Monday, August 17, 2026
 

کراچی: نجی اسپتال میں ڈاکٹروں کی غفلت سے مریض کی ہلاکت، بیٹا عدالت پہنچ گیا

 



کراچی کے نجی اسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے مریض کی موت کے بعد ورثا نے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کرلیا، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ریکارڈ کے ساتھ طلب کرلیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق شہری محمد عارف حسین نے اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال میں اپنے والد 88 سالہ محمد خواجہ حسین کے علاج میں ڈاکٹروں کی جانب سے سنگین غفلت کا موقف اختیار کرتے ہوئے سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن میں شکایت درج کروائی تھی، جس پر ایک سال بعد سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے تحریری فیصلہ دیا، شہری نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (جنوبی) کے روبرو کمیشن کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ کیس کا ازسرنو جائزہ لے کر حقائق کی مکمل چھان بین کی جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔ مدعی نے سندھ ہیلتھ کیئر کی کارروائی کو نمائشی قرار دیا، مدعی کے وکلا حشام بن طاہر، ارتضیٰ حبیب اور زبیر احمد ایڈووکیٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں کی غفلت پر پردہ ڈالا گیا ہے، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن ریگولیٹری ادارہ ہے تاہم ادارے کی جانب سے کلینکل ایکسپرٹ کی رائے کو نظر انداز کر کے اس سے ہٹ کر فیصلہ سنایا گیا۔  مدعی کے مطابق ان کے والد کو نجی اسپتال میں یورولوجی ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ ڈاکٹر عزیز عبداللہ کی تجویز پر سرجری کے لیے داخل کروایا گیا تھا جہاں انفیکشن کا شکار ہونے پر سرجری ملتوی کر دی گئی اور بتایا گیا کہ بلڈ ٹیسٹ کے بعد رپورٹ کی بنیاد پر انفیکشن کی دوا دی جائے گی جو کہ میڈیسن ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر ثمر عباس جعفری مریض کا طبی معائنہ کرنے کے بعد تجویز کریں گے تاہم ڈاکٹر نے اپنی ڈیوٹی نہیں نبھائی، ثمر عباس نے بلکہ ایک ہائی رسک عمر رسیدہ مریض کو جونیئر ڈاکٹروں کے بھروسے پر چھوڑ دیا، جو درست تشخیص اور مرض کی پیچیدگی  کو سمجھنے میں ناکام رہے اور والد  کی حالت بگڑ گئی۔ ہیلتھ کمیشن میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے مدعی نے بتایا کہ اس بابت استفسار پر ایک جونیئر ڈاکٹر نے بتایا کہ ثمر عباس سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا مگر وہ اپنے ڈپارٹمنٹ میں موجود نہیں تھے، جب کہ ازخود بھی وارڈ میں جوابی رابطہ نہیں‌ کیا، درخواست گزار کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے اس غفلت پر ڈاکٹر ثمر عباس پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا جو ایک بڑے اسپتال کے سینئر ڈاکٹر کو کس طرح آئندہ انسانی جانوں کی اہمیت کو سمجھنے اور ایسے غیر پیشہ ورانہ طرز عمل  سے باز رہنے پر مجبور کر سکتا ہے؟  درخواست گزار نے ایکسپریس کو بتایا کہ ڈاکٹر عزیز عبداللہ اپنے ہائی رسک مریض کی جانب سے مکمل غافل رہے اور والد کو اپنے جونیئرز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا، جنہوں نے اس قدر کوتاہی کی کہ ناگزیر ہونے کے باوجود مریض کا جسمانی طبی معائنہ نہیں کیا بلکہ مریض کا باقاعدگی سے طبی ریکارڈ بھی مرتب نہیں کیا جوکہ تشخیصی عمل اور علاج کے لیے لازمی تھا، سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے فیصلے میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے اور ظاہر ہے کہ جسمانی معائنہ شعبۂ طب میں بنیادی اور بعض صورتوں میں ناگزیر  پریکٹس ہے۔ عدالت نے درخواست پر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے کلینکل ایکسپرٹس کو بھی نوٹسز جاری کردیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل