Thursday, August 20, 2026
 

مولانا عبیداللہ سندھی اور رہبر انقلاب تک کا سفر

 



’’مظلوم سے اس کی ذات اور برادری پوچھے بغیر اس کی حمایت میں کھڑے جاؤ‘‘ جیسی انسان دوست بات کرنے والے مولانا عبید اللہ سندھی کی پیدائش سیالکوٹ کے گاؤں چلیانوالی میں ایک معزز سکھ خاندان میں 10 مارچ 1872 کوہوئی اور ان کا نام ’’بوٹا سنگھ‘‘ رکھا گیا۔ ان کے والد رام سنگھ ان کی پیدائش سے چار ماہ پہلے ہی انتقال کرچکے تھے۔ ان کی والدہ پریم کور اور دادا نے کفالت شروع کی مگر دادا بھی جلد انتقال کرگئے، اس وقت ان کی عمر صرف دو برس تھی، بعد ازاں والدہ انھیں میکے لے آئیں جہاں ان کے ماموں نے کفالت کی۔  جب اسکول میں داخل ہوئے تو ایک سکھ دوست نے ایک کتاب ’’تحفۃ الہند‘‘ دی جو نو مسلم عبید اللہ نے لکھی تھی۔ بوٹا سنگھ نے یہ کتاب پڑھی تو اسلام کی طرف راغب ہوئے اور صرف پندرہ سال کی عمر میں ہی اسلام قبول کرنے کی غرض سے سندھ چلے آئے ۔ انھوں نے حافظ محمد صدیق بھرچونڈی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور نہ صرف ان کے مکتب میں تحصیل علم کا آغاز کیا بلکہ حافظ صاحب نے انھیں اپنا منہ بولا بیٹا بنالیا۔ ان کی پہلی اہلیہ انتقال کرچکی تھیں تو دوسری شادی اسلامیہ ہائی اسکول سکھر کے استاد ماسٹر محمد عظیم خان کی صاحبزادی سے ہوئی جس کا اہتمام مولانا تاج محمد امروٹی نے کیا۔ ان سے ان کی دو بیٹیاں مریم اور حوا پیدا ہوئیں جن میں سے مریم کا نکاح معروف عالم دین مولانا احمد علی لاہوری سے ہوا۔  مولانا عبیداللہ سندھی مزید علم حاصل کرنے کے لیے دہلی گئے ،جہاں شیخ الہند مولانا محمود الحسن سے پڑھے اور یوں وہ ان کی قربت میں رہے اور ان ہی کے حکم پر 1915 میں افغانستان چلے گئے تاکہ افغان حکومت کو انگریز کے خلاف جنگ کے لیے آمادہ کرسکیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے افغانستان میں ’’ہندوستان کی جلاوطن حکومت‘‘ کی بنیاد رکھی اور آزادی کے لیے جدوجہد شروع کی۔ وہ اس جلاوطن حکومت کے وزیر خارجہ بنے اور اسی حیثیت میں روس اور ترکیہ کے دورے بھی کیے۔ یکم دسمبر 1915کو کابل کے باغ بابر میں برصغیر کی آزادی کے لیے ’’پہلی جلاوطن عبوری حکومت‘‘ (Provisional Government of India) قائم کی گئی تھی۔ اس انقلابی حکومت میں راجہ مہیندر پرتاب کو صدر، مولانا برکت اللہ بھوپالی کو وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا۔ انھوں نے کابل سے بیٹھ کر روس، ترکیہ، جاپان اور جرمنی کے حکمرانوں سے رابطے کیے تاکہ انگریزوں کے خلاف عسکری اور سیاسی مدد حاصل کی جا سکے۔ مولانا عبیداللہ سندھی ریشمی رومال کے ٹکڑوں پر خطوط لکھ کر مولانا محمود الحسن سے رابطے میں رہتے تاہم ان کا ایک خط انگریزوں نے پکڑ لیا جس کی وجہ سے ان کی ہندوستان واپسی کے راستے بند ہوگئے اور وہ اگلے 25 برس جلاوطن رہے۔  جب وہ سوویت یونین گئے تو وہاں روسی وزیرخارجہ جارجی چیچرن سے ملاقات کی اور روسی لٹریچر بالخصوص کمیونزم کا مطالعہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر الحاد کو چھوڑ دیا جائے تو کمیونزم اور اسلام کے نظام معیشت میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔ مولانا نے دیگر روسی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں اور نو ماہ تک ماسکو میں قیام کیا، اس کے بعد ترکیہ چلے گئے۔ مولانا چونکہ آل انڈیا نیشنل کانگریس سے وابستہ تھے تو ان کے نظریات کو پروان چڑھاتے رہے۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے اور سمجھتے تھے کہ ہندوستان کی آزادی ہندو مسلم اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے بہت ساری کتب بھی لکھیں جس میں خاص طور پر شاہ ولی اللہ اور ان کا فلسفہ، قرآنی شعور اور خطبات مولانا عبیداللہ سندھی سمیت بہت ساری کتب شامل ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے سات سال افغانستان میں جلاوطنی میں گزارے اور اس کا تذکرہ انھوں نے اپنی کتاب ’’کابل میں سات سال‘‘ میں کیا ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی نے ہمیشہ حق و سچ کا علم بلند رکھا، وہ ایک انقلابی رہنما تھے۔ ان کی واپسی 1939 میں انگریز حکومت کی جانب سے دی گئی عام معافی کے نتیجے میں ہوئی تاہم واپسی کے بعد بھی ان کو مشکلات اور مصائب کا سامنا رہا، مگر وہ اپنے نظریے اور فکر پر ڈٹے رہے۔  عظیم مجاہد اور تحریک آزادی کے رہنما مولانا عبیداللہ سندھی کو دہلی میں قیام کے دوران اپنی صاحبزادی کی علالت کا علم ہوا تو واپس آئے تاہم دوران سفر ان کی اپنی صحت بگڑ گئی۔ وہ شدید بیماری کی حالت میں دین پور شریف، رحیم یار خان پہنچے جہاں 21 اگست 1944کو انتقال کرگئے۔ مولانا سندھی دین پور شریف میں ہی سپرد خاک کیا گیا۔ سندھ اور ہند میں ایک بڑا حلقہ ان کے افکار سے متاثر ہے اور آج بھی فکر کی ترویج کے لیے کوشاں ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل