Loading
سینیٹ میں متعدد اہم ترمیمی بل پیش ہوئے جو کمیٹیوں کے سپرد کردیے گئے، قائد حزب اختلاف کو بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر تحریک انصاف کے ارکان شدید احتجاج کرتے رہے، کورم کی نشاندہی کرکے ایوان سے واک آوٹ کرگئے۔
پارلیمنٹ کے ایوان ابالا سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چئیرمین سیدال ناصر کی زیرصدارت ہوا، ایجنڈے پر کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرنا چاہی، جبکہ تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے قرارداد لانا چاہی۔
قائد حزب اختلاف کو بات کرنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن کے اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور نعرے بازی کی۔ ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ جو معاملہ عدالت میں ہو اس پر ایوان میں بات نہیں کی جاسکتی۔
اس سے قبل سینیٹر علی ظفر نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج و معالجہ کے معاملے پر تحریک پیش کرنے کی اجازت دی جائے، ڈپٹی چیئرمین سیدال ناصر نے قائد حزب اختلاف کو کہا کہ آپ کو ضرور وقت دوں گا، مہربانی کرکے ایوان کو چلنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ بزنس چلنے دیں، ایوان رولز کے مطابق چلے گا، آپ کی مرضی کے مطابق نہیں۔
اس دوران مشعال یوسفزئی نے سینیٹ میں کورم کی نشاندہی کردی۔ پی ٹی آئی کے ارکان احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے، جس کے بعد کورم پورا کرنے کے لیے گھنٹیاں بجائی گئیں، تاہم کورم مکمل نہ ہوسکا اور اجلاس کل دن 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل