Monday, August 10, 2026
 

جب ریاست محبت نہیں، عقیدت نافذ کرنے لگے

 



وہ صرف چودہ برس کا تھا۔ اسمبلی کی قطار میں کھڑا، اسکول کی سفید قمیض پسینے سے بھیگ چکی تھی۔ صبح کی دعا ختم ہوئی تو استاد نے بلند آواز میں کہا۔’’اب سب بچے وندے ماترم پڑھیں۔‘‘ تمام آوازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں، مگر ایک آواز خاموش رہی۔ استاد کی نظر اس پر پڑی۔ ’’کیوں نہیں پڑھتے؟‘‘  لڑکے نے نظریں جھکا کر آہستہ سے کہا۔ ’’سر... میرے ابو کہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں، مگر عبادت صرف اللہ کی کرتے ہیں۔‘‘ کمرہ جماعت میں خاموشی چھا گئی۔ چند لمحوں بعد خاموشی ٹوٹ گئی۔ ڈانٹ، تضحیک اور سزا کی صورت میں۔ اس دن اس بچے نے صرف ایک نظم پڑھنے سے انکار نہیں کیا تھا، اس نے اس سوال کو زندہ کر دیا تھا جو آج پوری دنیا کی سیاست کے مرکز میں کھڑا ہے۔ کیا ریاست کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ صرف شہریوں کے اعمال ہی نہیں بلکہ ان کے جذبات، عقیدت اور ضمیر کی سمت بھی متعین کرے؟ یہ سوال صرف بھارت کا نہیں۔ یہ اکیسویں صدی کی سب سے بڑی تہذیبی آزمائشوں میں سے ایک ہے۔ بھارت میں ’’وندے ماترم‘‘ کی توہین کو قابل سزا جرم قرار دینے کی کوشش نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کر دیا ہے کہ آخر ایک قومی گیت، جسے اکثریتی آبادی قومی جذبات کی علامت سمجھتی ہے، مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے لیے ناقابل قبول کیوں ہے؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ریاست کو محبت اور عقیدت قانون کے ذریعے نافذ کرنے کا حق حاصل ہے؟ یہ تنازعہ محض ایک گیت کا نہیں، بلکہ دو مختلف تصورات قوم کے درمیان کشمکش کا ہے۔  ’’وندے ماترم‘‘ انیسویں صدی کے اواخر میں بنکم چندر چٹوپادھیائے کے ناول ’’آنند مٹھ‘‘ کا حصہ بن کر سامنے آیا۔ اس ناول کا پس منظر برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت ضرور تھا، مگر اس کی فکری دنیا ہندو دیویوں کی علامتوں سے تشکیل پاتی ہے۔ گیت میں وطن کو محض سرزمین نہیں بلکہ درگا کی صورت میں پیش کیا گیا ہے، ایک ایسی ہستی جس کے سامنے عقیدت، تعظیم اور پرستش کے جذبات ابھرتے ہیں۔  فلسفہ سیاست میں، جدید نیشن اسٹیٹ کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ خود کو ایک ’’خدا‘‘ کے طور پر پیش کرتی ہے۔ جرمن فلسفی ہیگل نے کہا تھا کہ ’’ریاست زمین پر خدا کا مارچ ہے ۔‘‘ جب ریاست اس ہیگلیائی فلسفے کو اپناتی ہے، تو وہ شہریوں سے محض وفاداری نہیں مانگتی، بلکہ ’’عبادت‘‘ کا تقاضا کرتی ہے۔ برصغیر کے دو عظیم مفکرین، علامہ اقبال اور رابندر ناتھ ٹیگور، دونوں نے قوم پرستی کے اس بت پرستانہ تصور کو مسترد کیا تھا۔ اقبال نے کہا تھا۔ ’’ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے ‘‘ جب کہ نوبل انعام یافتہ ہندوستانی مفکر ٹیگور نے اپنی کتاب ’’نیشنلزم‘‘ (1917) میں واضح لکھا تھا۔ ’’میں جب تک زندہ ہوں، حب الوطنی کو انسانیت پر فتح پانے کی اجازت نہیں دوں گا۔ جب حب الوطنی مذہب بن جائے تو یہ انسان کی سب سے بڑی تباہی ہے۔‘‘ آج کا ہندوتوا انڈیا ٹیگور کے اسی خوف کی عملی تصویر بن چکا ہے۔  انڈیا میں مسلمانوں کے لیے وندے ماترم کی ناقابل قبولیت کو سمجھنے کے لیے آر ایس ایس کے بانیوں کے فلسفے کو سمجھنا ضروری ہے۔ ونائک دامودر ساورکر نے اپنی شہرہ آفاق کتاب’ ’ہندوتوا‘‘ (1923) میں ہندو ہونے کی جو تعریف کی، اس کے مطابق ہندو وہ ہے جس کے لیے ہندوستان نہ صرف پِتر بھومی آبائی وطن ہے بلکہ پُنیہ بھومی مقدس سرزمین بھی ہے۔ ساورکر کے فلسفے کے مطابق مسلمان اور عیسائی ہندوستان کے شہری تو ہو سکتے ہیں، لیکن چونکہ ان کا مرکزی عبادت خانہ کہیں اور ہے، اس لیے وہ سچے ہندوستانی نہیں ہو سکتے جب تک وہ ہندوستان کی مٹی کو’’مقدس‘ ‘ مان کر اس کی پوجا نہ کریں۔’ ’وندے ماترم‘ ‘کو قانوناً لازمی قرار دینا دراصل ساورکر کے اسی فلسفے کو مسلمانوں پر تھوپنے کی ایک ریاستی کوشش ہے تاکہ ان کی حب الوطنی کو مشکوک ثابت کیا جا سکے۔  ہر جدید ریاست صرف قانون سے نہیں چلتی، اسے ایسے مقدس استعاروں کی بھی ضرورت ہوتی ہے جن کے گرد اجتماعی شناخت تشکیل پائے۔ کہیں پرچم مقدس بن جاتا ہے، کہیں آئین، کہیں انقلاب، کہیں بادشاہ، اور کہیں قومی گیت۔ جب یہ علامتیں ریاستی طاقت سے مل جاتی ہیں تو آہستہ آہستہ ان پر تنقید محض اختلاف نہیں رہتی بلکہ غداری، توہین یا جرم قرار پانے لگتی ہے۔ یہیں سے قوم پرستی ایک سیاسی نظریے سے بڑھ کر شہری مذہب میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔ اس نئے مذہب میں عبادت گاہیں بدل جاتی ہیں، مگر تقدیس باقی رہتی ہے۔ دیوتاؤں کے نام بدل جاتے ہیں، مگر ان کے گرد جذباتی حصار پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔ بھارت میں ہندوتوا کا ابھار اسی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہاں قوم، تہذیب اور مذہب کو اس طرح باہم مربوط کیا جا رہا ہے کہ ان کے درمیان حدیں دھندلی ہوتی جا رہی ہیں۔ نتیجتاً جو شخص کسی مخصوص علامت پر سوال اٹھاتا ہے، وہ محض ایک گیت کا ناقد نہیں رہتا بلکہ پوری قومی شناخت کا مخالف قرار دیا جاتا ہے۔ یہ رجحان صرف بھارت تک ہی محدود نہیں۔ یورپ کے فاشزم نے بھی قوم کو مقدس بنایا تھا۔ سوویت یونین میں ریاست خود عقیدے کا مرکز بن گئی تھی۔ بیسویں صدی کی متعدد آمریتوں نے پرچم، راہ نما اور قومی نعروں کو ایسی تقدیس عطا کی جس پر اختلاف تقریباً مذہبی ارتداد کے مترادف سمجھا جانے لگا۔ تاریخ ایک تلخ حقیقت سکھاتی ہے۔ جب ریاست محبت طلب کرنا چھوڑ کر عقیدت کا مطالبہ کرنے لگے تو آزادی ضمیر سکڑنے لگتی ہے۔ انڈیا میں اس وقت تقریباً 20 کروڑ 40 لاکھ مسلمان بستے ہیں جو کل آبادی کا 14.2 فیصد ہیں۔  543 ارکان کی موجودہ لوک سبھا (انڈین پارلیمنٹ کے ایوان زیریں) میں مسلمانوں کی نمائندگی صرف 4 سے 5 فیصد رہ گئی ہے، جب کہ حکمران جماعت بی جے پی کا ایک بھی مسلمان رکن پارلیمنٹ نہیں ہے۔2006 کی سچر کمیٹی رپورٹ اور 2014 کی کنڈو کمیٹی رپورٹ کے مطابق، انڈین مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی حالت دلتوں (نچلی ذات کے ہندوؤں) سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب ان کی آبادی کے مقابلے میں محض 4.5 فیصد ہے۔’’ انڈیا اسپینڈ‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2010 سے 2017 کے درمیان گائے کے نام پر ہونے والے تشدد کے 84 فیصد واقعات 2014 کے بعد (مودی حکومت میں) پیش آئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ درجنوں مسلمانوں کو ہجوم نے محض اس لیے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا کیوں کہ انھوں نے زبردستی ’’وندے ماترم‘‘ یا ’’جے شری رام‘‘ کہنے سے انکار کیا تھا۔ جھاڑکھنڈ کے تبریز انصاری کا قتل اس کی ایک بھیانک شماریاتی اور دستاویزی مثال ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی شخص ’’وندے ماترم‘‘ پڑھتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا محبت قانون سے پیدا ہوتی ہے؟ کیا وفاداری سزا کے خوف سے جنم لیتی ہے؟ کیا قومی یکجہتی اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اختلاف کو جرم بنا دیا جائے؟ تاریخ کا جواب نفی میں ہے۔ ریاستیں تلوار کے زور پر اطاعت تو حاصل کر سکتی ہیں، محبت نہیں۔ عدالتیں خاموشی خرید سکتی ہیں، ایمان نہیں۔ قانون زبانوں کو قابو کر سکتا ہے، ضمیر کو نہیں۔ شاید اسی لیے تہذیبیں اس وقت کمزور ہونا شروع ہوتی ہیں جب وہ اپنے نظریات کے دفاع کے لیے دلیل سے زیادہ قانون اور محبت سے زیادہ سزا پر انحصار کرنے لگتی ہیں،اور جب ریاست ضمیر لکھنے لگے تو پھر صرف ایک گیت خطرے میں نہیں ہوتا، انسان کی آزادی کا آخری ورق بھی آہستہ آہستہ بند ہونے لگتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل