Friday, August 14, 2026
 

"عالمی محمدی فورس اور ایران"

 



امتِ مسلمہ کی تاریخ کا سب سے المناک اور روح فرسا پہلو رہا کہ ہمیشہ اپنے آفاقی نظریاتی اور دینی رشتے پر جغرافیائی حدود اور عارضی قومی مفادات کو ترجیح دی۔ جب سے ہوش سنبھالا امت مسلمہ کے ممالک یکے بعد دیگرے دسترخوان پرپڑے تر نوالے اور عالم کفر ان پر حملہ آور ، اور امت کے غمخوار عوام الناس کو اپنے حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے چیختے پایا۔ مگر حکمران خواب خرگوش کے مزے لوٹتے رہے۔ میری تین دہائیوں پر محیط صحافتی زندگی میں روزِاول سے اپنے کالموں کے ذریعے قرآن و حدیث کی روشنی میں نہ صرف اتحادِ امت کی صدا بلند کی گئی ہے بلکہ میں نے نیٹو کے طرز پر امت مسلمہ کا " عالمی محمدی فورس" بنانے پر زور دیا ۔ نبی رحمت العالمین حضرت محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک امتی کی نظر سے امت محمدی کے شیرازے کو بکھرتے اور قومی ریاستوں کے خول میں منقسم دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کیونکہ یہی اندرونی انتشار ہماری سب سے بڑی کمزوری اور مظلومیت کا منبع جس کا ہمیشہ فائدہ عالمِ کفر نے اٹھایا ہے۔ اسلام دشمنی میں تمام استعماری اور صیہونی طاقتیں ایک پیج پر منظم اور یکسو، جبکہ جسد واحد کی دعویدار امت مسلمہ منتشر و منقسم۔ اسرائیل اور اس کے سرپرستوں نے منتشر امت کو ایک ایک کر کے ہدف بنایا۔ عراق جیسے مضبوط دفاعی و معاشی قوت کو تباہ کیا گیا، شام کو خاک و خون میں نہلایا، لیبیا کے استحکام کو پاش پاش کیا گیا، افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجائی، غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا اور اب ایران اپنی باری بھگت رہا ہے۔ اگر ان حالات میں امت خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوئی تو کوئی نہیں بچے گا۔ قرآنِ مجید نے سورةآلِ عمران میں واضح ارشاد فرمایا ہے کہ "اللہ کی رسی کو مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔" یہ الٰہی امر صرف ایک مذہبی فریضہ نہیں، مسلمانوں کی بقا، سیاسی حکمتِ عملی اور دفاع کا واحد کلیہ اور حل ہے۔ میں اپنے کالموں میں لکھتا اور زور دیتا رہا کہ جب تک مسلمان ممالک ایک مشترکہ عالمی اسلامی دفاعی پلیٹ فارم پر اکٹھے نہیں ہوں گے، استعماری قوتوں کے جارحانہ عزائم کو روکا نہیں جا سکتا۔ 16 نومبر 2023ءکو لکھے گئے کالم "دلیر امت کے کمزور حکمران"، 28 مارچ 2024ءکو "نصرتِ الٰہی کے لیے دعاﺅں کی ضرورت" ، 4 اپریل 2024ءکو "امت کو جگانے کے لیے امام الھراوی چاہیے" ، 3 اکتوبر 2024ءکو اسرائیل کی غزہ پر بربریت کا ایک سال مکمل ہونے پر "صیہونی جبر و استبداد کا ایک سال"، 10 اپریل 2025ءکو "اب بے حسی کی چادر پھاڑ دیں" ، 19 جون 2026ءکو "ایران اسرائیل جنگ اور اتحادِ امت" اور لکھے گئے بیسیوں آرٹیکل میں اتحاد امت اور مشترکہ دفاعی اسلامی فورس بنانے کو مسلمہ امہ کو استعماری طاقتوں کے جبر سے بچانے کا واحد حل بتایا اور لکھتا رہا کہ "کاش! امت مسلمہ کے حکمران بے حسی کی چادر اتار کر کشمیر کے مسلمانوں کو ہندو بنئے اور ارضِ مقدس کے مظلوم مسلمانوں کو صیہونی جبر و استبداد اور امت مسلمہ کے ہر فرد اور خطے کو استعماری قوتوں کے جبر و استبداد سے بچا لیں۔ اگر فلسطین اور کشمیر اسی طرح جلتے رہے شتر مرغ کی طرح ریت میں سر چھپائے بے حس مسلم حکمرانوں کو کوئی بھی اس آگ کی لپیٹ سے نہیں بچا پائے گا۔ بسا اوقات امت مسلمہ کی وحدت پر لکھے گئے کالمز پر تبصرہ کرتے ہوئے پڑھے لکھے دانشور دوست مذاق اڑاتے ہوئے فرماتے تھے کہ خان جی آپ احمقوں کے جنت میں رہ رہے ہیں، ایسے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے مگر شکر الحمدللہ دیر آید درست آید پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدہ "معاہدہ مکہ" امت کے لئے طویل تاریک شب کے بعد نوید سحر اور میرے جیسے خواب دیکھنے والوں کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ اللہ رب العزت اسلام کے ان طاقتور ترین ممالک سہ فریقی دفاعی اتحاد کو عالمی محمدی فورس کی بنیاد کو مستحکم اور پائیدار بنائے اور تمام مسلمان ممالک کو اس میں شامل ہونے کے لئے حالات سازگار اور حکمرانوں کو فہم و فراست عطا فرمائے آمین۔ پاکستانی ایٹمی صلاحیت اور دنیا کی بہترین پیشہ ورانہ فوج، سعودی عرب کی معاشی قوت و روحانی مرکزیت اور ترکیہ کی جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی و دفاعی صنعت کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا صیہونیوں ، ان کے عالمی آقاﺅں اور مشرک ریاست ہندوستان کے لیے ایک ہلا دینے والا سرپرائز ہے ، سرینڈر موذی اور انکا موذی میڈیا آپے سے باہر ہو رہے، لگتا ہے کہ ان کے پرانے زخم تازہ ہوگئے ہیں۔ مگر یہ کام ابھی ادھورا ہے اس اتحاد کے روح رواں فیلڈ مارشل جنرل حافظ منیر صاحب کو کوشش کرنی ہوگی کہ امت مسلمہ کے تمام ممالک کو اس معاہدے کی چھتری تلے لے آئیں۔ مصر، کویت اور قطر کی شمولیت کی خواہش سے لگتا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی محمدی فورس کی بنیاد اور اس خطے کے جیو پولیٹیکل منظر نامے اور امت مسلمہ کی مظلومیت کو طاقت میں بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ امت مسلمہ کی امیدوں کے برعکس ایرانی قیادت اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے اس معاہدے پر شکوک و شبہات کا اظہار اور منفی پروپیگنڈا افسوسناک اور اتحاد امت کے حوالے سے ایرانی کردار کو مشکوک بنا رہا ہے، ایران خود اسرائیلی امریکی نرغے میں ہے، اس تاریخی اتحاد کو حفاظتی چھتری سمجھ کر خیرمقدم کرتا لیکن بدقسمتی سے ایران ماضی کے تعصبات اور غلط اسٹریٹجک اندازوں کے اثرات سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔ حالیہ ایران اسرائیل کشیدگی کے دوران جب دنیا ایک اور ہولناک جنگ کے دہانے پر تھی، پاکستان، ترکیہ اور قطر ہی نے اپنی تمام تر سفارتی صلاحیتیں بروئے کار لا کر خطے کو بڑے تصادم اور ایران کو تباہی سے بچانے کے لئے مذاکرات کی راہ ہموار کی جو تاحال جاری اور عالمی برادری معترف ہے۔   تاریخی حقیقتیں انتہائی تلخ ہیں، تاریخ شاہد ہے کہ ایران نے متعدد بار پاکستان کے بجائے ہمارے ازلی دشمن ہندوستان کے ساتھ اپنے تجارتی، عسکری اور اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دی۔ ستمبر 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران انڈیا کےلئے ایرانی لاجسٹک اور تکنیکی سہولیات پر تاریخ شاہد ہے۔ 1971ءکے المیے میں بھی پاکستان کی بجائے ہندوستان کے ساتھ بڑھتے تعاون نے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا۔ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوال خود اپنے بیانات میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ کس طرح انہوں نے خطے میں سرحدوں کی صورت حال کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کیں۔ انقلاب ایران کے بعد بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات میں متوقع گرمجوشی نہ آسکی۔ اور فرقہ وارانہ کشیدگی نے ہماری داخلی سلامتی کو شدید متاثر کیا۔ 2002ءمیں ایران اور بھارت کے مابین ہونے والے متنازع دفاعی معاہدے اور بعد ازاں پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام سے متعلق منفی تاثر پھیلانے نے پاکستان کے اعتماد کو سخت ٹھیس پہنچائی۔ پاکستان کے معاشی اور اسٹریٹجک مستقبل کا محور گوادر پورٹ اور سی پیک منصوبے ہیں۔ گوادر کے بالمقابل محض 70 میل کے فاصلے پر چاہ بہار بندرگاہ کو بھارت کے سپرد کرنا اور وہاں بھارتی اثر و رسوخ کو بڑھنے دینا ایک ایسا قدم تھا جس نے بلوچستان کی امن و امان کی صورت حال پر منفی اثرات مرتب کیے۔ آج بھی ایرانی پاسپورٹ پر آیا ہوا ہندوستانی جاسوس ہمارے سیکورٹی فورسز کے پاس ہے جو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کا سرچشمہ اور ممنبع تھا۔ اس کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ درگزر سے کام لے کر مثبت اور برادرانہ رویہ برقرار رکھا۔معاہدہ مکہ اور سہ فریقی دفاعی اتحاد کسی کے خلاف نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی اجتماعی بقا اور استعماری طاقتوں کے مقابلے کے لیے ایک مضبوط بنیاد جو مستقبل میں ایران سمیت پوی امت مسلمہ کے لئے مضبوط ڈھال بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بلا شبہ مکہ معاہدہ بکھری ہوئی امت کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا اور طویل تاریک شب کے بعد نویدِ سحر ہے۔ پاکستان سعودیہ اور ترکیہ کا یہ سہ فریقی دفاعی اتحاد "عالمی محمدی فورس" کا سنگل میل، اسرائیل، ہندوستان، امریکا اور یورپی یونین سمیت ہر اسلام دشمن قوت کی سرکوبی اور ابدی شکست کا باعث بنے گا انشاءاللہ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل