Friday, August 07, 2026
 

ٹرمپ ایران جنگ کے خطرناک جال میں پھنس گئے، امریکی ماہر نے خبردار کردیا

 



واشنگٹن: امریکا کی شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر اور معروف سیاسی تجزیہ کار رابرٹ پیپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث ایک خطرناک عسکری صورتحال میں پھنس چکے ہیں، جہاں ان کے لیے جنگ ختم کرنا بھی مشکل ہے اور اسے مزید وسعت دینا بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پروفیسر رابرٹ پیپ نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی اور بحری حملوں سے ٹرمپ کو وقتی طور پر کچھ فوجی کامیابیاں ضرور حاصل ہوئی ہیں، تاہم جنگ میں براہِ راست مداخلت کے باوجود وہ اپنے بڑے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ رابرٹ پیپ کے مطابق ایران جنگ کے نتیجے میں کمزور ہونے کے بجائے پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر سامنے آیا ہے۔ موجودہ صورتحال امریکی صدر کے لیے ایک پیچیدہ عسکری اور سیاسی چیلنج بن چکی ہے۔ امریکی ماہر کے مطابق صدر ٹرمپ کے پاس اب بنیادی طور پر دو ہی راستے باقی رہ گئے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ ایران کے بڑھتے ہوئے علاقائی اثر و رسوخ کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں، جبکہ دوسرا راستہ جنگ کو مزید وسیع کرنا ہے۔ رابرٹ پیپ کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ٹرمپ کے لیے کوئی آسان تیسرا راستہ نظر نہیں آتا۔ ان کے مطابق اگر امریکا مزید فوجی کارروائیوں کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں جنگ کے دائرے کے مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ پروفیسر رابرٹ پیپ نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ فضائی اور بحری طاقت کے محدود نتائج سامنے آنے کے بعد امریکی صدر زمینی کارروائی کی طرف بڑھنے پر غور کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل کسی نمایاں یا علامتی فوجی کامیابی کے حصول کے لیے جنگ میں مزید آگے جانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، تاہم زمینی کارروائی ایران کے ساتھ تنازع کو انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتی ہے۔ یہ تجزیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل