Friday, August 21, 2026
 

سویڈن کے اسکول میں تلوار بردار شخص کا حملہ؛ ہلاکتوں کا خدشہ

 



سویڈن کے شہر فاگرستا کے ایک ہائی اسکول میں تلوار لیے ایک شخص داخل ہوا اور اندھا دھند طلبا، اساتذہ اور دیگر افراد پر حملہ کرنے لگا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ سویڈن کے برینل اسکول میں دوپہر کے وقت پیش آیا تھا۔ اسکول میں افراتفری مچ گئی اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں پولیس اور امدادی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ علاقے کا محاصرہ کیا اور اسکول سے لوگوں کو بحفاظت نکالا۔ پولیس حملہ آور تک بھی پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اور گرفتاری دینے کو کہا تاہم مزاحمت پر اہلکاروں نے حملہ آور کی ٹانگ پر گولی مار کر زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ سویڈش میڈیا کے مطابق مشتبہ حملہ آور کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ حملے کے وقت اسکول میں 450 بچے موجود تھے جن کی عمریں 16 سے 20 سال کے درمیان تھیں۔ متعدد طلبا زخمی ہوگئے جنھیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ تاحال حکومت کی جانب سے زخمی طلبا کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی ہے تاہم مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ درجن سے زائد بچوں کو لایا گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ اسپتال کی جانب متعدد ایمبولینسوں کو جاتا ہوا دیکھا گیا ہے۔ چند طلبا کی حالت تشویشناک تھی۔ ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاہم ابھی واقعے کے محرک کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ کئی پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔ واقعے کے بعد پولیس نے اسکول کی عمارت کی تلاشی شروع کردی جبکہ احتیاطی اقدام کے طور پر فاگرستا کے دیگر آٹھ اسکولوں میں بھی لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا۔ پولیس نے علاقے کا محاصرہ ختم کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ فی الحال عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ دس سال قبل 2015 میں بھی سویڈن کے شہر ٹرول ہیٹن کے کرونان اسکول میں 21 سالہ حملہ آور نے تلوار سے حملہ کرکے ایک استاد اور 17 سالہ طالب علم کو قتل کردیا تھا۔ حملہ آور نے اپنی کارروائی سے قبل ماسک پہنے، ہاتھ میں تلوار اور سر پر ہیلمٹ لگائے دو طلبا کے ساتھ تصویر بھی بنوائی تھی جو وائرل ہوئی تھی۔ حملہ آور پولیس فائرنگ میں مارا گیا تھا۔ اُس واقعے کی تفتیش میں حملہ آور کے دائیں بازو اور تارکینِ وطن مخالف خیالات سامنے آئے تھے جس کے باعث واقعے کو ممکنہ نسلی نفرت پر مبنی حملہ قرار دیا گیا تھا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل