Loading
کئی اسرائیلی سیکورٹی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی ترکیہ کے خلاف بیان بازی کشیدگی میں "غیر ضروری" اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب نیتن یاہو کی حکومت نے 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ترکیہ کے خلاف اپنی بیان بازی کو تیز کر دیا ہے۔
تاہم کئی سیکورٹی اہلکار ترکیہ کے ساتھ تنازعہ کو وسیع تر عوامی تصادم کی طرف نہ دھکیلنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
نیتن یاہو اور ان کی لیکود پارٹی نے تیزی سے ترک صدر رجب طیب اردگان کیخلاف بیانات کو اپنی انتخابی مہمات میں شامل کیا ہے۔
چینل 12 نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے شام کے صوبہ ادلب میں ابو الدحور ملٹری ایئربیس پر حملے کے لیے زور دیا تھا جو ترکیہ کی سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
تاہم کچھ سیکورٹی اہلکاروں نے اس کی حمایت نہیں کی جس کا مقصد انقرہ کے ساتھ براہ راست تصادم کی طرف نہ جانا ہے.
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل