Loading
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے اگر نئے صوبے پاکستان کے مفاد میں ہیں تو یہ ضرور بننے چاہئیں۔
طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا کہ صوبوں کی تشکیل جیسے اہم فیصلوں پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے، یہ ایسا فیصلہ ہے جسے کسی پر زبردستی مسلط نہیں کیا جاسکتا، پارلیمنٹ میں اس پر سیر حاصل بحث ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے مثبت اور صحت مند بحث کا آغاز خوش آئند پیشرفت ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور عوام کو نئے صوبوں کے معاملے پر ہونے والی بحث کا حصہ بننا چاہیے۔
طارق فضل چوہدری نے لکھا کہ بھارت نے 1950 میں صوبوں سے متعلق ایک کمیشن تشکیل دیا اور اس حوالے سے فیصلے کیے، بھارتی پنجاب سے مزید 3 صوبے، ہماچل پردیش، ہریانہ اور پنجاب وجود میں آئے۔
ان کا کہنا ہے اگر نئے صوبوں کا قیام پاکستان کے بہترین مفاد اور انتظامی بہتری کے لیے ضروری ہے تو انہیں ضرور بنایا جانا چاہیے۔ تاہم اگر یہ خدشہ ہو کہ نئے صوبوں کے قیام سے مزید تقسیم یا انتشار پیدا ہوگا تو اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آسکتی ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس حساس معاملے کو کھلے دل کے ساتھ صحت مند بحث، مشاورت اور اتفاقِ رائے کے ذریعے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر صرف پاکستان اور اس کے عوام کے مفادات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل