Loading
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سی این این کی سینئر وائٹ ہاؤس نمائندہ کرسٹن ہومز کے درمیان اوول آفس میں پریس کانفرنس کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں 16 سالہ لائف گارڈ رائڈر ولیمز کی بہادری کو سراہنے کی تقریب میں موجود تھے۔ رائڈر ولیمز نے رواں سال جولائی میں کیلیفورنیا کے ساحل پر ایک 10 سالہ بچے کو خطرناک لہروں سے بچایا تھا۔
تقریب کے دوران سی این این کی نمائندہ کرسٹن ہومز نے صدر ٹرمپ سے سوال کرنے کی کوشش کی۔ ٹرمپ نے انہیں روک دیا اور کہا کہ وہ ایک دوسرے صحافی کے بولنے کے دوران مداخلت کر رہی ہیں۔
ٹرمپ نے ہومز سے کہا کہ خاموش رہیں اور انہیں ’’نہایت بے ادب‘‘ قرار دیا۔ جب صحافی نے بتایا کہ وہ سی این این سے تعلق رکھتی ہیں تو ٹرمپ نے سی این این کو ’’فیک نیوز‘‘ قرار دیتے ہوئے ہومز پر بھی جعلی خبریں رپورٹ کرنے کا الزام عائد کیا۔
بعد ازاں کرسٹن ہومز نے سینیٹر جون اوسوف کے ایک بیان سے متعلق ٹرمپ سے سوال کیا۔ اوسوف نے حال ہی میں ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں اپنی خاتون معاون نٹالی ہارپ کے ساتھ وقت گزارنے اور وائٹ ہاؤس میں بال روم بنانے کے منصوبے پر تنقید کی تھی۔
ٹرمپ نے جواب میں سینیٹر اوسوف کو ایک معروف مزاحیہ کردار سے مشابہ قرار دیا اور اس کے بعد وائٹ ہاؤس کے بال روم کے منصوبے پر گفتگو کی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے رویے پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔ بعض صارفین نے صدر کے طرزِ گفتگو کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیا، جبکہ بعض نے صحافی کے سوال کرنے کے انداز پر بھی تنقید کی۔
یہ پہلا موقع نہیں جب صدر ٹرمپ اور سی این این کے صحافیوں کے درمیان کشیدگی سامنے آئی ہو۔ ٹرمپ اس سے قبل بھی سی این این کی نمائندہ کیٹلین کولنز سمیت دیگر صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنسوں میں سخت جملوں کا تبادلہ کر چکے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل