Saturday, August 22, 2026
 

طالبان نے ملک بھر میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی؛ پولیس کا نام شرطہ رکھدیا

 



افغان طالبان نے نئے قانونِ شرطہ کے تحت افغانستان میں ہر قسم کے مظاہروں پر ملک گیر پابندی عائد کردی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کی وزارتِ انصاف نے ہفتے کے روز قانون جاری کیا جسے سپریم لیڈر ہبتہ اللہ اخوندزادہ کی منظوری حاصل ہے۔ اس نئے قانون کی شق 50 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کا احتجاجی مظاہرہ ممنوع ہوگا۔ قانون میں اس پابندی کے دائرۂ کار یا اس کی خلاف ورزی کی صورت میں دی جانے والی مخصوص سزا کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ پولیس کا نام ’’شرطہ‘‘ کردیا گیا طالبان نے نئے قانون میں پولیس کے لیے ’’شرطہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ قانون میں پولیس کے مختلف شعبوں کے فرائض، اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت مخالف احتجاج اور عوامی مظاہرے پہلے ہی انتہائی محدود رہے ہیں۔ نئے قانون کے ذریعے پابندی کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی ہے جس سے ملک میں اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی آزادیوں پر مزید قدغن لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ گرفتاری اور تشدد سے متعلق پولیس کو ہدایات قانونِ شرطہ میں زیرِ حراست افراد اور ملزمان کے ساتھ پولیس کے رویے سے متعلق بھی احکامات شامل ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گرفتاری کے دوران ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے ملزم یا زیرِ حراست شخص کی جسمانی صحت یا عزتِ نفس کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔ قانون کے مطابق کسی قیدی یا ملزم کو عدالتی حکم اور قانونی جواز کے بغیر لاٹھی، کوڑے، کیبل یا کسی دوسرے ذریعے سے مارنے یا جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حالیہ احتجاج اور سخت کارروائیاں مظاہروں پر پابندی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان میں حالیہ مہینوں کے دوران احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ جون میں مغربی صوبے ہرات میں خواتین کی گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کو طالبان سکیورٹی فورسز نے طاقت کے ذریعے منتشر کیا تھا جس میں متعدد خواتین زخمی ہوگئی تھیں۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل