Sunday, August 09, 2026
 

ضلعی حکومتوں کا نظام فعال ہوتا تو نئے صوبوں کی ضرورت ہی نہ پڑتی

 



سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پاکستان کے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ملک کا نظام غیر موثرہو جانے کے اعلان اور نئے صوبوں کے قیام کے مشورے کے بعد یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ آیا ملک کو بہتر انتظامی نظام کے لیے واقعی نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں اسلام ٓ آباد میں معاشی سمٹ سے خطاب میں محسن نقوی نے یہ کہا تھا کہ جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ گر چکا ہے اور مسائل کے حل کے لیے پاکستان میں نئے صوبے بنانا ہوں گے۔ اس خطاب کے اگلے ہی روز پاکستانی فوج کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران ملک میں گڈ گورننس کے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔ جبکہ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی محسن نقوی کے اس بیان پر ردعمل آرہا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر پیغام میں محسن نقوی کو پارلیمان اور کابینہ کا فورم استعمال کرنے کا مشورہ دیا اور طنزاً لکھا کہ سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے ایکس پر ری ٹویٹ کیے گئے اس پیغام میں مزید کہا گیا کہ محسن نقوی اس نظام کے انتہائی طاقتور عہدے پر ساڑھے تین سال سے فائز ہیں، اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کر سکتے تھے۔ چلیں دیر آید درست آید!‘ تو ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ محسن نقوی جیسے با اثر وزیر کو نئے صوبوں کا مشورہ ایک معاشی سمٹ میں سامنے رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور ان کی جانب سے یہ مشورہ دیا جانا کتنا معنی خیز ہے؟اس پس منظر میں یہ دیکھنا اہم ہے کہ انہوں نے کیا کہا تھا؟ اسلام آباد میں معاشی سمٹ سے خطاب کرنے آئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ابتدائی کلمات یہ تھے۔آج مجھے تھوڑی سی سیاسی تقریر کرنا پڑے گی۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں یہ کولیپس کر چکا ہے اور ساتھ ہی بظاہر اس کے حل کے طور پر پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا مشورہ دے دیا۔ ان کے الفاظ تھے کہ انتظامی یونٹس یا صوبے، اس کو جو مرضی نام دے لیں، اس کو عوام کی سطح پر لے کر جانا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت جب اپنا بجٹ بناتی ہے تو خسارے کا بناتی ہے تو اس میں یہ بات کی جاتی ہے کہ اس سال کتنا قرضہ لینا ہے۔ تو کیا یہ ہمارا فرض نہیں ہے کہ اس کو ٹھیک کیا جائے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ملک کا قرض ہر سال بڑھتا جا رہا ہے جب تک اس سسٹم کو ری سیٹ نہیں کریں گے تب تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے تجویز دی کہ اس کے لیے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ایک کمرے میں بیٹھنا پڑے گا۔ چاہے وہ ایک دن بیٹھیں، ایک مہینہ بیٹھیں یا ایک سال بیٹھیں۔ محسن نقوی کے مطابق پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو صوبوں کے نئے یونٹس سے لے کر اپنے ملک کا ایک ایک مسئلہ بیٹھ کر حل کرنا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ جب تک ایسا نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک کے حالات تبدیل نہیں ہو سکتے چاہے آپ جتنے مرضی سیمینار کر لیں یا جتنی مرضی تقریبات کر لیں۔ اس کے بعد اگلے ہی دن ڈی جی آئی ائی ایس پی آرسے نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گڈ گورننس پاکستان کے لیے ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ موضوع ہے اور ملک کو درپیش متعدد مسائل کا حل مؤثر حکمرانی اور بہتر انتظامی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے بقول گورننس کا عمل جمود کا شکار نہیں رہ سکتا کیونکہ وقت کے ساتھ ٹیکنالوجی، آبادی اور ریاستی ضروریات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ عوام کی خواہشات ہی سب سے اہم ہیں اور گڈ گورننس یا انتظامی اصلاحات سے متعلق کوئی بھی فیصلہ عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی رائے کے مطابق ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان کے تمام سیاسی اور انتظامی معاملات کا راستہ آئین، قانون اور جمہوری عمل سے ہو کر گزرتا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر حکومت اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے موجود ہے، جبکہ انسداد دہشت گردی، مدارس سے متعلق اصلاحات اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی جیسے معاملات بھی بہتر حکمرانی کا حصہ ہیں۔ تاہم گڈ گورننس کیسے لانی ہے، کون سی اصلاحات کرنی ہیں اور کس سمت جانا ہے، یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بہتر انتظامی نظام کی جانب بڑھنا ہوگا اور اس حوالے سے ضروری اصلاحات پر غور کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں ملک کی آبادی تقریباً چار سے پانچ کروڑ تھی اور چار صوبے تھے، جبکہ آج آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، اس لیے یہ بحث جائز ہے کہ آیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ گڈ گورننس کی ضروریات پوری کر رہا ہے یا نہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام یا دیگر انتظامی تبدیلیوں سے متعلق فیصلے سیاسی جماعتوں، منتخب قیادت اور جمہوری عمل کے ذریعے ہونے چاہییں۔ ان کے بقول یہ طے کرنا سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے کہ ملک میں بہتر حکمرانی کے لیے کس نوعیت کی تبدیلیاں درکار ہیں۔ اس کے ردعمل میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر لکھا کہ وہ ذاتی طور پر ان کی آرا سے بڑی حد تک اتفاق کرتے ہیں، تاہم نظام میں بنیادی تبدیلی کے لیے آئینی اداروں کو مرکزی کردار دیا جانا چاہیے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ نظام کا ارتقائی عمل کئی دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات کے زیرِ اثر رہا ہے اور اسے ان اثرات سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ پارلیمان اور کابینہ جیسے آئینی اداروں کو پسِ منظر میں رکھ کر کاروباری برادری کے سامنے اس نوعیت کے خیالات کا اظہار اتنا مؤثر نہیں جتنا متعلقہ آئینی فورمز پر گفتگو ہو سکتی ہے اورمیں سمجھتا ہوں کہ ہائبرڈ نظام کی کامیابی میں ہی ہماری موجودہ حالتِ نجات ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اگر ایک مثالی (یوٹوپین) نظریہ یا مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اسے ہائبرد نظام کے راستے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جب ان سے وزیرِ داخلہ کے اس بیان کے متعلق سوال کیا گیا کہ موجودہ نظام اگلے دس برس میں بھی نتائج نہیں دے سکتا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ محسن نقوی کی ذاتی رائے ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے محسن نقوی کے نئے صوبوں کے مشورے یا مطالبے سے تو اتفاق کیا لیکن وہ اس بیان سے متفق نہیں کہ نظام ڈھے چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک سسٹم کولیپس کہنا مناسب نہیں۔ سسٹم صوبائی مرکزیت، این ایف سی ایوارڈ کی کمزوریوں اور بیوروکریسی کے شکنجے سے جام ہو گیا ہے۔ احسن اقبال نے وہ وجوہات بیان کیں جن کی بنیاد پر ان کا خیال ہے کہ ملک میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ 18ویں ترمیم کا مقصد یہ تھا کہ اختیارات کو وفاق سے صوبوں تک اور صوبوں سے ضلعی حکومتوں تک منتقل کیا جائے، تاہم آئینی ترمیم کے بعد ’صوبوں کو تو اختیارات منتقل ہو گئے، لیکن انھوں نے وہ تمام اختیارات اپنے پاس ہی رکھ لیے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اس وقت صوبے مرکزیت کے ساتھ ایک انتظامی یونٹ کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے تعلیم اور صحت سمیت تمام شعبہ جات ابتری کا شکار ہوئے ہیں۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ یا تو صوبوں کے اختیارات ضلعی حکومتوں کو دے دیے جائیں، یا پھر پاکستان کے 160 اضلاع میں با اختیار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں۔ احسن اقبال کے بقول اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو ملک کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانے کے لیے نئے اور قابلِ انتظام انتظامی یونٹس قائم کرنا ناگزیر ہو جائے گا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی بڑھ چکی ہے، اب صوبائی دار الحکومتوں میں بیٹھ کر صوبے چلانا نا ممکن ہو چکا ہے، اس کا حل یہ ہے کہ یا تو تمام اضلاع میں با اختیار مقامی حکومتیں بنا دی جائیں یا ملک میں 15 سے 18 صوبے بنا دیے جائیں۔ احسن اقبال نے دلیل میں انڈیا سمیت دیگر ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ’ترکی میں 81 صوبے ہیں، یہاں تک کہ افغانستان میں بھی 30 سے زیادہ صوبے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ اگر وفاق نئے صوبوں بنانے کی کوشش کرتا ہے تو کیا اتحادی جماعت پیپلز پارٹی اس کی حمایت کرے گی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان کی جماعت کا اس حوالے سے موقف بہت واضح ہے کہ نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے۔ اور وہ اسی طریقہ کار کے تحت ہی بنائے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس صوبے کو تقسیم کرنے کی ضرورت ہو گی، وہی صوبہ اس پر بحث کرے گا، آئین میں ترمیم کی جائے گی، اور نیا صوبہ صرف اسی صورت میں بن سکتا ہے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کرتی جہاں نئے صوبوں کی ضرورت محسوس کی جائے گی وہاں آئینی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے بنا لیے جائیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔  اس صورتحال میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا کیا طریقہ کار ہے؟ پاکستان میں نئے صوبے بنانے کے لیے طریقہ کار کی رہنمائی آئین پاکستان کی شق نمبر 239 کی ذیلی شق چار سے ملتی ہے۔ اس شق میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق جس صوبے کو تقسیم کر کے نئے صوبے بنائے جانے ہوں، اگر اس متعلقہ صوبے کی اسمبلی کے اراکین کی کل تعداد کی دو تہائی اکثریت صوبے کی حدود میں رد و بدل کے حق میں ووٹ ڈالے گی تو ہی پارلیمان آئینی ترمیمی بل منظور کر کے صدرِ مملکت کو پیش کر سکتی ہے۔ آئین کی شق 239 کی ذیلی شق چار میں درج ہے: ’’آئین میں ترمیم کرنے والا کوئی ایسا بل، جس کے نتیجے میں کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی واقع ہوتی ہو، صدرِ مملکت کی منظوری کے لیے اْس وقت تک پیش نہیں کیا جائے گا جب تک اسے متعلقہ صوبے کی اسمبلی اپنے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظور نہ کر لے‘‘۔ چونکہ صوبے کی حدود کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوتی ہے اور آئینی ترمیم کے لیے اراکین اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کا ہونا ضروری ہے، تو اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ صرف صوبائی اسمبلی ہی نہیں، بلکہ قومی اسمبلی و سینیٹ اراکین کی بھی دو تہائی اکثریت ووٹ دے تو ہی کسی صوبے کو مزید تقسیم کر کے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنائے جا سکتے ہیں۔ یہ امر غور طلب ہے کہ اگر محسن نقوی نظام سے مایوس ہیں تو یہ سیاسی قوتوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ محسن نقوی کس کی زبان بولتے ہیں یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں مخصوص سیاسی مفادات کے تحت ضلعی حکومتوں کے نظام کو موقع نہیں دیا گیا ورنہ آج بیڈ گورننس اور نئے صوبوں کی بات ہی نہ ہو رہی ہوتی یہی وجہ ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان اور اس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر کی گورننس کے بہتر بنانے کے بیان کے نتیجے میں پاکستان میں گورننس کی بہتری اور نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک بار پھر قومی سیاست اور پالیسی سازی کا اہم موضوع بن گئی ہے۔ ویسے تو ماضی میں بھی مختلف ماہرین تجزیہ کار اور سیاسی جماعتیں بڑھتی ہوئی آبادی، انتظامی مسائل، وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور بہتر حکمرانی کی ضرورت کے پیشِ نظر نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل پر زور دیتے آ رہے ہیں جبکہ بعض ماہرین کے نزدیک صرف نئے صوبے بنا دینا مسائل کا مکمل حل نہیں بلکہ مسائل کے حقیقی حل کیلئے نئے صوبوں کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر ادارہ جاتی اصلاحات کو بھی ناگزیر قرار دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر نئے صوبے بنائے جائیں تو ان کی بنیاد آبادی، رقبہ، وسائل، معاشی خودمختاری یا انتظامی ضرورت میں سے کس اصول پر رکھی جائے؟ اس حوالے سے مبصرین کی رائے ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ گورننس، انتظامی اصلاحات اور وفاقی توازن سے جڑا ایک اہم قومی معاملہ بن چکی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اور ماہرین اس موضوع پر الگ الگ آراء رکھتے ہیں دو بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ آئین کے پیچھے چھپتے ہوئے سندھ اور پنجاب میں اپنے اختیارات تقسیم کرنے پر تیار نہیں جس کی عملی مثال پنجاب حکومت کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہ کرانا اور پیپلز پارٹی کی طرف سے کراچی میں غیر جمہوری طریقے سے اپنے مئیر کو منتخب کرانا ہے۔لیکن ایک نکتے پر بظاہر تقریباً سبھی متفق ہیں کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے سنجیدہ اصلاحات ناگزیر ہیں، لیکن بدقسمتی سے اس پر عملدرآمد میں سنجیدگی کا فقدان نظر آتا ہے جسکا نتیجہ بیڈ گورننس کی شکل میں سامنے آرہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا موجودہ وفاقی ڈھانچہ غیر متوازن ہے، کیونکہ پنجاب ملک کی نصف سے زیادہ آبادی پر مشتمل ہے، جبکہ دیگر صوبے نسبتاً چھوٹے انتظامی یونٹس ہیں۔ ان کے مطابق اتنی بڑی آبادی کا ایک ہی انتظامی مرکز سے مؤثر نظم و نسق ممکن نہیں، جس کے باعث وسائل کی تقسیم، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی خدمات میں عدم توازن پیدا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب جیسے خطوں میں بنیادی سہولیات کی کمی بھی اسی غیر متوازن نظام کا نتیجہ ہے، تاہم وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ نئے صوبے اکیلے مسئلے کا حل نہیں، بلکہ بااختیار بلدیاتی نظام، صوبائی مالیاتی کمیشن اور وسائل کی منصفانہ تقسیم بھی ضروری ہے۔ جمہوری و آئینی امور کے ماہرین اس بحث کو آئینی زاویے سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کا قیام ایک حساس آئینی معاملہ ہے، جس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف آئینی تقاضے پورے کرنا کافی نہیں، بلکہ وسیع سیاسی اتفاقِ رائے بھی ضروری ہے۔ ان کے نزدیک اگر مقصد بہتر گورننس ہے تو پہلے مضبوط بلدیاتی نظام کو ترجیح دی جانی چاہیے، جبکہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ آبادی، وسائل، معاشی صلاحیت، انتظامی ضرورت اور عوامی خواہشات جیسے تمام عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نئے صوبوں کی موجودہ بحث کو صرف انتظامی ضرورت کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ ماضی میں بھی ایسے مطالبات مختلف سیاسی محرکات کے تحت سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کا معیار صرف آبادی یا رقبہ نہیں بلکہ قومی اور عوامی اتفاقِ رائے ہونا چاہیے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر حکمرانی، اداروں کی کارکردگی اور شفافیت بہتر نہ ہو تو نئے صوبے بھی موجودہ مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ لہذا اصل توجہ نئے صوبے بنانے کے بجائے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے پر ہونی چاہیے۔ کیونکہ پاکستان میں مقامی حکومتوں کا مضبوط اور بااختیار نظام موجود نہیں، جبکہ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں عوامی مسائل کا حل مقامی سطح پر منتخب اداروں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبے بنائے جائیں یا نہیں، بنیادی مقصد عوام کو فیصلہ سازی میں شریک کرنا، وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا اور بہتر حکمرانی فراہم کرنا ہونا چاہئے۔ ماہرین کی آراء سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا معاملہ صرف جغرافیائی تقسیم کا نہیں بلکہ ایک جامع انتظامی، آئینی اور سیاسی اصلاحاتی پیکیج کا حصہ ہونا چاہیے۔ اگر نئے صوبے بنائے بھی جائیں تو ان کے ساتھ مضبوط بلدیاتی نظام، شفاف مالیاتی ڈھانچہ، مؤثر ادارے اور عوامی نمائندگی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ورنہ صرف نئی انتظامی حدود کھینچنے سے گورننس کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ایک سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ وقت اس بحث کے لئے موزوں ہے جبکہ پاکستان کے دو صوبے شدید دہشت گردی اور آزاد کشمیر سیاسی بدامنی کا شکار ہیں اور ان صوبوں کے انفراسٹرکچر اور انتظامیہ کے اخراجات کہاں سے نکالے جائیں گے جبکہ امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت شدید معاشی دباؤ میں ہے۔لہذا نئے صوبوں کے بنانے کی تجویز پر عمل درآمد کیلئے تو قومی اتفاق رائے پیدا کرنے اور ان سوالات کے قابل عمل جوابات حاصل کرنا ضروری ہیں لیکن شفاف بلدیاتی انتخابات منعقد کراکے مقامی حکومتیں قائم کرکے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں اور میرے نزدیک عوام کے حقیقی مسائل کا حل اسی طرح ممکن ہے۔ مقامی حکومتوں کا نظام فعال نہیں ہونے دیا گیا، اسی وجہ سے نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے، ’اگر ضلعی حکومتوں کا نظام فعال ہوتا تو نئے صوبوں کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل