Monday, August 17, 2026
 

’’ ٹریاج‘‘ (Triage) ؛ اسپتالوں میں پُرتشدد واقعات کیوں؟

 



’’ مریض کو بر وقت نہ دیکھنے پر مریض کے ساتھ آئے افراد کا اسپتال کے عملے پر تشدد‘‘ ’’ مریض کی طبیعت زیادہ خراب ہونے پر لواحقین کا ڈاکٹر اور عملے پر تشدد اور اسپتال میں توڑ پھوڑ‘‘ اِس طرح کی خبریں ایک عرصے سے اکثر ہمارے پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا یا سوشل میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں جو کہ کسی بھی ذی شعور انسان کے لیے تکلیف کا باعث ہوتی ہیں اور کسی بھی معاشرے کے مثبت پہلو کی عکاسی نہیں کرتی۔ اگر اِس پر غور کریں تو یہ پُر تشدد رویہ ہمارے یہاں کم و بیش زندگی کے ہر شعبہ میں نظر آتا ہے اور اسپتال بھی اِس سے محفوظ نہیں۔ ویسے تو اِس رویے کی کئی وجوحات ہو سکتیں ہیں لیکن بنیادی طور پر شعور اور تربیت کی کمی ہی اِس کی اصل وجوہات ہیں جس پر ہم نے مِن الحیث القوم کبھی غور ہی نہیں کیا اور نہ اِس کو درست کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ اسپتال کو تو چھوڑیے ہم تو اپنی عام زندگی میں بھی ہر وقت ہنگامی حالت میں ہی رہتے ہیں اور کسی بھی ہنگامی حالت کو ہم مزید ہنگامی بنانے میں دیر نہیں کرتے۔ یہ پہلو کسی بھی قوم کے منفی روئیے کی نشاندہی کرتا ہے اور کسی بھی لحاظ سے حوصلہ افزا نہیں ہے۔ مندرجہ بالا سطور میری اسلام آباد میں چند لوگوں کے ساتھ ایک عمومی ملاقات کا حاصل ہیں جس میں میرے ایک قریبی عزیز ڈاکٹر عبدالسلام خان جو کہ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں اِس وقت چیف آف ایمرجنسی میڈیسن ہیں، بھی موجود تھے۔ میرا اُن سے ایک دیرینہ تعلق بھی ہے۔ میں اور ڈاکٹر صاحب اِس بات سے تو متفق تھے کہ شعوراور تربیت کی کمی تو اپنی جگہ ہے ہی لیکن ہم نے عوام کے شعور اور آگہی کے لیے کچھ کیا بھی تو نہیں، اِس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے جو باتیں کیں وہ بہت کام کی تھیں۔  اُن کا کہنا تھاکہ ایمرجینسی میڈیسین میں ایک فرانسیسی اصطلاح ہے’’ٹریاج‘‘ Triage  (خیال رہے کہ اِس لفظ کی ادائی’’ٹرائی ایج‘‘ نہیں ہے)، یہ ایمرجنیسی میڈیسین کے زبردست ضابطہ اخلاق یا اُصول و ضوابط ہیں جو مریض کے اسپتال پہنچنے پر اُس کی طبی حالت کی سنگینی کے لحاظ سے اُ ن کی ترجیح اور درجہ بندی کو طے کرتے ہیں۔ آسان الفاظ میں اِس کا مقصد یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کس مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہے اور کس کو کچھ دیر انتظار کروایا جا سکتا ہے۔ اس کا مریض کے آنے کی ترتیب یا وقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اِس کا فیصلہ ایمرجینسی ڈیپارٹمنٹ میں موجود ایک ماہر طبی عملہ کرتا ہے ماہر نرسنگ اِسٹاف کی کمی کی صورت میں یہ ذمے داری کوئی ڈاکٹر بھی سر انجام دے سکتا ہے۔ ابتدا میں ٹریاج کی درجہ بندی ایک سے تین تک تھی مگر اب یہ چار اور پانچ درجوں تک بھی ہوسکتے ہیں۔ اِس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ جب کوئی مریض ایمرجینسی میں لایا جاتا ہے اور وہ اِس حد تک بیمار ہو کہ اُسے اگر فوری طور پر ٹریٹ نہ کیا گیا تو تھوڑی ہی دیر میں اُس کی جان کو خطرہ لاحق ہوجائے گا تو ٹریاج کی درجہ بندی کے تحت اُس کو درجہ اول یا ایک نمبر دیا جائے گا، یعنی اُس کو سب سے پہلے دیکھا جائے گا قطع نظر اِس بات کے کہ اُس سے پہلے کتنے مریض موجود ہیں، اور وہ مریض جو بہت زیادہ بیمار ہے اور شاید بہت تکلیف میں بھی ہے مگر اُس کی جان کو کم خطرہ ہے وہ ٹریاج کی درجہ بندی کے لحاظ سے درجہ دوئم یعنی دو نمبر پر ہوگا۔  اِسی طرح سے ہر مریض کے مرض کی شدت کے لحاظ سے ٹریاج کی درجہ بندی کی جائے گی جو کہ ایک سے پانچ تک ہے، یعنی جو مریض درجہ پانچ پر ہو گا وہ مرض کی سب سے کم سنگینی پر ہوگا، اور اِس کا فیصلہ ڈیوٹی پر موجود ایک ماہر نرسنگ اسٹاف کرتا یا کرتی ہے۔ اور یہی وہ نکتہ ہے جو مریض کے ساتھ آنے والے لوگ یا لواحقین نہیں سمجھتے اور ہنگامی صورتِ حال مزید ہنگامی ہو جاتی ہے۔ یہاںایک اور بات جو سمجھنے کی ہے کہ ہر اسپتال اپنی افرادی قوت اور وسائل (جو کہ محدود ہوتے ہیں) کے لحاظ سے ہی مریض کو دیکھتا ہے، کم افرادی قوت اور کم وسائل ہونے کی صورت میں عموماً وقت لگ جاتا ہے یا وہ اسپتال مریض کو دوسرے اسپتال ریفر کردیتا ہے، جو بعض اوقات بدمزگی کا سبب بنتا ہے۔ حکومتی سطح پر وزارتِ صحت نے اسپتالوں میں جگہ جگہ یہ پوسٹر تو لگا دیے ہیں کہ توڑ پھوڑ کرنے یا اسپتال کے عملے کو زخمی وغیرہ کرنے پر کون سی دفعہ لگے گی اور کتنی سزا یا جرمانہ ہوگا، لیکن یہ نوبت ہی نہ آئے اِس کے لیے حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹریاج کی درجہ بندی کے اُصول کو بھی تفصیلی طور پر متعارف کرائے، کیوں کہ یہ صرف درجہ بندی ہی نہیں ہے بلکہ یہ مریض کی صورت حال اور مرض کی شدت کی وضاحت بھی کرتی ہے۔ یہاں ایک بات جو کرنی بہت ضروری ہی وہ یہ ہے کہ ہر اسپتال کی ایمرجینسی میں ایک ٹریاج چارٹ لگا ہونا چاہیے جس میںروزانہ کی بنیاد پر ایمرجینسی میں موجود ڈاکٹر اور اسٹاف کی تعداد لکھی ہوئی ہو، اور اس کے ساتھ ساتھ ایمرجینسی میں کسی ایک دن میں کتنے مریض آئے اور وہ ٹریاج کے لحاظ سے کس درجہ پر تھے اُن کا کیا علاج ہوا، کتنے فوراً گھر چلے گئے، کتنے ایڈمٹ کرنے پڑے، کتنے کہیں اور شفٹ کیے گئے اور کتنے انتقال کرگئے۔ اِس چارٹ کو گھنٹے کی بنیاد پر اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے صرف ایک دن پہلے کی صورت حال واضح کردی جائے۔ اِس سے اِس بات کا اندازہ ہو گا کہ اسپتال کی ایمرجنسی پر کتنا دباؤ ہے اور اُس کی کارکردگی کیسی ہے؟ مزید برآں ایمرجینسی کا انچارج عملے کی کمی یا اضافہ کا فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی تربیت کا اہتمام بھی کرسکے گا۔ 

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل