Loading
بلوچستان ہائی کورٹ نے زیارت میں پولیس پر دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیشن قائم کر دیا۔
تحقیقاتی کمیشن بلوچستان ٹربیونل آف انکوائریز آرڈیننس 1969 کے تحت قائم کیا گیا ہے، جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کو تحقیقاتی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، کمیشن زیارت میں ڈی آئی جی آفس کے قریب ہونے والے دہشت گرد حملے کی مکمل تحقیقات کرے گا۔ کمیشن متعلقہ اداروں، پولیس افسران اور دیگر ذمہ دار حکام سے ریکارڈ اور معلومات حاصل کرے گا، کمیشن ضرورت پڑنے پر کسی بھی شخص کو طلب کر کے بیان قلمبند کر سکتا ہے۔
تحقیقاتی کمیشن حملے کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت اور دیگر جانی نقصان کے محرکات کا جائزہ لے گا، کمیشن حملے سے قبل اور دوران موجودہ و سابق پولیس افسران اور متعلقہ اداروں کے کردار کا تعین کرے گا، تحقیقاتی کمیشن سیکیورٹی انتظامات میں کسی قسم کی خامی، غفلت یا کوتاہی کی بھی نشاندہی کرے گا۔
کمیشن حملے سے قبل موصول ہونے والی ممکنہ اطلاعات اور ان پر کیے گئے اقدامات کا جائزہ لے گا، کمیشن دہشت گرد حملے کی روک تھام کے لیے اختیار کیے گئے سکیورٹی اقدامات کا بھی جائزہ لے گا، کمیشن حملے کے وقت موجود سکیورٹی انتظامات، نفری اور ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کی ذمہ داریوں کا تعین کرے گا۔
تحقیقاتی کمیشن پولیس اہلکاروں کی شہادت کے واقعہ سے متعلق تمام دستیاب ریکارڈ اور دستاویزات طلب کر سکتا ہے، کمیشن متعلقہ اداروں، پولیس افسران اور دیگر ذمہ دار حکام سے ریکارڈ اور معلومات حاصل کرے گا، کمیشن ضرورت پڑنے پر کسی بھی شخص کو طلب کر کے بیان قلمبند کر سکتا ہے۔
بلوچستان ہائیکورٹ نے تحقیقاتی کمیشن کو واقعات سے متعلق تمام متعلقہ ریکارڈ، دستاویزات اور شواہد پیش کرنے کی ہدایت کر دی، کمیشن عوام سے بھی واقعہ سے متعلق معلومات، دستاویزات اور شواہد فراہم کرنے کی اپیل کرے گا، عوام اپنی معلومات تحقیقاتی کمیشن کے دفتر عدالت عالیہ بلوچستان میں جمع کرا سکتے ہیں۔
تحقیقاتی کمیشن واقعہ سے متعلق اخبارات، الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی رپورٹس کا بھی جائزہ لے گا، کمیشن متعلقہ اداروں سے واقعہ کے متعلق تمام ریکارڈ اور معلومات حاصل کرے گا، تحقیقاتی کمیشن اپنی کارروائی مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق انجام دے گا۔
کمیشن تحقیقات مکمل ہونے کے بعد اپنی سفارشات اور حتمی رپورٹ مرتب کرے گا، تحقیقاتی کمیشن کو واقعہ کے ذمہ داران اور غفلت کے مرتکب افراد کا تعین کرنے کا بھی اختیار حاصل ہے، کمیشن مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی سفارشات بھی دے گا۔
یاد رہے کہ زیارت میں پولیس چوکی پر حملہ میں دو ایس ایچ اوز سمیت متعدد اہلکار شہید ہوئے تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل