Sunday, August 09, 2026
 

میر رضا قتل کیس: شرجیل میمن نے اپنی اور بیٹے کی کردار کشی کیخلاف این سی سی آئی اے سے رجوع کرلیا

 



سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے اپنے اور اپنے بیٹے راول میمن کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ جھوٹے، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی الزامات کی تشہیر کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رجوع کرلیا۔ شرجیل انعام میمن کی جانب سے ان کے وکیل ایڈووکیٹ سیدہ ملائکہ نقوی، نقوی لاء ایسوسی ایٹس کے ذریعے 9 اگست 2026 کو این سی سی آئی اے کراچی زون کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو باقاعدہ تحریری شکایت جمع کرائی گئی ہے۔شکایت میں نامعلوم افراد کے خلاف سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے، مبینہ طور پر ہراساں کرنے، جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی مواد تیار اور نشر کرنے اور شکایت کنندہ اور ان کے بیٹے کی عزت و شہرت کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ درخواست کے مطابق شکایت کنندہ کو ان افراد کی اصل شناخت معلوم نہیں جو مبینہ طور پر مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس چلا رہے ہیں۔ شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ اکاؤنٹس سے ایک منظم مبینہ کردار کش مہم کے تحت شرجیل انعام میمن اور ان کے بیٹے کے خلاف مواد نشر کیا جا رہا ہے۔ شکایت میں چار فیس بک اکاؤنٹس اور پیجز کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن میں Muhajir Community، Khan Zada in ALTAFI LUSHKAR Group، Karachi Beauty اور Karachi Stories شامل ہیں۔ درخواست کے ساتھ ان اکاؤنٹس سے متعلق اسکرین شاٹس بھی بطور Annex-A منسلک کیے گئے ہیں۔ شکایت کے مطابق 9 اگست 2026 سے مذکورہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس پر شرجیل انعام میمن اور ان کے بیٹے راول میمن کے خلاف مختلف پوسٹس، ویڈیوز اور بیانات گردش کرنا شروع ہوئے، جنہیں شکایت کنندہ نے جھوٹا، بے بنیاد، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس مواد کا مقصد ان کی ساکھ، عزت اور معاشرتی حیثیت کو نقصان پہنچانا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مبینہ مواد میں الزام عائد کیا گیا کہ گلستانِ جوہر کراچی میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس، جہاں مبینہ طور پر میر علی رضا کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، شرجیل انعام میمن کی ملکیت ہے۔ شکایت کے مطابق سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مذکورہ واقعے کے فوراً بعد شرجیل انعام میمن کے بیٹے راول میمن لندن روانہ ہوگئے اور اس کے بعد باڈی گارڈ کے ہمراہ نقل و حرکت کرتے رہے۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا مواد میں مبینہ طور پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ کیس سے متعلق میڈیکل بورڈ کو ’’راتوں رات‘‘ تبدیل کیا گیا، جبکہ شرجیل انعام میمن اور ان کی سیاسی جماعت پر واقعے میں ملوث افراد کو تحفظ فراہم کرنے اور پولیس تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ اس کے علاوہ شکایت میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ گیسٹ ہاؤس اور اس سے وابستہ افراد کو ماضی کے بعض دیگر واقعات سے بھی جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ شرجیل انعام میمن نے شکایت میں ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مختلف سوشل میڈیا پیجز پر مبینہ طور پر ایک جیسے الفاظ، یکساں دعوے اور تقریباً ایک ہی وقت میں پوسٹس کی گئی ہیں۔ درخواست کے مطابق خاص طور پر گیسٹ ہاؤس کی ملکیت اور راول میمن کے لندن روانہ ہونے اور باڈی گارڈ کے ساتھ ہونے سے متعلق دعوے کم و بیش ایک جیسے الفاظ میں کم از کم چار مختلف پیجز پر سامنے آئے۔شکایت کنندہ کے مطابق اس طرزِ عمل سے بظاہر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ چند الگ تھلگ سوشل میڈیا صارفین تک محدود نہیں بلکہ ایک مبینہ منظم اور مربوط آن لائن مہم کا حصہ ہو سکتا ہے۔ درخواست میں بعض سیاسی جماعتوں سے وابستہ عناصر، جن میں جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ کا ذکر کیا گیا ہے، کے ممکنہ کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔شرجیل انعام میمن کی شکایت میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ مذکورہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے پیچھے موجود افراد اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے جعلی ناموں، بوٹ نیٹ ورکس یا پراکسی ہینڈلرز کا استعمال کر رہے ہو سکتے ہیں۔ درخواست میں این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جدید تکنیکی اور فرانزک تحقیقات کے ذریعے ان اکاؤنٹس کو چلانے والے اصل افراد کی شناخت کی جائے۔ شکایت میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر مذکورہ مواد کی مسلسل تشہیر سے شکایت کنندہ اور ان کے بیٹے کی ساکھ، ذہنی سکون اور ذاتی سلامتی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ درخواست میں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جھوٹا اور توہین آمیز مواد پھیلانے کے معاملے میں *پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016، ترمیم شدہ 2025* کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔شکایت میں بالخصوص دفعہ 20، جو کسی قدرتی شخص کی عزت و وقار کے خلاف جرائم سے متعلق ہے، دفعہ 24، جو سائبر اسٹاکنگ سے متعلق ہے، اور دفعہ 26-A، جو 2025 کی ترمیم کے ذریعے جھوٹی معلومات یا بہتان پر مبنی مواد کی تشہیر سے متعلق شامل کی گئی، کا حوالہ دیا گیا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران اگر پی ای سی اے یا پاکستان پینل کوڈ کی مزید کوئی متعلقہ دفعات قابلِ اطلاق پائی جائیں تو ان کے تحت بھی کارروائی کی جائے۔شکایت میں این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے باقاعدہ انکوائری شروع کی جائے اور ایک آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور پیجز کا فرانزک اور تکنیکی آڈٹ کرایا جائے، آئی پی لاگز، ڈیوائس اور سم رجسٹریشن ڈیٹا اور متعلقہ صارفین کی معلومات حاصل کی جائیں تاکہ اصل اکاؤنٹس چلانے والے افراد کا سراغ لگایا جاسکے۔ شکایت میں این سی سی آئی اے سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مبینہ آن لائن مہم کے درمیان رابطوں، اس کی فنڈنگ اور مواد کے اصل ماخذ کا سراغ لگایا جائے اور اس بات کا تعین کیا جائے کہ آیا یہ کسی منظم مہم کا حصہ ہے یا نہیں۔ درخواست میں مبینہ مواد تیار کرنے، ہدایت دینے یا اسے بڑے پیمانے پر پھیلانے میں ملوث تمام افراد اور اداروں کی شناخت کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔شکایت میں این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سروس فراہم کنندگان کو تمام متعلقہ ڈیٹا اور لاگز محفوظ رکھنے کی ہدایات جاری کی جائیں تاکہ تحقیقات مکمل ہونے تک کوئی اہم ثبوت ضائع، تبدیل یا حذف نہ ہوسکے۔ درخواست میں اصل حقائق سامنے لانے کے لیے آزادانہ انکوائری، ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر یا مقدمہ درج کرنے اور پی ای سی اے 2016، ترمیم شدہ 2025، پاکستان پینل کوڈ یا دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت کارروائی کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔ شرجیل انعام میمن کی جانب سے این سی سی آئی اے کو یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ وہ تحقیقات اور انکوائری میں مکمل تعاون کریں گے اور ادارے کی جانب سے طلب کی جانے والی مزید معلومات، شواہد یا وضاحت فراہم کریں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل