Loading
گوگل نے پاکستان میں اپنے باضابطہ آپریشنز کے آغاز کے موقع پر ملک کے طلبہ کے لیے بڑی سہولت کا اعلان کردیا ہے۔ کمپنی کے مطابق پاکستانی طلبہ کو گوگل ’جیمنائی پلس‘ کی سبسکرپشن ایک سال تک مفت فراہم کی جائے گی، جس کے ذریعے وہ جدید مصنوعی ذہانت کی سہولیات سے اپنی تعلیم اور تحقیقی سرگرمیوں میں فائدہ اٹھا سکیں گے۔
پاکستان میں گوگل کے باقاعدہ دفتر کے افتتاح کے موقع پر کمپنی کے نائب صدر ولسن ایل وائٹ نے پاکستان کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوگل گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں کام کررہا ہے، جبکہ مقامی دفتر کا قیام پاکستان کے ساتھ کمپنی کے طویل سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف نے گوگل کے پاکستان آفس کی بنیاد کی تختی کی نقاب کشائی بھی کی۔ انہوں نے گوگل کے باضابطہ آپریشنز کے آغاز کو پاکستان کے ڈیجیٹل سفر اور ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
اسی تقریب میں ولسن ایل وائٹ نے پاکستانی طلبہ کے لیے ’جیمنائی پلس‘ کی ایک سالہ مفت سبسکرپشن دینے کا اعلان کیا۔ اس سہولت کے ذریعے طلبہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی کو اپنی پڑھائی، اسائنمنٹس، تحقیق اور دیگر تعلیمی کاموں میں استعمال کرسکیں گے۔
تاہم مفت سبسکرپشن کے اعلان کے بعد سب سے اہم سوال اس کی رجسٹریشن اور اہلیت سے متعلق ہے۔ فی الحال گوگل نے اس پیشکش سے فائدہ اٹھانے کا حتمی طریقہ کار جاری نہیں کیا۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے میڈیا کوآرڈینیٹر سعد قیصر خان کے مطابق اس حوالے سے مزید تفصیلات رواں ہفتے سامنے آنے کی توقع ہے۔
سعد قیصر خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گوگل کے باقاعدہ آپریشنز سے ملکی آئی ٹی انڈسٹری کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے اور نوجوانوں کے لیے کاروبار و روزگار کے امکانات بڑھنے کی امید ہے۔
گوگل کی جانب سے موجودہ اسکیم کی شرائط سامنے نہ آنے کے باعث گزشتہ سال کی پیشکش سے کچھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ کے لیے گوگل کا اے آئی پرو پلان متعارف کرایا گیا تھا، جس کے لیے اہل یونیورسٹیوں کی فہرست بھی جاری کی گئی تھی۔
اس وقت پیشکش سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری تھا کہ طالب علم کسی اہل یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہو۔ نئی اسکیم میں بھی ممکنہ طور پر فعال گوگل اکاؤنٹ اور کسی اہل پاکستانی یونیورسٹی میں داخلہ جیسی شرائط شامل ہوسکتی ہیں۔ طلبہ سے اپنی تعلیمی حیثیت کی تصدیق کے لیے یونیورسٹی ای میل، اسٹوڈنٹ کارڈ یا کسی دوسرے ذریعے سے تصدیق بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
تاہم یہ تمام شرائط فی الحال حتمی نہیں بلکہ گزشتہ سال کی اسکیم کو سامنے رکھتے ہوئے ممکنہ طریقہ کار ہے۔ گوگل نے موجودہ مفت جیمنائی پلس سبسکرپشن کے لیے نہ تو حتمی اہلیت، نہ اہل یونیورسٹیوں کی فہرست اور نہ ہی رجسٹریشن کا باضابطہ طریقہ جاری کیا ہے۔
پاکستان میں اس وقت جیمنائی پلس کی ماہانہ سبسکرپشن تقریباً 850 روپے بتائی جاتی ہے۔ یوں ایک سال کی لاگت تقریباً 10 ہزار 200 روپے بنتی ہے۔ اگر مفت سہولت پورے ایک سال کے لیے دستیاب ہوئی تو اہل طلبا کو تقریباً 10 ہزار روپے کی سالانہ بچت ہوگی۔
طلبہ کو چاہیے کہ گوگل کی جانب سے باضابطہ رجسٹریشن کا طریقہ سامنے آنے تک انتظار کریں اور کسی غیر سرکاری ویب سائٹ یا مشکوک لنک پر اپنے گوگل اکاؤنٹ، یونیورسٹی یا دیگر ذاتی معلومات فراہم نہ کریں۔ اسکیم کی اصل شرائط اور رجسٹریشن کا درست طریقہ گوگل کے سرکاری اعلان کے بعد ہی واضح ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل