Saturday, August 22, 2026
 

پروٹوکول کلچر کبھی ختم ہو سکے گا؟

 



گزشتہ ہفتے اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک عام سے منظر کو مین اسٹریم اور سوشل میڈیا نے جھٹ سے وائرل کر دیا۔ ناروے کے وزیرِ خارجہ اپنا ٹرالی بیگ تھامے بغیر کسی پروٹوکول عام مسافروں کی طرح ایئرپورٹ سے باہر نکلے لیکن میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین نے اس منظر کو حاکمیت کے روایتی پروٹوکول پر طنز اور اپنے سیاسی غصے کے اظہار کا موثر ذریعہ بنا ڈالا۔ ایک نارمل اور سادہ عمل کا اس قدر وائرل ہو جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے معاشرے میں پروٹوکول عوامی سطح پر کس قدر ناپسندیدہ ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور انتظامی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں اقتدار کی نمائش صرف کسی ایک دور، ایک حکومت یا ایک مخصوص ادارے تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ روایت ہمارے مجموعی قومی مزاج کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ کسی بھی اعلیٰ سرکاری عہدیدار یا حاکم، سیاست دان کا اسپتالوں اور ترقیاتی منصوبوں کا دورہ ہو، ہوائی اڈے پر آمد و رفت ہو یا کوئی نجی تقریب، پولیس گاڑیوں کی قطاریں، سائرن بجاتے اسکواڈز، سڑکوں کی بندش اور عام شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی ایک متفقہ روایت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ پروٹول کلچر کسی خاص سیاسی جماعت کے دور کا لازمہ نہیں رہا، بلکہ تمام ادوار کی مسلسل اور مشترکہ روایت رہا ہے۔ یہی حکمران اور سینئر افسران ملک کی حدود سے باہر بڑے سکون سے ’’ عام شہری‘‘ بن جاتے ہیں، لائن میں کھڑے ہوتے ہیں، اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں۔ ایئرپورٹ یا ہوٹل، اپنا چیک ان خود کرنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے، گاڑی کا دروازہ خود کھولتے اور بند کرتے ہیں۔ ایک پرانا واقعہ یاد آیا۔ ہم ہانگ کانگ سے واپسی کے سفر پر تھے۔ ہانگ کانگ ایئرپورٹ کے بزنس لاوئج میں ہم نے دو مسافروں کو سفید شلوار سوٹ میں ملبوس دیکھا، شباہت سے ہم وطن ہونے کا اندازہ لگایا۔ جہاز میں سوار ہوئے تو دونوں نے اپنے اپنے بریف کیس اور شاپنگ کے تھیلے اٹھائے ہوئے تھے اور انھیں سامان کے خانے میں رکھا۔ بنکاک ایئر پورٹ پر بھی انھیں اسی معمول میں دیکھا۔ تاہم لاہور ایئرپورٹ پر لینڈ ہوتے ہی منظر بدل گیا۔ جہاز پارک ہوتے ہی دونوں صاحبان سب سے پہلے اپنی نشستوں سے اٹھے۔ 46 انچ کا سینہ پھول کر 56 انچ ہو گیا۔ چہرے پر جلال کے اثار نمایاں ہو گئے۔ اتنی دیر میں جہاز کے دروازے کھلے، تین چار لوگ جہاز کی سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اندر داخل ہوئے، جھکتے ہوئے سینے پر ہاتھ رکھ کر انھیں سلام پیش کیا۔ انھوں نے انتہائی رعونت سے جواب دیا اور سامان کے خانے کی طرف اشارہ کیا۔ انھوں نے برق رفتاری سے سامان کا خانہ کھولا تو انھوں نے اپنے سامان کی طرف اشارہ کیا۔ آنے والوں نے جھٹ سے سامان سمیٹا اور سر تشریف لائیں، سر تشریف لائیں کا ورد کرتے انھیں جہاز سے نیچے لے گئے۔ منتظر دو گاڑیوں میں انھیں بٹھایا اور روانہ ہو گئے۔ یہ سب عمل دو تین منٹ میں مکمل ہوگیا۔ غیر ملکی مسافر اس واردات کو حیرت سے دیکھتے رہے۔ ہانگ کانگ سے بنکاک تک اور لاہور لینڈ ہونے تک یہ مسافر بھلے چنگے عام انسان تھے لیکن لینڈ کرتے ہی خاص ہوکر پروٹوکول کے حصار میں ’’کیا سے کیا‘‘ ہو گئے۔ اس طرح کے بے شمار مناظر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ لوگوں کو معمولی پروٹوکول کے حصول کے لیے منت ترلے اور خوشامد کرتے دیکھا۔ ماضی کے ایک بڑے آئینی عہدیدار تو اپنی آمد پر صوبائی حکومت کو مسلح اسکواڈ کے ساتھ گاڑی کے ماڈل تک کی فرمائش واضح کرتے۔ یہی طلب اور تمنا اپنے پرائے حلقے یا معمول کے دورے پر صوبائی و وفاقی وزراء کا دیکھا۔ اعلی سرکاری حکام کو بھی اسی اہتمام پر کار بند پایا۔ یہ سب کیا ہے؟ اس طرزِ فکر کو فرانسیسی سماجیات دان پیئر بورڈیو (Pierre Bourdieu) علامتی تشدد (Symbolic Violence) کا نام دیتے ہیں۔ بورڈیو کے نزدیک جب حاکم یا صاحبِ اختیار طبقہ اپنے رتبے اور طاقت کو ثابت کرنے کے لیے خاص قسم کے دبدبے کی نمائش کرتا ہے اور عوام اسے اپنا مقدر یا ایک ناگزیر امر سمجھ کر خاموشی سے قبول کر لیتے ہیں، تو یہ عوام کے ذہنوں پر مسلط ہو کر ایک خاموش ذہنی غلامی بن جاتی ہے۔ ہمارے ہاں پروٹوکول عام شہری کو یہ باور کراتا ہے کہ ریاست کے وسائل اور اس کے راستوں پر حکمران اشرافیہ کا حق فائق ہے۔ جنوبی ایشیا اور بالخصوص پاکستان میں پروٹوکول کے اس رواج کا تاریخی سرا برطانوی راج سے بھی ملتا ہے۔ انگریز استعمار کو اس بات کا بہت گہرا ادراک تھا کہ وہ چند ہزار کی تعداد میں ہو کر کروڑوں ہندوستانیوں پر محض طاقت کے زور پر طویل عرصے تک حکومت نہیں کر سکتے۔ چنانچہ انھوں نے فاصلے اور ہیبت کو حکمرانی کا بنیادی فارمولا بنایا تاکہ حاکم اور عام رعایا کے درمیان ایک واضح اخلاقی اور جسمانی فاصلہ برقرار رہے۔ 1947 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم نے اس نوآبادیاتی فریم ورک کو مٹانے اور ایک عوامی و جمہوری ریاست کا رنگ دینے کے بجائے، اس انتظامی ڈھانچے کو جوں کا توں برقرار رکھا بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اسے مزید وسعت دے دی۔ ہیبت اور فاصلے پر مبنی پروٹوکول کو ’’عہدے کے وقار‘‘ اور ’’سیکیورٹی کے تقاضوں‘‘ کے دلکش ناموں سے ضروری قرار دیا۔ پاکستان میں اس نوآبادیاتی سوچ کو مضبوط اور پائیدار بنانے میں ہمارے معاشرے کی زرعی، جاگیردارانہ اور قبائلی ساخت نے بھی کردار کیا۔ جاگیردارانہ، سرداری، مذہبی تقدیس اور قبائلی نظام میں طاقت کا مطلب بنیادی طور پر یہ رہا ہے کہ آپ کے پاس کتنا ظاہری دبدبہ ہے، ڈیرے پر کتنے اسلحہ بردار موجود ہیں اور آپ کے ایک اشارے پر مقامی قانون کس حد تک لچک دکھا سکتا ہے۔ جب یہی سوچ جمہوریت اور الیکشن کے عمل سے گزر کر ہمارے ایوانوں تک پہنچی، تو انھوں نے جمہوری اقتدار کو بھی اسی سوچ کے تابع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ڈیموکریسی کا ظاہری لباس تو زیبِ تن کر لیا گیا مگر اس کے اندر روح وہی پچھلی صدی کی نوآبادیاتی اور نوابی ہی رہی، جہاں عاجزی کو ایک ناکامی اور سادگی کو اقتدار کا ضیاع سمجھا جاتا ہے۔ اس طرز کا ایک پہلو خود عوام کا اپنا عمومی اور اجتماعی نفسیاتی رویہ ہے۔ ہمارے معاشرتی مزاج میں ایک عجیب سا تضاد دیکھنے کو ملتا ہے؛ عام لوگ جہاں ایک طرف روزمرہ زندگی میں اس پروٹوکول اور ٹریفک کی بندش پر شدید نالاں نظر آتے ہیں اور کڑھتے ہیں، وہیں دوسری طرف اگر کوئی لیڈر یا صاحبِ اختیار شخصیت سادگی اختیار کرے، قطار میں کھڑی ہو جائے یا عام گاڑی میں سفر کرے، تو ہمارا یہی معاشرتی مزاج اکثریتی طور پر اسے عاجزی اور سچائی سمجھنے کے بجائے ’’کمزور‘‘، ’’بے اثر‘‘ یا ’’اقتدار کے گر سے ناواقف‘‘ قرار دے دیتا ہے۔ پروٹوکول کلچر آپ سے آپ ختم ہو سکے گا ؟اشرافیہ تو پروٹوکول کا خودساختہ استحقاق چھوڑنے سے رہی۔ اصل کام تو عوام اور میڈیا کے کرنا کا ہے۔ وہ ’’طاقت کی اس نمائش‘‘ سے مرعوب ہونا چھوڑ دیں۔ حاکمان وقت کو ان کی کارکردگی، اخلاقیات اور قابلیت پر پرکھے نہ کہ ان کے پروٹوکول اور لاؤ لشکر کی بنیاد پر۔ ورنہ اشرافیہ تو اپنے پڑھے ہوئے سبق اور روایت کے مطابق عوام کو پروٹوکول’’ ضرورت‘‘ بتا کر جاری رکھیں گے کہ عہدے کے وقار کی مجبوری ہے، ان کی سیکیورٹی بہت ضروری ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل