تلاش پر زور دے رہا ہے اور کچھ کے بقول نئے صوبوں کے مقابلے میںفوری طور پر خود مختار مقامی حکومتوں کو بنیاد بنا کر ہمیں کام کرنے کی ضرورت ہے ۔اس بحث میں کوئی ملک بھر میں 32نئے صوبے یا نئے 12انتظامی یونٹ بنانے کی بات کررہا ہے اور کسی کے بقول ڈیویشنل سطح پر صوبے بنائے جائیں ۔اسی طرح یہ اتفاق بھی سامنے نہیں آیا کہ کس صوبے میں کتنے صوبے بنیں گے اور اس کا طریقہ کار کیا ہوگا۔کیا اس کے لیے ریفرنڈم کا سہارا لیا جائے گا یا پہلے سے موجود آئین میں 28ویں ترمیم کی بنیاد پر بنیادی نوعیت کی تبدیلی کی جائے گی جس میں نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے متعلقہ صوبہ کی صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے اس کی منظوری کو پہلے ختم کیا جائے گا اور پھر نئے صوبے بنیں گے۔ نئے صوبوں کی تشکیل پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے تحفظات ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس عمل سے ان کی عملی سیاسی طاقت کو کمزور کرنا اور صوبائی خود مختاری کو بھی کمزور کیاجائے گا۔کیا یہ عمل اسی طرح ہوگا جیسے ہم نے سیاسی قوتوں پر دباو ڈال کر 26ویں اور 27ویں ترمیم منظور کی تھی اور اگر ایسے ہوتا ہے تو جہاں یہ سارا عمل نئے ٹکراؤ کو پیدا کرے گا وہیں نئے مسائل کو بھی جنم دے گا۔دنیا بھر میں ہمیں نئے صوبوں کی تشکیل کے مراحل دیکھنے کو ملتے ہیں۔لیکن اس کے لیے پہلے سیاسی،آئینی ،قانونی ،انتظامی اور مالیاتی بنیادوں پر کام ہوتا ہے اور پھر اس کام کی بنیاد، ضرورت اور حقایق کی بنیاد بدتدریج نئے صوبے بنتے ہیں۔جب کہ یہاں بحث بالکل مختلف ہورہی ہے اور سمجھا جارہا ہے کہ بہت سے صوبوں کی تشکیل سے حکمرانی کا بحران حل کیا جاسکتا ہے۔پیپلزپارٹی کی قیادت موجودہ صورتحال کی بنیاد پر خوش نہیں اور نئے صوبوں کی تشکیل کی بھی حامی نہیں اور خود اندرون سندھ سے بھی مزاحمت کا سامنا آسکتا ہے۔البتہ مسلم لیگ ن کی سطح پر نیم رضامندی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اصل میں گورننس کے بحران کی ایک بڑی وجہ18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کی بہتر کارکردگی کا نہ ہونا اور لوگوں میں حکمرانی کے نظام پر مایوسی کا پیدا ہونا سمیت صوبائی حکومتوں کی جانب سے خود مختار مقامی حکومتوں کے نظام سے انحراف بھی ہے ۔صوبائی حکومتیں اس وقت بھی عملی طور پر صوبائی مرکزیت کی بنیاد پر نظام کو چلارہی ہیں ۔وہ صوبوں سے اضلاع کی طرف سیاسی ،انتظامی اور مالی خود مختاری دینے کے لیے تیار نہیں اور صوبے کے نظام کو مقامی حکومتوں کے مقابلے میں کمپنیوں اور اتھارٹیوں کی بنیاد پر چلا کر خود 18ویں ترمیم کی  خلاف ورزی کر رہی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مقامی حکومتوں کی  عدم موجودگی کی وجہ سے جہاں گورننس کے مسائل بڑھے ہیں وہیں نئے صوبوںکی بحث بھی سامنے آجاتی ہے ۔اگر صوبائی حکومتیں مقامی حکومت کے نظام کو مکمل طورپر سیاسی،انتظامی اور مالی خود مختاری دے کر اس کی آزادانہ حیثیت کو تسلیم کرتیں تو جہاں مقامی سطح کے نظام کی ساکھ بحال ہوتی وہیں نئے صوبوں کی بحث کو بھی طاقت نہ ملتی اور لوگ مقامی حکومتوں کے نظام پر بھروسہ کرتے۔ صوبائی حکومتوں نے اپنی پسند کی بنیاد پر بڑے شہروں کے نظام کو مضبوط بنایا اور دور دراز کے شہری یا دیہی علاقوں کی ترقی کو اپنی ترجیحات کا حصہ نہیں بنایا جس سے لوگوں میں محرومی کی سیاست بڑھی اور ان کو لگتا ہے کہ نئے صوبے ہی ہمارے مسائل کا حل ہیں۔لیکن وافقان حال بتاتے ہیں کہ ملک کی دو بڑی جماعتوں کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ نئے صوبوں کے منصوبوں پر عمل درآمد ہوگا ۔اسی بنیاد پر مسلم لیگ ن کی نیم دلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اگر واقعی نئے صوبوں کی تشکیل ناگزیر ہے تو اس کے لیے سیاسی عجلت کا مظاہرہ نہ کیا جائے بلکہ بھارت کی طرح ہم کو بھی اس تناظر میںکسی سنجیدہ کمیشن کی طرف جانا چاہیے جو مکمل تیاری کے ساتھ اپنی رپورٹ جاری کرے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کے عمل کو کیسے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔کیونکہ ابھی یہ تاثر ہے کہ صوبائی حکومتیں خود سے نئے صوبے بنانے کی حامی نہیں ہیں اور نہ ہی وہ اس کا اعلان کر رہی ہیں۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات میں بھی نئے صوبوں کی تشکیل مشکل نظر آتی ہے ۔ ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی نئے صوبوں کا درجہ دے دیا جائے اور کچھ گوادر،کراچی اور لاہور کو وفاق کے ماتحت کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے اس عمل کو کسی بھی صورت میں متنازعہ نہ بنایا جائے اور نہ ہی اس کے نتیجہ میں ٹکراؤ کی کوئی نئی پالیسی دیکھنے کو ملے جو یقینی طور پر ہمارے مفاد میں نہیں ہوگی۔البتہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کس حد تک 28ویں ترمیم میںمزاحمت اور سمجھوتوں کی سیاست کا شکار ہوتی ہیں۔پہلی سیڑھی کے طور پر ہمیں صوبائی حکومتوں کو پابند کرنا ہوگا کہ وہ 18ویںترمیم کے تحت اپنے اپنے صوبوں میں حکمرانی کے نظام کی بہتری کے لیے اضلاع اور تحصیل کی سطح پر خود مختار مقامی حکومتوں کو مضبوط کرکے ان کو سیاسی،انتظامی اور مالی خود مختاری دی جائے تاکہ لوگوں کو مقامی سطح پر بنیادی ضرورتوں کے تحت ریلیف دیا جا سکے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم اور بہتر گورننس کے لیے مقامی حکومتوں کی خود مختاری بنیادی کنجی ہے اور اس کے بعد ہم کچھ اور نئے اقدامات اٹھاسکتے ہیں۔لیکن اگر یہ ہی صوبائی حکومتیں صوبائی سطح پر اپنی طرز حکمرانی کو تبدیل نہیں کریں گی اور خود مختار مقامی حکومتوں کو اپنی سیاسی ترجیحات کا حصہ نہیں بنائیں گی تو لوگوں میں صوبائی حکمرانی پر مایوسی بھی ہوگی اور یہ18ویں ترمیم کی روح کے برعکس بھی ہوگی۔قومی سطح پر نئے صوبوں کی بحث ہونی چاہیے لیکن اس میں منطق ،دلیل بھی ہو اور یہ ہی ضرورتوں کی نشاندہی بھی کرتی ہو۔یہ تاثر عام نہیں ہونا چاہیے کہ ہم نئے صوبوں کی تشکیل کے ایجنڈے کو عوامی ضرورت یا گورننس کی بہتری سے زیادہ اپنے سیاسی عزائم کی بنیاد پر کرنا چاہتے ہیں تو اس طرز کا تاثر ملکی سیاست کو اور زیادہ تقسیم کرے گا۔ ہمیں مسائل میں الجھنے کی بجائے اتفاق رائے پر مبنی سیاست کے ساتھ بڑے فیصلے کرنے ہونگے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل