Thursday, August 13, 2026
 

ہائیکورٹ نے اسلام آباد پولیس کی انویسٹی گیشن پر سوالات اٹھا دیے، حکام سے اہم مکالمہ

 



اسلام آباد ہائیکورٹ نے قتل کیس سمیت چار کیسز میں اسلام آباد پولیس کی انویسٹی گیشن پر سوالات اٹھا دیے۔ جسٹس خادم حسین سومرو کا ایس ایس پی اسلام آباد پولیس سے اہم مکالمہ ہوا۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ یہ چار کیس ہیں، چاروں میں تفتیش ٹھیک نہیں ہوئی۔ ہمارے پاس کیس آتا ہے تو تفتیش دیکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ہمیں پیپر جسٹس کرنا ہوتا ہے، آپ کی انکوائری اور تفتیش ایسی ہوتی ہے کہ ہمیں ضمانت دینی پڑتی ہے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ اسلام آباد پولیس میں انویسٹی گیشن افسر کی تنخواہ ایک لاکھ تک جبکہ سندھ پولیس میں چالیس ہزار ہے، لیکن سندھ میں تنخواہ کم ہونے کے باوجود انویسٹی گیشن اچھی ہوتی ہے۔ ہم نے ڈیڑھ سال میں یہاں کسی سینئر افسر کو نہیں بلایا، ہمیں اچھا بھی نہیں لگتا کہ کسی سینئر افسر کو عدالت بلایا جائے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ ان 14 روز میں یہ چار کیس ایسے آئے جن کو دیکھ کر آپ کو بلایا گیا ہے۔ ان چار کیسز میں انویسٹی گیشن مس ہینڈل ہوئی ہے، ہم نے ریکارڈ چیک کیا ہے۔ چیزیں برداشت سے باہر ہیں، آئندہ کے لیے وارننگ ہے، اپنے ادارے کے تفتیشی سسٹم کو بہتر کریں۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے ایس ایس پی کو ہدایت کی کہ اگر آئندہ کسی کیس میں انویسٹی گیشن ٹھیک نہ ہوئی تو اسلام آباد پولیس کے خلاف لکھوں گا۔ آئی جی اسلام آباد کو بھی پیغام دے دیں، آئندہ انویسٹی گیشن خراب ہوئی تو آرڈر کردیں گے۔ عدالت نے ایس پی اسلام آباد پولیس کو طلب کر رکھا تھا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل