Friday, August 07, 2026
 

ٹرمپ نے سپریم کورٹ کی ایک نہ سنی؛ امریکا میں جنم لینے والے بچوں کو شہریت نہ دینے پر بضد

 



صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر امریکا میں جنم لینے والے بچوں کو پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دو نئے صدارتی احکامات جاری کر دیے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا جب چند ہفتے قبل امریکی سپریم کورٹ نے ان کی سابقہ کوشش کو مسترد کرتے ہوئے آئین کے تحت پیدائشی شہریت برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا تھا۔ وائٹ ہاؤس میں دو صدارتی احکامات پر دستخط کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ کام برسوں پہلے ہو جانا چاہیے تھا لیکن اب ہم اسے یقینی بنا رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ ایک مختلف قانونی راستے سے اس معاملے کو آگے بڑھائے گی۔ نئے صدارتی احکامات میں کیا ہے؟ پہلا صدارتی حکم ان غیر ملکی والدین کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرتا ہے جن کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت نہیں مل سکے گی۔ اگر بچے کے دونوں والدین امریکی شہری نہ ہوں اور ان میں سے ایک کسی غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کا رکن ہو، کسی غیرملکی حکومت کا ملازم ہو، دھوکہ دہی کے ذریعے امریکی شہریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہو یا ایسے امریکی علاقے میں رہ رہا ہو جہاں وفاقی قانون کے تحت خودکار شہریت نہیں دی جاتی۔ نئے صدارتی حکم کے تحت اگر درج بالا میں سے کوئی بھی ایک بات ثابت ہوگئی تو ایسے والدین کے امریکا میں پیدا ہونے والے بچے کو پیدائشی امریکی شہریت نہیں ملے گی۔ صدر ٹرمپ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بعض بدنیت غیر ملکی عناصر امریکی قوانین سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور امریکا کی فراخ دلی کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ برتھ ٹورازم پر پابندی دوسرا صدارتی حکم نامہ برتھ ٹورازم کے خلاف ہے۔ اس اصطلاح سے مراد وہ عمل ہے جس میں حاملہ خواتین سیاحتی یا وزٹ ویزا پر امریکا آتی ہیں تاکہ ان کے بچے امریکا میں پیدا ہوں اور انہیں خودکار طور پر امریکی شہریت حاصل ہو جائے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ہر سال لاکھوں بچے اس طریقہ کار کے ذریعے امریکی شہری بن جاتے ہیں تاہم آزاد تحقیقی ادارہ مائیگریشن پالیسی انسٹیٹیوٹ کے مطابق مردم شماری کی بنیاد پر اندازہ ہے کہ سالانہ تقریباً 22 ہزار سے 26 ہزار بچے برتھ ٹورازم کے ذریعے امریکا میں پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری جانب امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں غیر ملکی ماؤں کے ہاں امریکا میں 9 ہزار 600 بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی تھی۔ صدر کے مشیر برائے ہوم لینڈ سیکیورٹی اور وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا کہ بعض افراد سیاح یا وزیٹر بن کر امریکا آتے ہیں لیکن ان کا اصل مقصد بچے کو امریکی شہریت دلوانا ہوتا ہے۔ ان کے بقول ایسے بچے بعد میں امریکی شہریت کی بنیاد پر مختلف سرکاری سہولتوں، ووٹنگ کے حق اور دیگر قانونی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسٹیفن ملر نے کہا کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ صدر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ مخصوص حالات میں ملک میں داخلے پر پابندیاں یا شرائط عائد کر سکیں، اسی اختیار کے تحت برتھ ٹورازم کو روکا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے سابق صدارتی حکم کو مسترد کردیا تھا یاد رہے کہ جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم کے ذریعے امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت حاصل پیدائشی شہریت کے حق کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف متعدد ریاستوں اور شہری حقوق کی تنظیموں نے عدالت سے رجوع کیا جس کے بعد مقدمہ سپریم کورٹ پہنچا۔ امریکی سپریم کورٹ نے جون 2026 میں فیصلہ دیا کہ ٹرمپ کی سابقہ پالیسی آئین سے مطابقت نہیں رکھتی اور امریکا میں پیدائشی شہریت بدستور نافذ رہے گی۔ قانونی ماہرین کیا کہتے ہیں؟ ڈیوس اسکول آف لا کے پروفیسر گیبریل چن نے بتایا صدر کو برتھ ٹورازم روکنے کے لیے امریکا میں داخلے پر کچھ پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہو سکتا ہے لیکن ایک بار جب کوئی بچہ امریکا میں پیدا ہو جائے تو کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ اسے امریکی شہریت سے محروم کر دیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ پہلے ہی واضح فیصلہ دے چکی ہے اس لیے نئے احکامات کے بعض حصے دوبارہ عدالتوں میں چیلنج کیے جا سکتے ہیں۔ امریکا کے نامور قانونی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ ٹرمپ کی نئی پالیسی بھی آئینی اور قانونی جانچ سے گزرے گی اور امکان ہے کہ اس کے خلاف ایک نئی عدالتی جنگ شروع ہو جائے گی۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل