Saturday, August 22, 2026
 

میر رضا کیس؛ مقتول کی بہن نے مشکوک معاملات کا انکشاف کردیا، ویڈیو بیان

 



میر رضا قتل کیس میں مقتول کی بہن نے اپنے ویڈیو بیان میں کچھ مشکوک معاملات کا انکشاف کیا ہے۔ نوجوان تاجر میر رضا کے قتل سے متعلق کیس کی مختلف زاویوں سے تحقیقات تاحال جاری ہیں۔ اس سلسلے میں ڈی آئی جی عامر فاروقی نے میر رضا کے آخری لمحات کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرنے پر غور کا عندیہ دیا تھا، تاہم فی الحال یہ ویڈیو سامنے نہیں آسکی۔ دریں اثنا تفتیش کے دوران میر رضا کا پہلا پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ شیخ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے اور ان کا موبائل فون بھی فارنزک جانچ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ تفتیشی ذرائع نے بتایا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید سے بھی مدد لی۔ ڈاکٹر سمعیہ سید نے میر رضا کی پوسٹ مارٹم رپورٹس میں استعمال ہونے والی طبی اصطلاحات کے حوالے سے تفتیشی ٹیم کو بریفنگ دی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر سمعیہ سید نے پوسٹ مارٹم رپورٹس سے متعلق تفتیشی ٹیم کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ طبی رپورٹس میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کے باعث تفتیشی ٹیم کو تحقیقات کے دوران مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب ڈی آئی جی عامر فاروقی نے میر رضا کے مبینہ آخری لمحات کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرنے پر غور کا اظہار کیا ہے اور اہلخانہ نے سوال اٹھایا ہے کہ پولیس کے پاس فوٹیج موجود تھی تو اسے خاندان کے ساتھ کیوں شیئر نہیں کیا گیا۔ تفتیشی ذرائع نے مزید بتایا کہ میر رضا کے کاروباری شراکت دار کو بھی شامل تفتیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس دوران میر رضا کی بہن نے خاندان کو فراہم کی گئی سیکیورٹی اچانک واپس لیے جانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ میر رضا کی بہن نے بتایا کہ ہماری درخواست پر ہمیں ایک اہلکار کی سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی، تاہم ہمیں بتائے بغیر یہ سیکیورٹی واپس لے لی گئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ مشکوک گاڑیوں کی جانب سے خاندان کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ میر رضا کی بہن نے بتایا کہ ہماری گلی کے قریب ایک مشکوک گاڑی پیچھا کرتی ہوئی آئی، تاہم ان کے والد نے دوسری گلی سے گاڑی نکال لی۔ ان کی والدہ بالکنی میں انتظار کررہی تھیں اور انہوں نے بھی مذکورہ گاڑی کو پیچھے آتے دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ گھر کے قریب پہنچے تو 2 گاڑیاں ان کا پیچھا کررہی تھیں۔ بعد ازاں ان کے والد نے فون کیا، جس کے بعد پولیس کی موبائل موقع پر پہنچ گئی۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل