Monday, August 17, 2026
 

خواتین میں موڈ سوئنگز کیوں ہوتے ہیں؟ 8 وجوہات جو آپ کو معلوم ہونی چاہئیں

 



کبھی اچانک خوشی، کبھی چڑچڑاپن اور کبھی بغیر کسی واضح وجہ کے اداسی یا تھکن محسوس ہونا خواتین میں عام ہو سکتا ہے، تاہم اگر موڈ میں تبدیلی بار بار اور شدت کے ساتھ ہونے لگے تو اسے محض معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق خواتین کے موڈ پر ہارمونز سے لے کر نیند، ذہنی دباؤ، خوراک اور بعض غذائی اجزا کی کمی تک کئی عوامل اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ موڈ سوئنگز ہونے کی چند وجوہات: ہارمونز میں تبدیلی خواتین کے جسم میں ایسٹروجن اور پروجیسٹرون سمیت مختلف ہارمونز کی سطح وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے، جس کا اثر جذبات اور مزاج پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ماہواری، حمل، بچے کی پیدائش کے بعد کا عرصہ، پیری مینوپاز اور مینوپاز ایسے مراحل ہیں جن میں ہارمونل تبدیلیاں زیادہ نمایاں ہو سکتی ہیں۔ ماہواری سے پہلے موڈ میں تبدیلی بعض خواتین کو ماہواری سے ایک یا دو ہفتے قبل چڑچڑاپن، بے چینی، اداسی، رونے کو دل کرنا یا کام میں دل نہ لگنے جیسی علامات محسوس ہوتی ہیں۔ یہ علامات پری مینسٹرول سنڈروم سے منسلک ہو سکتی ہیں، جبکہ بہت شدید علامات بعض اوقات پری مینسٹرول ڈسفورک ڈس آرڈر کی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔ مسلسل ذہنی دباؤ کام، گھر، خاندان اور روزمرہ ذمہ داریوں کا مسلسل دباؤ ذہنی اور جسمانی تھکن کا سبب بن سکتا ہے۔ طویل عرصے تک تناؤ میں رہنے سے بعض افراد میں بے چینی، جلد غصہ آنا، جذباتی تھکن اور موڈ میں تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔ نیند پوری نہ ہونا اچھی نیند کا جذباتی صحت سے گہرا تعلق ہے۔ مسلسل کم یا خراب نیند چڑچڑاپن اور بے چینی بڑھانے کے ساتھ روزمرہ کے مسائل برداشت کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اسکرین کا زیادہ استعمال، بے ترتیب معمولات اور ذہنی دباؤ نیند کے معیار کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ غذائی اجزا کی کمی بعض غذائی اجزا کی کمی بھی تھکن اور مزاج میں تبدیلی سے منسلک ہو سکتی ہے۔ آئرن، وٹامن بی 12، وٹامن ڈی اور میگنیشیم کی کمی بعض افراد میں تھکن، کمزوری، توجہ کی کمی یا موڈ سے متعلق علامات کا سبب بن سکتی ہے۔ بلڈ شوگر میں اتار چڑھاؤ زیادہ دیر بھوکا رہنا، کھانا چھوڑ دینا یا بہت زیادہ میٹھی غذائیں استعمال کرنا خون میں شوگر کی سطح میں تیزی سے تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ اس دوران بعض افراد کو چڑچڑاپن، کمزوری، کپکپی، بے چینی یا توانائی میں اچانک کمی محسوس ہو سکتی ہے۔ ذہنی صحت بھی اہم بار بار یا شدید موڈ میں تبدیلی بعض اوقات اینزائٹی، ڈپریشن یا دیگر ذہنی صحت کے مسائل سے بھی منسلک ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایسی علامات کو صرف ہارمونز سے جوڑ دینا درست نہیں۔ زندگی میں بڑی تبدیلیاں شادی، ماں بننا، ملازمت میں تبدیلی، کسی عزیز کا انتقال یا دیکھ بھال کی اضافی ذمہ داریاں بھی جذباتی کیفیت پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں بظاہر روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری رکھنے کے باوجود ذہنی دباؤ موڈ میں تبدیلی کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ موڈ سوئنگز سے کیسے نمٹا جائے؟ ماہواری اور موڈ کا ریکارڈ رکھنے سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ تبدیلیاں کسی مخصوص وقت پر ہو رہی ہیں یا نہیں۔ اس کے ساتھ مناسب نیند، باقاعدہ متوازن غذا، جسمانی سرگرمی اور ذہنی دباؤ کم کرنے پر توجہ دینا بھی مفید ہو سکتا ہے۔ اگر موڈ میں تبدیلی بہت شدید ہو، مسلسل برقرار رہے یا روزمرہ زندگی، کام اور تعلقات کو متاثر کرنے لگے تو ڈاکٹر یا ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ ضرورت کے مطابق ڈاکٹر آئرن، وٹامن بی 12، وٹامن ڈی یا تھائیرائیڈ سمیت متعلقہ ٹیسٹ تجویز کر سکتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل