Wednesday, August 12, 2026
 

اسلام آباد مذاکرات فریقین کی رضامندی سے کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، دفتر خارجہ

 



وزیر داخلہ محسن نقوی کے ایران کے حالیہ اہم دورے کے بعد پاکستان کا کہنا ہے کہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلیے کوششیں جاری ہیں اور فریقین کی رضا مندی سے کسی بھی وقت ایران- امریکا مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں۔  ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ 7 اگست کا مکہ معاہدہ تھا، جو خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد خطے کی سیکیورٹی صورتحال سے مشترکہ طور پر نمٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ تمام چینلز استعمال کر رہا ہے، پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان امن کے لیے ثالث کی حیثیت سے پرامید ہے۔ ترجمان نے کہا کہ اسلام آباد میں مذاکرات فریقین کی رضامندی سے کسی بھی وقت دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بارے میں پاکستان اپنا موٴقف واضح کر چکا ہے، اگرچہ اس پر مکمل عمل درآمد شاید نہ ہو سکا ہو، تاہم امن کے لیے بنیادی فریم ورک اب بھی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ہی ہے۔ طاہر حسین اندرابی کا کہنا تھا کہ جنگ بندی میں فریقین کی رضامندی سے توسیع کی جا سکتی ہے، جس سے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ مکہ معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے معاہدے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، وزیراعظم نے بطور لیڈر آف دی ہاوٴس معاہدے پر دستخط کیے، کسی متعلقہ ادارے کو اعتماد میں نہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔انہوں نے مکہ معاہدے پر ریاستی اداروں کے درمیان اختلاف رائے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تاثر کی سختی سے نفی کرتے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ بحرین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے دورے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، جس کا وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیرمقدم کیا ہے، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے پر بات چیت ہے۔ تاہم انہیں دورے کے دوران کسی خصوصی پیغام کا علم نہیں۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارت آزاد کشمیر کی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، بھارت کو آزاد کشمیر پر تبصرے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر توجہ دینی چاہیے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ کھلا ہے تاہم اس میں نئے ممالک کی شمولیت کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا، چین اور امریکا کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کے فورمز کھلے ہیں، پاکستان میری ٹائم سکیورٹی معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عمل درآمد کر رہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہاہے کہ تجارتی جہازوں پر حملے قابل مذمت، بحری اتحاد کے معاہدے پر عملدرامد کیلئے تیار ہیں دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کمرشل جہازوں پر حملوں اور ازادانہ بحری راستوں میں رکاوٹ ڈالنا قابل مذمت ہے، سعودی قیادت میں بحری اتحاد کے معاہدے کو اپریشنل بنانے کیلئے تیار ہیں۔  ساٹ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی 

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل