Saturday, August 22, 2026
 

آنے والے کل کا پاکستان

 



کبھی بیٹھ کر یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے کیسا ملک چھوڑ کر جائیں گے۔ ایک ایسا ملک جہاں عمارتیں بلند ہوتی جائیں مگر انسان چھوٹا ہوتا جائے، جہاں سڑکیں چوڑی ہوں مگر غریب کے گھر تک جانے والا راستہ تنگ ہو، جہاں دولت کے انبار بڑھتے رہیں، مگر کروڑوں لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی، علاج اور تعلیم بس ایک خواب ہو۔  قومیں صرف اپنے ماضی سے نہیں بنتیں ، اپنے مستقبل کے تصور سے بھی بنتی ہیں، ہر نسل آنے والی نسل کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑ کر جاتی ہے۔ کوئی علم چھوڑتی ہے، کوئی آزادی کوئی انصاف، کوئی خوشحالی اور کوئی ایسا نظام جس میں انسان اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ زندگی گزار سکے، ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہم کیا چھوڑ کر جائیں گے۔ پاکستان جب بنا تو لوگوں نے کچھ خواب دیکھے تھے ۔ ان خوابوں میں صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں تھا بلکہ ایک بہتر زندگی کی امید بھی تھی، مگر آزادی کے اتنے برس بعد بھی ہماری اکثریت بنیادی سہولتوں کے لیے ترستی ہے۔ ایک طرف چند خاندانوں، گروہوں اور طبقوں کے پاس دولت، زمین ،اختیار اور مواقع کے بے پناہ وسائل ہیں اور دوسری طرف مزدور کسان کم آمدنی والے ملازمین اور غریب گھرانے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ صرف زندہ رہنے کی جدوجہد میں گزار دیتے ہیں۔ ہم نے ترقی کا مطلب بھی عجیب بنا لیا ہے۔ ایک نئی سڑک بن جائے، چند بلند عمارتیں کھڑی ہوجائیں، کسی شہر میں ایک نیا شاپنگ مال کھل جائے تو ہم اسے ترقی کہنے لگتے ہیں، لیکن ترقی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ شہر میں کتنی گاڑیاں ہیں نہ یہ کہ وہاں کتنے بچے اچھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ نہیں کہ کتنے بڑے اسپتال موجود ہیں بلکہ یہ ہے کہ غریب آدمی کیا وہاں اپنا علاج کراسکتا ہے، چند لوگوں کے بینک اکاؤنٹس بھرے ہوئے ہیں اور ایک مزدور اپنے بچوں کو عزت کے ساتھ پال سکتا ہے یا نہیں۔ ریاست اگر اپنے شہری کو تعلیم، صحت ،روزگار، رہائش اور تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر ہمیں اپنے ترقی کے تصور پر دوبارہ غور کرنا ہوگا، ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں بچے کی قسمت اس کے باپ کی جیب سے طے نہ ہو۔ جہاں ایک غریب گھرانے کا بچہ بھی ڈاکٹر، انجینئر ،استاد ،سائنس دان بننے کا خواب دیکھ سکے اور اس خواب کی قیمت اس کے والدین کی غربت نہ ہو۔ ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں مزدور کو انسان سمجھا جائے اور اس کی بھی عزت ہو۔ جو شخص سڑک بناتا ہے، عمارت تعمیر کرتا ہے، کارخانے میں کام کرتا ہے، کھیت میں فصل اگاتا ہے، شہر صاف کرتا ہے ،اسے بھی اس سماج کا اتنا ہی اہم شہری سمجھا جائے جتنا کسی دفتر میں بیٹھا ہوا، افسر یا کسی بڑی کمپنی کا مالک۔ ہمیں کسان کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا۔ جس ملک میں خوراک پیدا کرنے والا خود معاشی عدم تحفظ کا شکار ہو ،وہاں ترقی کا دعویٰ کھوکھلا ہے۔ زمین صرف ملکیت کا مسئلہ نہیں، زندگی کا وسیلہ بھی ہے، اگر کسان قرض، مہنگے بیج، پانی کی قلت اور غیر منصفانہ منڈی کے درمیان پستا رہے تو شہر کی روشنیاں اس اندھیرے کو ختم نہیں کرسکتیں۔  عورت جو اس سماج کا نصف حصہ ہے مگر آج بھی اسے برابر کے شہری کے طور پر قبول کرنے میں ہمیں دشواری ہوتی ہے، ہم ایسا پاکستان کیوں نہیں بنا سکتے جہاں لڑکی کی پیدائش پر گھر میں خاموشی نہ چھا جائے جہاں اس کی تعلیم کو ضروری سمجھا جائے، جہاں اس کی محنت کی اجرت برابر ہو اور جہاں اسے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہو۔ اقلیتوں کے لیے ایسا پاکستان ہونا چاہیے، جہاں انھیں اپنے ہی وطن میں اجنبیت محسوس نہ ہو۔ ریاست کا کام شہریوں کو ان کی شناخت کے مطابق تقسیم کرنا نہیں بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ پاکستان کی خوبصورتی اس کی یکسانیت میں نہیں بلکہ اس کے مختلف رنگوں میں ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنے صوبوں کے بارے میں بھی نئے سرے سے سوچنا ہوگا۔ وفاق طاقتور تب ہوتا ہے جب اس کی اکائیاں خود کو محفوظ بااختیار اور برابر سمجھیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم صوبائی خودمختاری اور مقامی حکومتیں کسی رعایت کا نام نہیں بلکہ جمہوری ریاست کی ضرورت ہیں۔ کراچی سے گوادر اور گلگت سے تھر تک ہر انسان کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ ملک اس کا بھی ہے۔ مگر شاید سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ہم نوجوانوں کو کیا دے رہے ہیں، ہمارے لاکھوں نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتے ہیں اور مایوسی ان کا مقدر ہوتی ہے۔ بہت سے ملک چھوڑنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ملک کے نوجوانوں کا روشن مستقبل بنانا ریاست اور سماج کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ ہمیں ایسا معاشی نظام چاہیے جس میں دولت پیدا بھی ہو اور تقسیم بھی ہو۔ بازار اپنی جگہ اہم ہے سرمایہ کاری اپنی جگہ ضروری ہے لیکن ریاست کا بنیادی فرض یہ نہیں کہ چند طاقتور معاشی گروہوں کے مفادات کی حفاظت کرے۔ ریاست کا فرض یہ ہے کہ معیشت انسان کے لیے کام کرے انسان معیشت کے لیے نہیں۔ یہ سوال بھی ہمیں خود سے کرنا ہوگا کہ آخر ایک ملک کی دولت کس کے لیے ہے، اگر قدرتی وسائل کسی علاقے سے نکلیں اور وہاں کے لوگ غربت میں رہیں تو اس دولت کی اخلاقی حیثیت کیا ہے، اگر ایک طرف خوراک ضایع ہو اور دوسری طرف بچے بھوکے سوئیں تو مسئلہ صرف غربت کا نہیں سماجی انصاف کا ہے۔ آخر میں ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو کیا ورثہ دینا چاہتے ہیں۔ صرف موٹرویز، بلند عمارتیں اور بڑے منصوبے یا ایک ایسا سماج بھی جہاں انسان کی جان کی قیمت ہو، جہاں انصاف امیر اور غریب کے لیے الگ نہ ہو جہاں بچے بھوک سے نہ مریں، جہاں تعلیم دولت مندوں کی میراث نہ ہو جہاں مزدور اپنی محنت پر شرمندہ نہ ہو اور جہاں عورت کی عزت اور جان محفوظ ہو۔ شاید پاکستان کا سب سے بڑا خواب ابھی پورا ہونا باقی ہے۔ وہ خواب کسی ایک جماعت کسی ایک طبقے یا کسی ایک نظریے کی ملکیت نہیں۔ وہ خواب ایک ایسے سماج کا ہے جہاں انسان کو اس کی دولت، طاقت، زبان، صوبے، جنس یا مذہبی شناخت سے پہلے انسان سمجھا جائے۔ ہم اپنے بچوں کو ایک مکمل اور بے عیب دنیا نہیں دے سکتے۔ کوئی نسل ایسا نہیں کر پائی لیکن ہم انھیں ایک بہتر سمت ضرور دے سکتے ہیں۔ ہم ان کے لیے ایسا پاکستان چھوڑ سکتے ہیں جہاں امید زندہ ہو۔  شاید یہی کسی قوم کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔کیونکہ سوال یہ نہیں کہ ہم نے پاکستان سے کیا حاصل کیا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم پاکستان کی آنے والی نسلوں کو کیا دے کر جا رہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل