Loading
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان دال میں کچھ کالا ہے جو آج نہیں تو کل سامنے آجائے گا۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران نئے صوبوں سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی عوام کے ساتھ اور عوام کی رائے کے ساتھ کھڑی ہوگی اور جو قدم اتفاق رائے سے کیا جائے گا، عوام کے اتفاق رائے سے کیا جائے گا پی پی پی اس کا ساتھ دے گی جیسے دیتی رہی ہے، ہم نے زور زبردستی سے کسی چیز کو پہلے مانا ہے نہ آج مانیں گے اور نہ آئندہ مانیں گے تاہم کافی علاقے ہیں جو طویل عرصے سے کوشش میں ہیں کہ ان کے آئینی حقوق تسلیم کیے جائیں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جہاں تک اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک پیج پر ہیں تو ہوگا، میں نے بطور سیاست دان اور سیاسی ورکرخیال ہے پیچ ایک ہوسکتا ہے، مگر دال میں کچھ کالا ہے اور مجھے نہیں معلوم وہ ہے کیا لیکن کچھ تو ہے، اگر حکومت کنفیڈنٹ ہے پی پی پی کی ضرورت نہیں ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے پھر میں غلط تھا، اگر کچھ ہے تو آج نہیں تو کل سامنے آجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا اور پارلیمنٹ کا جوکام ہے وہ ہم کرنا شروع کریں، کم ازکم جو ایک مذاق بن گیا ہے، دھاندلی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں، نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی بینچز سے بھی اٹھائے جاتے ہیں، دھاندلی کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیتنے ہیں تو خوشی مناتے ہیں ہارتے ہیں تو روتے ہیں، بنیادی طور پر ہم نے شکایت دور کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج جتنے بھی پیجز ہو جو بھی ہو رہا ہے کل بھی الیکشن ہوں گے وہ الیکشن ہوتو جو اعتراضات ہوتے ہیں اس کو دور کرنے کی کوشش کرتےہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کیے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کے وزرا اور مسلم لیگ (ن) کے اہم سیاست دانوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن بہتر ہوتا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے حکومت قدم اٹھاتی اور ہم بیماری کے حوالے سے سیاست نہیں کرنا چاہتے۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ان ہاؤس تبدیلی پر فوکس نہیں، میں چاہتا ہوں پارلیمان اپنا کردار ادا کرے، کشمیر جیسا حساس علاقہ تھا یہاں غیر متنازع الیکشن ہونا چاہیے تھا، بھمبر اور میر پور سمیت کئی حلقوں میں شک تھا کہ امن و امان کی صورت حال خراب ہوگی، ہمارے امیدواروں پر وہاں حملے ہوئے اور کارکن کو گولیاں ماری گئیں، اسی طرح پونچھ کے علاقے جو کچھ ہوا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابھی متعدد حلقوں میں انتخابات ہونے ہیں، متنازع الیکشن کے بعد متنازع حکومت چاہیے تو مسلم لیگ (ن) کو مبارک ہو، مجھے وہ موقع نظر نہیں آتا کہ ہم وہاں جمہوری روایات اور کشمیر کے پارلیمان کو مضبوط کریں۔
حکومتی رویے پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیا یہ سلوک اتحادیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جو مسلم لیگ (ن) نے ہمارے ساتھ کیا، میری پارٹی کا فیصلہ ہے مسلم لیگ (ن)کے ساتھ کوآرڈینیشن اور قانون سازی میں تعاون نہیں ہوگا جب تک ہمارے تحفظات دور نہیں ہوں گے، اگر ایسا کوئی قانون آئے جو قومی مفاد کا ہوگا اس کا ساتھ دیں گے بصورت دیگر تعاون نہیں ہوگا۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کوئی موقف نہیں دیا تھا بلکہ فقط ایک سوال کا جواب دیا تھا، صوبوں کے حوالے سے پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے کہ اتفاق رائے ہو تو صوبہ بنایا جائے، میں نے گلگت بلتستان میں صوبے کا وعدہ کیا ہے چاہے وہ عبوری ہو یا آئینی کسی بھی شکل میں، جنوبی پنجاب میں صوبے کا وعدہ کیا لیکن سب سے اہم یہ بات ہے کہ کیا اس صوبے سے لوگ اتفاق رائے چاہتے ہیں تو ان کی رائے کو عزت دی جائے۔
بلاول بھٹو نے سوال کیا کہ سندھ سے صوبے بننے کے کتنی قراردادیں منظور ہوئیں، اس کا جواب دینا چاہیے، پنجاب اور دیگر صوبوں میں قراردادیں منظور ہوئی ہیں، جس کا ہم احترام کرتے ہیں اور سندھ اسمبلی کی قرارداد کی کیسے مخالفت کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اگر رابطہ کیا گیا تو ضرور بات چیت کریں گے، مگر جب تک پیپلز پارٹی کو انصاف نہیں ملتا اس وقت تک حکومت کے ساتھ تعاون نہیں ہوگا، آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے اور اسٹیک ہولڈرز کو راستا دیتا ہے، کشمیر میں خصوصی طور پر میں کہتا ہوں کہ مجھے دکھ ہے کہ ہمیں اس معاملے پر بات چیت کو راہ دینی چاہیے، ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے بے گناہ کو حق ملے اور گناہ گار کو سزا ملے، جب تک کمیشن نہیں بنتا اس وقت تک احتجاج والے پرامن طور پر گھر جائیں جبکہ حکومت کو بھی یہ یقین دہانی ہونی چاہیے کہ احتجاج والے پرامن اٹھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں اگر ایسا ہوتا ہے تو اسی صورت میں معاملات نارمل ہوں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ نظام ناکارہ ہونا کافی بھاری لفظ ہے، محسن نقوی سیاست میں اتنا تجربہ نہیں رکھتے، اگر وہ موجودہ نظام کی بات کررہے ہیں کہ کلیپس تو پھر میرے الٹی گنتی والے بیان کو درست سمجھیں، اگر وہ 1973 کے آئین کو سمجھتے ہیں کہ سسٹم کلیپس کر گیا ہے تو اس نظام کو کب چلنے دیا گیا، آج تک آپ نے اس دستوری نظام کو اس انداز سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور دیگر کی پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی ہے، صہیونی رجیم ایران اور پاکستان کے خلاف سازش کررہی ہے اس کو ناکام بنانا ہوگا، بھارت آپریشن سندور میں ناکام ہوا اب وہ سازشیں کررہا ہے، پاکستان نے جس انداز سے کردار ادا کیا ہے اس لیے ہمیں اندرونی سطح پر مستحکم ہونا چاہیے۔
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ آج پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کہاں تک پہنچ چکی ہیں اس حوالے سے بھی سوچنا ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل