Monday, August 10, 2026
 

ایران کی ناکہ بندی سخت، امریکا نے 55 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا

 



واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کے دوران امریکی فورسز نے اب تک 55 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا دو جہازوں کو ناکارہ بنایا اور دو دیگر بحری جہازوں پر سوار ہو کر کارروائی کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی بحری افواج ایران کے خلاف عائد ناکہ بندی کو سختی سے نافذ کر رہی ہیں۔ کمانڈ کے مطابق امریکی اہلکار خطے میں تعینات جنگی بحری جہازوں کے ذریعے سمندری سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔ سینٹکام کے مطابق امریکی اہلکار یو ایس ایس راس نامی جنگی بحری جہاز پر بھی تعینات ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں جاری امریکی فوجی مشنز میں حصہ لینے والے 20 سے زائد امریکی جنگی بحری جہازوں میں شامل ہے۔ امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ ان بحری کارروائیوں کا مقصد ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی کو مؤثر بنانا اور تجارتی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا ہے۔ تاہم بیان میں ان 55 جہازوں کی شناخت، ان کے جھنڈے یا ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی طرح امریکی حکام نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ دو تجارتی جہازوں کو کس نوعیت کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا یا دو دیگر جہازوں پر سوار ہو کر امریکی اہلکاروں نے کس بنیاد پر کارروائی کی۔ امریکی بحری موجودگی میں اضافے سے خطے میں پہلے ہی موجود کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ آبنائے ہرمز اور خلیج کے دیگر اہم سمندری راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے یہاں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث حالیہ عرصے میں خطے میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت پہلے ہی متاثر ہوئی ہے۔ عالمی شپنگ کمپنیوں اور تیل بردار جہازوں کے مالکان کو سکیورٹی صورتحال کے باعث اضافی خطرات اور اخراجات کا سامنا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے تازہ بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم 55 تجارتی جہازوں کے رخ موڑنے، دو کو ناکارہ بنانے اور دو پر سوار ہونے کا دعویٰ خطے میں جاری امریکی بحری کارروائیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل