Loading
دنیا کی بڑی جنگیں ہمیشہ توپوں کی گھن گرج سے شروع نہیں ہوتیں، کبھی ایک بندرگاہ کی خاموشی، تیل بردار جہازوں کی کم ہوتی نقل و حرکت اور سفارتی بیانات میں بڑھتی ہوئی تلخی آنے والے طوفان کی خبر دے دیتی ہے۔ مشرق وسطیٰ آج اسی نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں معیشت، سمندر، عسکری طاقت اور سفارت کاری ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو چکے ہیں کہ کسی ایک محاذ پر ہونے والی معمولی پیش رفت بھی پورے خطے کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
ایران اور امریکا کی کشمکش آبنائے ہرمز تک پہنچ چکی ہے، شام میں اسرائیل اور ترکیہ کے مفادات آمنے سامنے آ رہے ہیں اور ان دونوں بحرانوں کے درمیان پاکستان نے تہران سے براہِ راست رابطے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ محض سفارتی سرگرمی نہیں، بلکہ ایک ایسے وقت میں امن کے امکانات کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے جب غلط اندازہ بھی جنگ کی نئی آگ بھڑکا سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا دورہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی سلامتی، تجارت، توانائی، عوامی روابط اور علاقائی امن کے متعدد معاملات پہلے ہی موجود ہیں۔ موجودہ بحران میں براہِ راست رابطہ اس لیے ضروری ہے کہ غلط فہمیوں کو بڑھنے سے روکا جائے اور خطے میں کسی نئے تصادم کے امکانات کم کیے جائیں۔ پاکستان کو کسی فریق کا وکیل بننے کے بجائے رابطے کا ذریعہ بننا چاہیے، اس کی سفارتی قوت اسی میں ہے کہ وہ تہران سے اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے عرب ممالک، امریکا اور دیگر علاقائی قوتوں سے بھی بات چیت جاری رکھے۔
پاکستان کے لیے یہ توازن آسان نہیں۔ ایران اس کا ہمسایہ ہے، جب کہ امریکا اور خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اسلام آباد کے اہم اقتصادی اور سفارتی مفادات وابستہ ہیں۔ ایسے میں جذباتی صف بندی پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگی۔ اصولی طور پر علاقائی امن، ریاستی خودمختاری، بین الاقوامی قانون اور آزاد تجارت کے حق میں واضح موقف رکھنا ناگزیر ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اسے محاذ کا حصہ بننے کے بجائے مکالمے کا پل بننے کا موقع فراہم کرتی ہے، یہی کردار اس کے قومی مفاد سے بھی زیادہ ہم آہنگ ہے۔
اس بحران کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز ہے۔ دنیا کی توانائی تجارت کے لیے یہ ایک بنیادی بحری گزرگاہ ہے، اس لیے یہاں معمولی خلل بھی عالمی منڈیوں میں غیر معمولی بے یقینی پیدا کر سکتا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار میں بحری آمدورفت کی نمایاں کمی اور ایک روز میں صرف چند جہازوں کے گزرنے کی اطلاعات اس خطرے کو نمایاں کرتی ہیں، اگر ہرمز میں کشیدگی طویل ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں کے ساتھ بحری بیمہ، شپنگ اخراجات اور عالمی مہنگائی بھی متاثر ہوگی۔ اس کا نقصان صرف امریکا یا ایران کو نہیں، بلکہ ایشیا اور یورپ کی ان معیشتوں کو بھی ہوگا جو خلیجی توانائی پر انحصار کرتی ہیں۔
ایرانی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے خدمات کی فیس وصول کرنے کے مجوزہ قانون کی منظوری اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ تہران اپنے جغرافیائی محل وقوع کو اقتصادی دباؤ کے مقابلے میں ایک طاقت کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے، لیکن یہاں احتیاط لازم ہے۔ آبنائے کو دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنے سے ایران اپنے مخالفین کو ضرور پیغام دے سکتا ہے، مگر طویل بندش سے اس کی اپنی تجارت، ہمسایہ ممالک کی معیشت اور علاقائی استحکام بھی متاثر ہوگا۔ طاقت کا دانش مندانہ استعمال وہی ہے جس میں مخالف کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت کے ساتھ اپنے مفادات کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی موجود ہو۔
ایرانی حکام کی طرف سے امریکا کی اقتصادی جنگ میں شریک ممالک کو دشمن قرار دینے کی دھمکی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ پابندیوں کے دور میں ایران کو اپنے گرد زیادہ سے زیادہ سفارتی رابطے برقرار رکھنے چاہییں، نہ کہ ممکنہ طور پر ہر اختلاف رکھنے والے ملک کو مخالف صف میں دھکیل دینا چاہیے۔ تہران کی حقیقی کامیابی اس میں ہوگی کہ وہ دباؤ کے باوجود علاقائی سفارتی گنجائش برقرار رکھے۔ مزاحمت اگر سفارتی تنہائی میں تبدیل ہو جائے تو اس کی قیمت بالآخر ریاست اور عوام دونوں کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
ایران کے لیے موجودہ بحران صرف بیرونی دباؤ کا مسئلہ نہیں بلکہ داخلی معیشت کے امتحان کی صورت بھی اختیار کر چکا ہے۔ ایرانی حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ پابندیوں، مالی دباؤ اور جنگی اخراجات کا بوجھ معیشت پر پڑ رہا ہے۔ تہران امریکی دباؤ کو شکست دینے کے عزم کا اظہار ضرور کر رہا ہے، لیکن ریاستی مزاحمت کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اس کے اثرات عام شہری کی زندگی تک پہنچتے ہیں۔
ایندھن مہنگا ہونے سے صرف پٹرول کا خرچ نہیں بڑھتا، بلکہ نقل و حمل، اشیائے خورونوش اور صنعتی پیداوار کی لاگت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ایران کے لیے ضروری ہے کہ قومی مزاحمت کے بیانیے کے ساتھ معاشی مشکلات کا ایسا حل بھی پیش کرے جس سے عوام کو یہ احساس ہو کہ جنگی حالات کا بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم ہو رہا ہے۔
شام میں اسرائیل کی کارروائیاں اور ترکیہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی بحران کی دوسری خطرناک جہت ہے۔ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام ایک نئی سیاسی حقیقت کی طرف بڑھ رہا ہے، لیکن اس کی سرزمین اب بھی علاقائی طاقتوں کے مفادات کا میدان بنی ہوئی ہے۔ ترکیہ اپنی سلامتی، خصوصاً کرد مسئلے کے تناظر میں، شام میں اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اسرائیل دوسری طرف شام میں کسی ایسی عسکری موجودگی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے جو اس کی فضائی برتری یا سرحدی سلامتی کو متاثر کر سکے۔ چنانچہ ترکی کے ممکنہ فوجی کردار، فضائی اڈوں اور ریڈار نظام جیسے معاملات محض دفاعی انتظامات نہیں رہتے بلکہ طاقت کے توازن کا سوال بن جاتے ہیں۔
اسرائیل اور ترکیہ دونوں کی جانب سے سخت بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ شام میں مفادات کے ٹکراؤ کی سطح بلند ہو رہی ہے، اگر یہ کشیدگی بڑھتی ہے تو شام کی نئی حکومت سب سے زیادہ مشکل میں پڑ سکتی ہے۔ دمشق ایک طرف اسرائیل کے ساتھ براہِ راست جنگ سے بچنا چاہتا ہے، دوسری طرف اس کے اندر موجود سخت گیر عناصر بیرونی حملوں کے ردعمل میں زیادہ جارحانہ پالیسی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بیرونی فوجی کارروائی داخلی اعتدال پسند سیاست کو کمزور کر دیتی ہے اور ایسے عناصر کو تقویت دیتی ہے جو تصادم کو حل سمجھتے ہیں۔
اصل خطرہ یہ نہیں کہ خطے میں کتنے تنازعات موجود ہیں، اصل خطرہ یہ ہے کہ یہ تنازعات ایک دوسرے سے جڑ رہے ہیں۔ ایران پر اقتصادی دباؤ ہرمز کو متاثر کرتا ہے، ہرمز کی کشیدگی عالمی توانائی تجارت کو متاثر کرتی ہے، شام میں ترکیہ اور اسرائیل کا تصادم نئی عسکری صف بندی پیدا کر سکتا ہے اور اس کا اثر امریکا، عرب دنیا اور پاکستان تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ایک محدود کارروائی بھی واقعات کے ایسے سلسلے کو جنم دے سکتی ہے جسے بعد میں کوئی فریق اپنے قابو میں رکھنے کے قابل نہ رہے۔
اسی لیے اس وقت سب سے زیادہ ضرورت طاقت کے مظاہرے سے نہیں بلکہ رابطے کے تسلسل سے ہے۔ عمان کا تہران سے مذاکرات کے لیے رابطہ اور پاکستان کی سفارتی سرگرمی اس ضرورت کی اہم مثالیں ہیں۔ خطے کے ممالک کو سمجھنا ہوگا کہ کسی ایک ملک کی وقتی کمزوری پوری خطے کی طاقت نہیں بنتی، اگر ہرمز بند ہوتا ہے، شام دوبارہ جنگ کا میدان بنتا ہے یا ایران اور امریکا کے درمیان اقتصادی تصادم براہِ راست عسکری کشمکش میں بدلتا ہے تو نقصان کسی ایک دارالحکومت تک محدود نہیں رہے گا۔
مشرق وسطیٰ کو اس وقت فاتحوں سے زیادہ ایسے ذمے دار ثالثوں کی ضرورت ہے جو طاقت کے بجائے توازن پیدا کریں۔ ایران کو اپنی مزاحمت کے ساتھ سفارتی راستے کھلے رکھنے ہوں گے، امریکا کو پابندیوں کو مستقل پالیسی کے بجائے مذاکرات کی طرف جانے کا ذریعہ بنانا ہوگا، اسرائیل کو ہر علاقائی تبدیلی کو جنگی خطرہ سمجھنے سے گریز کرنا ہوگا اور ترکیہ کو شام میں اپنے مفادات کو وسیع تر علاقائی حساسیت کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ عرب ممالک بھی اپنی اقتصادی قوت کو سفارتی اثر میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
آج جغرافیہ پاکستان کو بحران کے قریب کھڑا کرتا ہے، مگر یہی جغرافیہ اسے ایک ایسے پل میں بدلنے کا موقع بھی دیتا ہے جس پر سے دشمنی کے بجائے مکالمہ گزر سکے۔ یہی راستہ خطے اور پاکستان، دونوں کے لیے زیادہ محفوظ ہے ۔ مکالمے کے ذریعے امن کے قیام کے سلسلے میں پاکستان اپنا کردار بخوبی نبھا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل