Saturday, August 22, 2026
 

گوگل پاکستان میں: ڈیجیٹل مستقبل کا دروازہ

 



چار روز پہلے منگل کے دن 18اگست 2026ء کو اسلام آباد میں گوگل کے باقاعدہ دفتر کا افتتاح ایک ایسی خبر ہے جسے محض ایک غیر ملکی کمپنی کے دفتر کے قیام تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ پاکستان کے لیے بدلتی ہوئی دنیا میں ایک نئے موقع کی علامت ہے۔ دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں ملکوں کی طاقت کا اندازہ صرف اس کے قدرتی وسائل، صنعت اور تجارت سے نہیں بلکہ علم، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ہنرمند نوجوانوں سے بھی لگایا جائے گا۔ گوگل پاکستان کے لیے کوئی نئی کمپنی نہیں۔ وہ کئی برس سے پاکستانی طلبہ، کاروباری اداروں، اساتذہ، سافٹ ویئر بنانے والوں اور مواد تخلیق کرنے والوں کے ساتھ مختلف منصوبوں میں کام کر رہا ہے۔ 2022 میں گوگل نے پاکستان میں اپنی کمپنی رجسٹر کرائی اور مقامی دفتر قائم کیااور اب اسلام آباد میں باقاعدہ دفتر کا افتتاح اس تعلق کو ایک نئے مرحلے میں لے گیا ہے۔ یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کے پاس دنیا کے بہترین وسائل میں سے ایک موجود ہے۔ پاکستان کے پاس تیل کے بڑے ذخائر نہیں اور نہ ہی ہمارے پاس دنیا کے سب سے بڑے صنعتی کارخانے ہیں۔لیکن ہمارے پاس کروڑوں نوجوان ہیں۔یہ نوجوان اگر جدید ہنر سیکھ لیں تو ان کی منڈی صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا بن سکتی ہے۔  آج ایک پاکستانی نوجوان اپنے گھر بیٹھ کر امریکا، برطانیہ، یورپ یا مشرق وسطیٰ کی کسی کمپنی کے لیے سافٹ ویئر تیار کر سکتا ہے، آن لائن کاروبار کر سکتا ہے، گرافکس بنا سکتا ہے، ویڈیو تیار کر سکتا ہے یا دنیا کے کسی بھی حصے کو اپنی خدمات فراہم کر سکتا ہے لیکن اس کے لیے ہمارے نوجوانوں کو صرف ڈگری نہیں ہنر مند بنانا ہوگا۔ آج دنیا میں مصنوعی ذہانت یعنی Artificial Intelligence کا چرچا ہے۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کی ملازمتیں چھین لے گی، جب کہ دوسرے اسے ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔پاکستان کے لیے بہتر راستہ خوف نہیں بلکہ تیاری ہے۔ گوگل نے پاکستان کے طلبہ کے لیے اپنی مصنوعی ذہانت کی سہولت Gemini کی ایک سالہ مفت رکنیت دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ ایک اچھا موقع ہے، لیکن اصل فائدہ اس وقت ہوگا جب ہمارے نوجوان اسے صرف سوالوں کے جواب حاصل کرنے یا اسائنمنٹ لکھوانے کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ تحقیق، تعلیم، کاروبار، پروگرامنگ اور نئی ایجادات کے لیے استعمال کریں۔ پاکستان میں گوگل کی آمد کا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ پاکستان کو صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک نہیں بلکہ ٹیکنالوجی تخلیق کرنے والا ملک بننا ہوگا۔ ہم گوگل پر معلومات تلاش کرتے ہیں۔ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت سے سوال کرتے ہیں۔ ہمیں صرف یوٹیوب دیکھنے والے نہیں بلکہ یوٹیوب کے لیے عالمی معیار کا مواد بنانے والے نوجوان چاہئیں۔ صرف مصنوعی ذہانت استعمال کرنے والے نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے پاکستانی مسائل کے حل تلاش کرنے والے ماہرین چاہئیں۔ صرف سافٹ ویئر خریدنے والے نہیں بلکہ سافٹ ویئر برآمد کرنے والے ادارے چاہئیں ۔ گوگل کی جانب سے پاکستان میں Chromebook کمپیوٹرز کی مقامی تیاری کا منصوبہ بھی اہم ہے۔ اگر یہ منصوبہ درست سمت میں آگے بڑھتا ہے تو پاکستان صرف کمپیوٹر جوڑنے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ مستقبل میں پرزہ جات، سافٹ ویئر، ڈیزائن، مرمت اور تحقیق کے شعبوں میں بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے صحافت کو بھی بدلنا شروع کر دیا ہے۔ آنے والے دور میں صحافی کے لیے سب سے اہم صلاحیت صرف خبر جلدی دینا نہیں بلکہ خبر کی تصدیق کرنا ہوگی۔ پاکستانی میڈیا اور تعلیمی اداروں کو بھی مصنوعی ذہانت اور جدید ذرائع ابلاغ کے بارے میں اپنے صحافیوں کی تربیت کرنا ہوگی۔ جس طرح صنعتی دور میں سڑک، ریلوے اور بجلی ضروری تھے، اسی طرح آج تیز رفتار انٹرنیٹ، موبائل رابطہ، معلوماتی مراکز اور محفوظ ڈیجیٹل نظام ضروری ہیں۔ اگر ایک نوجوان آن لائن کام کرتا ہے اور بار بار انٹرنیٹ بند ہو جاتا ہے تو وہ عالمی منڈی میں کیسے مقابلہ کرے گا؟ اس لیے گوگل کی آمد کے ساتھ ہمیں اپنے ڈیجیٹل ڈھانچے کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ گوگل کے دفتر کا کھلنا منزل نہیں، آغاز ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ گوگل کے ساتھ مل کر ایک واضح طویل مدتی منصوبہ بنائے کہ کتنے نوجوانوں کو تربیت دینی ہے؟ کتنے طلبہ کو مصنوعی ذہانت سکھانی ہے؟ کتنے نئے کاروبار شروع کرنے ہیں؟ کتنی معلوماتی ٹیکنالوجی کی برآمدات بڑھانی ہیں ؟ کتنے مقامی کمپیوٹر اور دیگر آلات تیار کرنے ہیں ؟اگر ان سوالات کے واضح جواب اور مقررہ اہداف طے کر لیے جائیں تو آج کا یہ قدم کل بڑی معاشی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ ہمیں صرف خوش نہیں، تیار بھی ہونا ہے۔ اصل کام ہمیں خود کرنا ہوگا۔اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم ٹیکنالوجی کے صارف سے ٹیکنالوجی کے خالق بن سکتے ہیں؟ آنے والے برسوں میں وہی ممالک آگے بڑھیں گے جو اپنے نوجوانوں کو علم، ہنر اور ٹیکنالوجی سے مسلح کریں گے۔ گوگل نے پاکستان میں دروازہ کھول دیا ہے۔اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر دنیا کو دیکھتے رہیں، یا اس دروازے سے گزر کر مستقبل کی طرف قدم بڑھائیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل