Loading
نیپال کے وزیراعظم بالیندر شاہ المعروف ’بالن شاہ‘ بدھ 26 اگست کو ہونے والے پارلیمنٹ اجلاس میں اپنی مخصوص سیاہ عینک اتارنے کے بجائے پہنے رکھیں گے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیپال کی پارلیمنٹ میں سیاہ عینک پہن کر شرکت کرنے پر پابندی عائد ہے لیکن اس کے باوجود وزیراعظم بالن شاہ نے طبی بنیادوں پر استثنیٰ حاصل کرلیا ہے۔
جس کے لیے وزیراعظم کے دفتر نے بالیندر شاہ کی طبی رپورٹ اور ڈاکٹروں کی سفارشات وفاقی پارلیمنٹ سیکریٹریٹ کو بھجوا دی ہیں۔ ان کی آنکھ میں تکلیف ہے۔
ان کے معالجین نے روشنی سے حساسیت اور آنکھوں میں خشکی کی تشخیص کی اور آنکھوں کے قطرے استعمال کرنے کے ساتھ حفاظتی سیاہ عینک پہننے کا مشورہ دیا۔
یہ طبی سفارش اسپیکر کی جانب سے پارلیمنٹ میں سیاہ عینک پر عائد پابندی کے اس استثنیٰ کے دائرے میں آتی ہے جس کے تحت طبی وجوہات کی صورت میں عینک پہننے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
اسپیکر ڈول پرساد آریال نے 6 اگست کو سیاسی جماعتوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے ارکان کو آگاہ کریں کہ پارلیمانی کارروائی کے دوران سیاہ عینک پہننے کی اجازت نہیں ہوگی تاہم طبی ضرورت کی صورت میں استثنیٰ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
سیاہ عینک بالن شاہ کی شناخت بن چکی ہے
بالن شاہ جو پہلے ریپر اور پھر سیاست دان کے طور پر منظر عام پر آئے سیاہ عینک پہننے کے اپنے مخصوص انداز کے باعث بھی خاصے مشہور ہیں۔ ان کے حامی اسے ان کی بے باکی اور روایتی سیاسی انداز سے بغاوت کی علامت سمجھتے ہیں۔
تاہم ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں بھی عینک نہ اتارنے کا فیصلہ ان کے شخصی سیاسی انداز اور حکومتی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کے تاثر کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔
جین زی کے لیڈر
بالن شاہ کو 2025 میں نوجوانوں کی ’جن زی‘ تحریک کے نتیجے میں اُس وقت سیاسی اہمیت ملی جب احتجاجی مظاہروں کے بعد کے پی شرما اولی کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد شاہ وزیراعظم کے منصب تک پہنچے اور ان کی جماعت ’راشٹریہ سوتنتر پارٹی‘ کو پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہوگئی۔
اختیارات کے ارتکاز پر بھی تنقید
وزیراعظم بالن شاہ کو حکومت کے انداز، شخصیت پر مبنی سیاست اور اختیارات کو مرکز میں رکھنے کے حوالے سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔
ان کا جارحانہ انداز میڈیا، اپوزیشن، دانشوروں اور بعض اہم بیرونی شراکت داروں سے فاصلے کا سبب بن رہا ہے۔
ایسے میں پارلیمنٹ میں طبی اجازت کے باوجود اپنی مخصوص سیاہ عینک کے ساتھ شرکت کرنا ان کے حامیوں کے لیے معمول کی بات جبکہ ناقدین کے لیے ان کے ’مزاحمتی اور شخصی سیاسی انداز‘ کی ایک اور مثال بن سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل