Wednesday, August 26, 2026
 

ٹرمپ کا امریکا میں شرعی قانون کے نفاذ کی مخالفت کا اعلان، ملک میں ایک ہی قانونی نظام ہونا چاہیے

 



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکا میں شرعی قانون کے نفاذ کو روکنے کی حمایت کریں گے اور ملک میں ایک ہی قانونی نظام برقرار رہنا چاہیے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے یہ موقف ایک لائیو ریڈیو انٹرویو کے دوران قدامت پسند میزبان گلین بیک سے گفتگو میں اختیار کیا۔  صدر سے سوال کیا کہ کیا وہ امریکا میں شرعی قانون پر پابندی عائد کرنے کی حمایت کریں گے، جس پر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس کی حمایت کریں گے۔  صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں بعض مقامات پر شرعی قانون کی شکل میں متوازی نظام موجود ہے اور جہاں انہیں ایسا نظر آئے گا اسے ختم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں قانون کا ایک ہی نظام ہونا چاہیے۔ ٹرمپ نے اس معاملے کو صرف امریکا تک محدود نہیں رکھا بلکہ لندن اور پیرس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان شہروں کے بعض علاقوں میں اسلامی قانون ایک الگ طرزِ زندگی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ امریکا کو ایسے کسی متوازی قانونی نظام کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ٹرمپ کا تازہ بیان امریکا میں مذہب، قانون اور تارکینِ وطن سے متعلق جاری سیاسی بحث کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ حالیہ امریکی سیاسی مباحث میں بعض ریپبلکن رہنماؤں اور قدامت پسند حلقوں کی جانب سے شرعی قانون کا موضوع بھی اٹھایا جاتا رہا ہے۔ قانونی حیثیت کیا ہے؟ امریکا میں ریاستی اور وفاقی قوانین امریکی آئین اور نافذ شدہ قانون کے تحت چلتے ہیں۔ تاہم مسلمان شہری اپنے مذہبی عقائد اور عبادات پر عمل کر سکتے ہیں، جیسے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اسی لیے شرعی قانون سے متعلق سیاسی بیانات میں یہ فرق اہم ہے کہ مذہبی اصولوں پر ذاتی طور پر عمل کرنا اور ریاستی سطح پر ایک متبادل قانونی نظام قائم کرنا دو الگ معاملات ہیں۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد یہ بحث ایک بار پھر سامنے آ گئی ہے کہ امریکا میں مذہبی آزادی اور ملکی قانون کے درمیان حدود کو سیاسی طور پر کس انداز میں بیان کیا جائے۔ دریں اثنا، سوشل میڈیا پر برطانیہ میں مبینہ طور پر شرعی قانون کے نفاذ کے مطالبے سے متعلق ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے۔ الجزیرہ کی فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق اس ویڈیو کو بعض حلقوں نے برطانیہ میں "اسلامائزیشن" کے ثبوت کے طور پر پیش کیا، تاہم ویڈیو کے دعوے کی حقیقت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔    

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل