Loading
سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ آئی ایس پی آر کام نہیں ہے کہ صوبے بنائے، یہ اسمبلیوں کا کام ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں بڑے عرصے کے بعد یکجہتی پیدا ہوئی ہے، کچھ اینکرز جاہلانہ باتیں کرتے ہیں، یہ جو بھی ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کر رہے ان کو سوچنا چاہئے۔ سندھ کے عوام کا ایک الگ رشتہ ہے یہ بات کسی کو سمجھ میں نہیں آ رہی۔
سعید غنی نے کہا کہ جو مرضی ہے کرلو سندھ میں صوبہ نہیں بنے گا، ہوش کے ناخن لیں سندھ میں لوگوں کو کیوں نفرتوں کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں، صوبہ بنانے کے حوالے سے پنجاب اور کے پی کی صورتحال مختلف ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ میں صوبوں کے لیئے ایم کیو ایم اچھل رہی ہے، میں ایم کیو ایم کو جواب دوں گا، ایم کیو ایم کے تین چار لوگوں کی حیثیت کیا ہے، یہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا نہیں چاہتے۔ ان کو شرم آنی چاہئے نفرتیں پیدا کر رہے ہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ساتھ معاہدے کے مطابق کراچی کو الگ نظام دیا تھا جس پر سندھ میں دہرے بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاج ہوا۔ پورا سندھ پی پی کے خلاف احتجاج کر رہا تھا جس پر ایم پی ایز نے لیڈرشپ کو کہا کہ یہ نظام واپس لیں، پی پی نے مجبور ہوکر دہرا نظام واپس لیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کی تقسیم کی بات پر سندھ کے لوگ پیپلز پارٹی کو بیٹھنے نہیں دیں گے جبکہ دیگر جماعتیں بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ جماعت اسلامی کہتی ہے کہ وہ عوام کے لیے احتجاج کرتے ہیں پھر اٹھارہ مقامات پر وہ شہر کی سڑکیں بند کرتے ہیں، عوام کو تکلیف دینے سے شہباز شریف پر کیا فرق پڑے گا۔ جماعت اسلامی کا مقصد ہے لوگوں کو تکلیف دینا ہے، حافظ نعیم پڑھے لکھے ہیں عقل سے کام لیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل