Thursday, August 20, 2026
 

حکومتی تدبر کی ضرورت

 



بانی پی ٹی آئی کی اسپتال منتقلی کے حکم کے بعد بعض وزرا کے جو بیانات آئے ہیں انھیں وزیروں کی ذاتی رائے تو کہا جا سکتا ہے مگر اس اہم فیصلے کے بعد حکومت کے تدبر کا امتحان شروع ہو چکا ہے اور عدالت عظمیٰ کے بنچ کے فیصلے کو 2018 کے نواز شریف کی صحت سے متعلق ایک عدالتی فیصلے سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ دونوں فیصلوں میں فرق بھی ہے مگر دونوں عدالتی فیصلے ملک کے دو سابق وزرائے اعظم سے متعلق ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایک عدالت نے جیل میں بیمار نواز شریف کو علاج سے متعلق ملک سے باہر بھیجنے کا حکم دیا تھا ،اس وقت عمران خان وزیر اعظم تھے جن کی پنجاب کی وزیر صحت نے نواز شریف کی بیماری کی شدت کی خود تصدیق کی تھی اور محکمہ صحت پنجاب کی رپورٹ پر عمل کرتے ہوئے حکومت نے نواز شریف کو لندن جانے کی اجازت ضرور دی تھی مگر وزیر اعظم سنجیدہ نہیں تھے اور انھوں نے نواز شریف کی بیماری کا مذاق اڑاتے ہوئے اور ان کی بیماری کو مشکوک قرار دیا تھا مگر اس وقت عدالتی فیصلے کی حکومت نے کوئی وضاحت نہیں مانگی تھی مگر اب حکومت کا اپنا انداز ہے۔  نواز شریف کی بیماری کی تصدیق کرنے والی سابق وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اب خود بھی (ن) لیگی حکومت میں جیل میں ہیں جو بزرگ ہونے کے ساتھ کینسر جیسی مہلک بیماری میں مبتلا اور سرکاری علاج بھی کرا رہی ہیں مگر انھیں ضمانت نہیں مل رہی ۔ بانی پی ٹی آئیکو سپریم کورٹ کے جس بنچ نے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے تو ضرورت حکم پر عمل کرنے کی ہے، جس پر عمل سے حکومت کا کوئی نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی ہو سکتا ہے۔ پی ٹی آئی واضح کر چکی ہے کہ وہ بانی کی صحت پر سیاست نہیں کرے گی اور بانی کی ایک بہن کی اپنے اسیر بھائی سے ملاقات بھی کرا دی گئی ہے اور ان سمیت دیگر دو بہنوں نے بھی کوئی بیان نہیں دیا بلکہ خاموشی اختیار کرنے میں بہتری سمجھی ہے۔ عدالتی فیصلے کو پی ٹی آئی کے بعض حامی حکومت کا جھک جانا کہہ رہے ہیں مگر ایسا نہیں ہے بلکہ ایک (ن) لیگی سینیٹر نے تو اس فیصلے کو نواز شریف کے خلاف نئی سازش قرار دیا ہے جب کہ جیل سے باہر مقدمات بھگتنے والے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے عدلیہ کی آزادی ظاہر اور مذکورہ بنچ کا پرچم بلند ہوا ہے ۔ پی ٹی آئی کے بعض حامی اس فیصلے کو سیاسی رنگ دے کر حکومت کی مخالفت قرار دے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن، چوہدری پرویز الٰہی، شرجیل میمن و دیگر عدالتی فیصلے کو سراہ رہے ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے ان کے دل کا کچھ بوجھ کم ہوا ہے اور بہتر تو یہ ہوتا کہ حکومت یہ فیصلہ خود کرتی جو عدالت کے حکم کا فیصلہ ہے اور بانی سے ملاقاتوں کا معاملہ عدالت کو نہ سننا پڑتا تو بہتر ہوتا۔ عمران خان کو طبی سہولیات کی فراہمی کے فیصلے پر مختلف رائے دی جا رہی ہیں مگر حکومتی حلقوں میں بھی ویسی ہی بے چینی ہے جیسی 2018 میں پی ٹی آئی کی حکومت میں تھی مگر موجودہ حکومت نے اس وقت کی حکومت جیسا کوئی رد عمل نہیں دیا جب کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف لندن جانے کے لیے جہاز کی سیڑھیاں خود چڑھ رہے تھے تو بانی پی ٹی آئی اور دیگر پارٹی رہنما انھیں دیکھ کر تلملا رہے تھے اور انھوں نے برہمی بھی دکھائی تھی مگر عدالتی حکم پر عمل پر ضرور مجبور ہوئے تھے۔ 2022 میں ملک میں پہلی بار ایک وزیر اعظم آئینی طور پر ہٹایا گیا۔ پی ڈی ایم حکومت بنائی گئی جو بانی پی ٹی آئی کو قبول نہیں تھی جس کے خلاف انھوں نے ملک بھر میں جلسے کیے اور اس حد تک چلے گئے کہ سانحہ نو مئی رونما ہوا جس کا الزام پی ٹی آئی پر لگا جس کے رہنماؤں کو سزائیں ہوئیں اور دیگر مقدمات میں بانی پی ٹی آئی تین سال سے جیل میں ہیں جن کی اسپتال منتقلی کا عدالتی فیصلہ آ چکا جس پر (ن) لیگی حکومت کو تدبر کا مظاہرہ اور رہنماؤں کو احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ یہ مکافاتی عمل ہے اور پاکستان کی سیاست میں شروع ہی سے یہ ہوتا آیا ہے اور تقریباً تمام ہی سابق حکمرانوں کو مکافات عمل کا سامنا رہا۔ کوئی قتل ہوا کوئی پھانسی چڑھا اور زیادہ تر نے جیلیں اور سزائیں بھگتیں۔ کچھ اللہ کو پیارے ہو گئے کچھ ابھی حیات ہیں ۔ یہ سب کچھ پاکستان کی سیاست میں ہوتا آ رہا ہے مگر لگتا ہے کہ ماضی سے سبق کسی نے نہیں سیکھا جس کا سیکھا جانا بھی ضروری تھا تاکہ مکافات عمل نہ ہوتا۔  اقتدار اور جیل کا بہت قریبی تعلق ہے۔ کل کا وزیر اعظم جیل میں سزا بھگت رہا ہے ماضی میں سزا بھگتنے والے آج حکمران ہیں جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے ہے۔ کچھ نہیں پتا کہ مستقبل ان کا کیسا ہوا مگر جو ہوتا آ رہا ہے وہ افسوس ناک ہے جسے روکنا اور انتقامی سیاست کا خاتمہ ضروری ہے جس کی ابتدا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو 2005 کے میثاق جمہوریت کی طرح کرنی چاہیے۔ موجودہ حکمرانوں کے لیے موقع ہے اور (ن) لیگی حکومت کے لیے بھی موقع ہے کہ عدالتی فیصلے پر عمل ہونے دے جس سے اسے خطرہ بھی نہیں ہے۔ تینوں بڑی سابق حکمران جماعتوں کو ماضی سے سبق سیکھ کر تدبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ماضی کے اعمال کی تینوں ذمے دار ہیں جن کی وجہ سے ملک میں سیاسی استحکام نہیں آ رہا اور ان حالات سے بے زار عوام بھی اپنے اچھے مستقبل کی تلاش میں ہیں شاید اب تدبر کا مظاہرہ ہو جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل