Saturday, August 22, 2026
 

پمز اسپتال میں اہم طبی سہولت غیر فعال، وزیراعظم کا نوٹس، تحقیقات کا حکم

 



وزیراعظم نے پمز اسپتال میں اہم طبی سہولت غیر فعال ہونے پر نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم جاری کردیا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت فعال نہ ہونے یا عدم دستیابی کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے  حقائق اور ذمہ داری کے تعین کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی۔ وزیراعظم نے کمیٹی کو معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی حقائق اور ذمہ داری کا تعین کرکے رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی، تاکہ معاملے میں مزید کارروائی قانون اور قواعد کے مطابق عمل میں لائی جاسکے۔ انکوائری کمیٹی کے چیئرمین سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ہوں گے، جبکہ سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن اور اے ایف آئی سی کے بریگیڈیئر ڈاکٹر جہانزیب علی کمیٹی کے ممبران میں شامل ہوں گے۔ دیگر ممبران میں ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیات ملک، پمز کے بریگیڈیئر ریٹائرڈ ڈاکٹر عظمت حیات اور اے ایف آئی سی کے سی ٹی اینجیو ٹیکنیشن عمر فاروق شامل ہوں گے۔ کمیٹی ضرورت کے مطابق کسی دوسرے رکن کو بھی شامل کرسکے گی۔ کمیٹی جائزہ لے گی کہ آیا پمز میں 2022 سے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کرنے کی تکنیکی صلاحیت موجود تھی۔ اگر یہ صلاحیت دستیاب تھی تو مطلوبہ تکنیکی سہولیات، انسانی وسائل اور سافٹ ویئر کس حد تک موجود تھے۔ مزید یہ کہ کمیٹی 2022 سے اب تک پمز میں کیے گئے سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے طریقہ کار، تعداد، تاریخوں اور طریقہ کار کی نوعیت کا جائزہ لے گی۔ متعلقہ اسپتال ریکارڈ سمیت تمام متعلقہ دستاویزی شواہد بھی جانچے جائیں گے۔ کمیٹی پمز کے کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کے لیے کسی باقاعدہ ریفرل میکنزم اور باہمی رابطے کا جائزہ لے گی۔ اس کے ساتھ اس پورے معاملے میں اسپتال انتظامیہ کے کردار کی بھی جانچ کی جائے گی۔ انکوائری میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے مریضوں کو معمول کے مطابق سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے لیے نجی طبی مراکز ریفر کیا جاتا رہا اور اگر ایسا ہوا تو کسی مخصوص نجی ادارے کو ترجیح دی گئی۔ کمیٹی اس امر کا بھی تعین کرے گی کہ مریضوں کو نجی مراکز بھیجنے کے نتیجے میں سرکاری اسپتال سے کتنے مالیاتی کاروبار کا رخ نجی طبی مراکز کی جانب موڑا گیا۔ اس حوالے سے دستیاب ریکارڈ اور متعلقہ شواہد کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس دوران پمز کے کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان کسی عدم رابطہ کاری، بدانتظامی یا غلط فہمی کی بھی تحقیقات ہوں گی۔ کمیٹی اس کے نتیجے میں عوامی مفاد کو پہنچنے والے نقصان اور ذمہ دار افسران یا دفاتر کا تعین کرے گی۔ کمیٹی کو معاملے سے متعلق کسی بھی دوسرے پہلو کا جائزہ لینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ حقائق اور ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد انکوائری رپورٹ پیش کی جائے۔ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن انکوائری کے دوران کمیٹی کو معاونت فراہم کرے گا۔ رپورٹ کی روشنی میں معاملے پر مزید کارروائی قانون اور متعلقہ قواعد کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل