Loading
کبھی کبھی تاریخ کسی میدان جنگ میں نہیں، ایک بند دروازے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ باہر طاقتور فوجیں، معاشی پابندیاں اور میزائل ہوتے ہیں، اندر خوف، مفاد، ضد اور مذاکرات کی آخری امید۔ مشرق وسطیٰ آج ایسے ہی ایک دروازے کے سامنے کھڑا ہے۔
واشنگٹن سمجھتا ہے کہ معاشی دباؤ اور عسکری برتری ایران کو جھکا سکتی ہے، تہران کا خیال ہے کہ مزاحمت اور آبنائے ہرمز اس کی قوتِ گفت و شنید ہیں، اسرائیل غزہ میں اپنی سلامتی کو ہر سیاسی فارمولے پر مقدم رکھنا چاہتا ہے، جب کہ عرب ممالک بڑھتی ہوئی آگ کو اپنے دروازوں تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہر فریق اپنے ہاتھ میں موجود طاقت کو حل سمجھ رہا ہے، حالاں کہ یہی طاقت مسئلے کو مزید پیچیدہ بھی بنا رہی ہے۔
غزہ کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پندرہ نکاتی امن منصوبے کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے مسترد کیا جانا، اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ امن کی تعریف ابھی تک متفقہ نہیں۔ اسرائیل کا اصرار ہے کہ جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اس کی فوج واپس نہیں جائے گی۔ دوسری طرف حماس کا مطالبہ ہے کہ امریکا اسرائیل پر منصوبہ قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالے، جب کہ مصر بھی غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کر رہا ہے۔ یوں ایک ہی لفظ ’’امن‘‘ تین مختلف سیاسی تصورات میں تقسیم ہو چکا ہے۔
اسرائیل کے لیے امن کا مطلب عسکری خطرے کا خاتمہ ہے، فلسطینیوں کے لیے اس کا مفہوم محض فائر بندی نہیں بلکہ قبضے، محاصرے، تباہی اور مستقبل کی سیاسی بے یقینی سے نجات بھی ہے، جب کہ عرب ریاستیں اس بحران کو علاقائی عدم استحکام کے وسیع تر تناظر میں دیکھ رہی ہیں۔ جب تک ان بنیادی تصورات میں کم از کم اتنی مشترک زمین پیدا نہیں ہوتی کہ فریقین کسی قابلِ عمل سمجھوتے کو قبول کر سکیں، کوئی بھی امن منصوبہ کاغذ سے آگے بڑھنا مشکل ہوگا۔
یہاں امریکا کی ذمے داری سب سے زیادہ بنتی ہے، کیونکہ واشنگٹن ایک طرف ثالثی کا کردار ادا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کا سب سے بااثر اتحادی بھی ہے، اگر امریکی دباؤ صرف ایران کے خلاف استعمال ہو اور اسرائیل کے لیے سیاسی رعایتوں کا مطالبہ کرنے میں کمزور پڑ جائے تو واشنگٹن کی ثالثی کی ساکھ متاثر ہوگی۔ امن کسی ایک فریق کو مطلوبہ نتائج فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایسی ترتیب پیدا کرنے کا عمل ہے جس میں تمام متعلقہ فریق جنگ دوبارہ شروع کرنے کے بجائے معاہدے کی پاسداری کو اپنے مفاد میں سمجھیں۔
غزہ کا بحران اسی لیے ایران کے بحران سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ خطے میں جاری کشیدگی نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں ایک محاذ پر ہونے والی کارروائی دوسرے محاذ پر ردعمل کو جنم دیتی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے عبوری مفاہمت کی خلاف ورزیوں تک تہران مذاکرات شروع نہیں کرے گا۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو امریکی اقدامات، شرائط کی تکمیل اور جنگی نقصانات کے ازالے سے جوڑ دیا ہے۔
اس سے واضح ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو صرف جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ اپنی سفارتی قوت کے ایک اہم وسیلے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔آبنائے ہرمز کا مسئلہ کسی ایک ملک کی داخلی سیاست نہیں۔ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اس کی اہمیت ایسی ہے کہ وہاں پیدا ہونے والی طویل بندش عالمی منڈیوں، تیل کی قیمتوں، درآمدی ممالک کے مالیاتی توازن اور صنعتی پیداوار تک کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے اگر ایران اسے دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے تو امریکا اور اس کے اتحادی بھی محض تہران کو جواب نہیں دیں گے بلکہ عالمی تجارت کے تحفظ کے نام پر مزید سخت اقدامات کی طرف جا سکتے ہیں، یوں ایک محدود علاقائی تنازع عالمی اقتصادی بحران میں تبدیل ہونے کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔
امریکی صدر کا ایران کے ساتھ معاملے کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دینا اسی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں ہر قدم کا مقصد حریف کو اگلی رعایت پر مجبور کرنا ہے، لیکن ریاستی تنازعات اور شطرنج میں بنیادی فرق یہ ہے کہ شطرنج کے مہرے بے جان ہوتے ہیں۔ جنگوں میں معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، خاندان اجڑتے ہیں، شہری مارے جاتے ہیں اور آنے والی نسلیں نفسیاتی و معاشی قیمت ادا کرتی ہیں۔
اس لیے کسی بھی حکومت کی ’’کامیاب چال‘‘ کو صرف اس بنیاد پر کامیابی نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے مخالف کو وقتی نقصان پہنچا۔امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے اور بڑھتا ہوا دباؤ اسے مذاکرات میں زیادہ رعایتوں پر مجبور کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ تہران کے نمائندے مذاکرات میں بار بار مالی وسائل اور رقم تک رسائی کی بات کر رہے ہیں۔ امریکی موقف کے مطابق پابندیاں، کرنسی پر دباؤ، مہنگائی، منجمد اثاثے اور بحری ناکہ بندی ایران کے لیے عسکری دباؤ سے بھی زیادہ مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس حکمت عملی میں ایک حقیقت ضرور موجود ہے، طویل اقتصادی بحران کسی بھی ریاست کی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔ حکومتیں فوجی محاذ سنبھالنے کے ساتھ عوامی معیشت کو نظر انداز نہیں کر سکتیں، لیکن یہ فرض کرنا کہ معاشی تکلیف لازماً سیاسی پسپائی میں تبدیل ہو جائے گی، تاریخ کے تجربے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لیے واشنگٹن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتصادی پابندیاں مذاکرات کا ذریعہ تو ہو سکتی ہیں، مذاکرات کا متبادل نہیں، اگر مقصد واقعی معاہدہ ہے تو دباؤ کے ساتھ ایک قابلِ قبول سفارتی راستہ بھی موجود ہونا چاہیے۔ کسی ریاست کو مکمل طور پر دیوار سے لگا کر پھر اس سے متوازن مذاکرات کی توقع رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ مذاکرات کے لیے فریق کو یہ یقین بھی چاہیے کہ رعایت دینے کے بعد اسے مزید مطالبات کی ایک نہ ختم ہونے والی فہرست کا سامنا نہیں ہوگا۔
تہران کے لیے بھی صورت حال یکطرفہ نہیں۔ مزاحمت کی پالیسی اسے داخلی طور پر طاقت کا احساس دے سکتی ہے، لیکن آبنائے ہرمز کو طویل عرصے تک بند رکھنا یا عالمی توانائی کی ترسیل کو خطرے میں ڈالنا ایسے ممالک کو بھی ایران سے دور کر سکتا ہے جو امریکی پالیسی سے اختلاف رکھتے ہیں جب کہ یمن پہلے ہی طویل جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار ہے۔ وہاں ایک اور محاذ کھلنا صرف سعودی عرب یا حوثیوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے نئی بے یقینی پیدا کر سکتا ہے۔
اگر ہر حملے کا جواب زیادہ بڑے حملے سے دیا جائے تو جنگ کسی ایک فریق کی منصوبہ بندی سے نہیں بلکہ ردعمل کے خودکار سلسلے سے آگے بڑھنے لگتی ہے، ایسی جنگ میں بالآخر کوئی واضح فاتح نہیں ہوتا، صرف نقصان کی نوعیت بدلتی رہتی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا یہ دعویٰ کہ ایران کا جوہری پروگرام تباہ اور اس کی روایتی عسکری صلاحیت ختم کر دی گئی ہے، اگرچہ واشنگٹن کے عسکری نقطہ نظر کو ظاہر کرتا ہے، مگر کسی ریاست کی عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانا اور اس کے سیاسی ارادے کو ختم کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ ہتھیار تباہ کیے جا سکتے ہیں، سیاسی تصورات نہیں۔ تنصیبات دوبارہ تعمیر ہو سکتی ہیں، مگر اگر تنازع کی بنیادی وجوہ برقرار رہیں تو نئی عسکری صلاحیت بھی دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔
یہی اصول غزہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ حماس کو کمزور کرنا اور فلسطینی مسئلے کو ختم کرنا ایک چیز نہیں۔ اگر فلسطینی ریاست، سیاسی خودمختاری، سلامتی، نقل و حرکت، تعمیر ِ نو اور مستقبل کے واضح انتظام جیسے سوالات حل نہیں ہوتے تو صرف عسکری کارروائی سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ اسی طرح اسرائیل کی سلامتی کا مسئلہ بھی کسی عارضی انتظام سے مستقل طور پر حل نہیں ہو سکتا جب تک فلسطینی آبادی کو ایسا سیاسی مستقبل نہ ملے جس میں اسے مسلسل بے یقینی اور محرومی کا سامنا نہ ہو۔
امریکا اگر واقعی ایران کے ساتھ معاملہ حل کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا مقصد صرف تہران کی طاقت کم کرنا نہیں بلکہ ایک قابلِ اعتماد علاقائی بندوبست قائم کرنا ہے۔ ایران کو بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مزاحمت کی قوت کا مطلب لامحدود کشیدگی نہیں اور عالمی تجارت کو خطرے میں ڈالنا طویل مدت میں اس کی اپنی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ اسرائیل کو یہ حقیقت قبول کرنا ہوگی کہ مستقل سلامتی صرف فوجی غلبے سے حاصل نہیں ہوتی، جب کہ فلسطینی قیادت کو بھی سیاسی حقیقتوں کے اندر ایسا راستہ تلاش کرنا ہوگا جو مزاحمت، ریاستی حق اور عوامی مفاد کے درمیان قابل عمل توازن پیدا کرے۔
اگر ہر فریق اپنی برتری کو دوسرے کی شکست سے وابستہ رکھے گا تو جنگ کے بعد بھی جنگ باقی رہے گی، لیکن اگر سفارت کاری کو محض کمزوری کے اظہار کے بجائے دانش مندانہ طاقت سمجھا جائے تو یہی بحران ایک نئے علاقائی بندوبست کا آغاز بھی بن سکتا ہے،ورنہ تاریخ کے صفحات پر یہ دور بھی اسی طرح درج ہوگا جیسے کئی پچھلے بحران، بڑے دعوے، طاقتور حملے، معاشی پابندیاں، بند راستے، تباہ شدہ شہر اور آخر میں وہی مذاکرات جنھیں بہت دیر پہلے شروع کیا جا سکتا تھا۔ فرق صرف اتنا ہوگا کہ اس وقت تک امن کی قیمت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل