Loading
تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل پر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوششوں کا الزام عائد کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عراقچی نے کہا کہ اسرائیل امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھا اور اس نے معاہدے کو ناکام بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
عراقچی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے نہ صرف معاہدے کو روکنے کی کوشش کی بلکہ اس پر عمل درآمد میں بھی رکاوٹیں پیدا کیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ یہ مطالبہ عملی شکل اختیار نہیں کرسکا۔
ان کے مطابق ایران نے بالآخر اپنی شرائط پر جنگ بندی قبول کی اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کیے۔
عراقچی نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے آغاز میں ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرنے والے فریق بعد میں خود مذاکرات کے خواہاں ہوگئے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران نے جنگ بندی کے لیے جلد بازی نہیں کی بلکہ اس وقت تک مزاحمت جاری رکھی جب تک جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے ایران کی شرائط کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ عراقچی کے یہ دعوے ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے رپورٹ کیے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ان الزامات پر اس خبر میں کوئی ردعمل شامل نہیں ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل