Tuesday, August 25, 2026
 

میثاقِ بقاء

 



پاکستان کی سیاسی تاریخ نشیب و فراز، بحرانوں اور اقتدار کی رسہ کشی کی ان گنت کہانیوں سے عبارت ہے۔ آج وطن عزیز جس نازک، پیچیدہ اور خطرناک موڑ پر کھڑا ہے، اس کی نظیر ماضی کی تاریخ میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ملک بیک وقت کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن میں سیاسی انتشار، معاشی زبوں حالی، انتظامی تعطل اور خطے میں ابھرتے ہوئے نئے اسٹریٹجک خطرات شامل ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں سے لے کر سڑکوں پر احتجاج بلند کرتی اپوزیشن تک، محاذ آرائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ قومی مفاد پس پشت چلا گیا ہے اور ان کی جگہ انا، بدلے اور ذاتی مفادات کی سیاست نے لے لی ہے۔ سیاسی اور معاشی استحکام کا رشتہ ہمیشہ سے لازم و ملزوم رہا ہے۔ دنیا کی کوئی معیشت اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اسے ایک مستحکم، شفاف اور پائیدار سیاسی ماحول میسر نہ ہو۔ پاکستان معاشی مسائل میں پھنسا ہوا ہے، ادھر سیاسی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ جب ہر چند ماہ بعد نظام گرنے یا حکومت کی تبدیلی کی افواہیں گردش کرتی رہیں ، پارلیمان عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی اکھاڑا بن جائے، قانون کی بالادستی پر مسلسل سوالات اٹھنے لگیں تو کوئی بھی مقامی یا غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ روپے کی بے قدری، مہنگائی، کاروباری سست روی اور بیروزگاری نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ سیاسی کھینچا تانی کا سب سے خطرناک اور المناک پہلو دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے جارحانہ عزائم ہیں۔ جب کوئی ملک سیاسی، نسلی یا نظریاتی بنیادوں پر منقسم ہو جاتا ہے تو بیرونی طاقتوں اور دشمن قوتوں کو سازشوں کے جال بننے اور ریاست کو غیر مستحکم کرنے کا سنہری موقع مل جاتا ہے۔ پاکستان کے گرد و پیش میں موجود جغرافیائی حالات، خطے میں جاری کشیدگی، دہشت گردی کا نیا سر ابھارتا ہوا خطرہ اور عالمی سطح پر ہونے والی نئی تبدیلیاں تقاضا کرتی ہیں کہ ملک میں اتحاد کی فضا ہو لیکن ہماری سیاسی قیادتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے کھیل میں مصروف ہیں ۔ ہمارے داخلی حالات کا فائدہ لازمی طور پر وہ دشمن اٹھائیں گے جو روز اول سے پاکستان کی بقا اور ترقی کے خلاف گھات لگائے بیٹھے ہیں۔ اس گھمبیر صورتحال کا تقاضا ہے کہ تمام فریقین اپنی اپنی غلطیوں کا کھلے دل سے اعتراف کریں اور زمینی حقائق کو تسلیم کریں ۔ سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار کی ہوس میں ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا خودکشی کے مترادف ہے۔  پاکستان کے پاس اب مزید تجربات کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی انا اور تعصبات کو ایک طرف رکھ کر صرف اور صرف پاکستان کی بقا کے لیے ایک میز پر سر جوڑ کر بیٹھیں اور اپنے تنازعات کا حل نکالیں۔ سنجیدہ، بامقصد اور جامع قومی مکالمے کا آغاز ہی وقت کی ضرورت ہے۔ اس مکالمے کو کامیاب بنانے کے لیے ایک دوسرے کو دشمن یا غدار سمجھنے کے روایتی مائنڈ سیٹ کو دفن کرنا ہوگا ۔ قانون سازی اور قومی سلامتی کے امور میں اپوزیشن کے تحفظات اور ان کی تجاویز کو وزن دینا ہوگا۔  قید و بند کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا، اس سے ہی فریقین کے مابین اعتماد کی فضا قائم ہو گی۔ ملک کو اگلے پندرہ سے بیس سال کے لیے ایک واضح اور غیر متزلزل معاشی روڈ میپ کی ضرورت ہے جس کے تحت حکومت اور اپوزیشن مل بیٹھ کر ایک جامع میثاقِ معیشت طے کریں تاکہ اقتدار کی تبدیلی کے باوجود بنیادی معاشی اہداف متاثر نہ ہوں۔ اس تمام عمل کو پائیدار بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات پر مکمل اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا تاکہ تنازعات اور شبہات سے پاک ایک ایسا انتخابی نظام وضع کیا جا سکے جس کے نتائج کو تمام فریقین کھلے دل سے تسلیم کریں۔  پاکستان کے تمام سیاسی قائدین اور بااختیار حلقے خلوصِ نیت کے ساتھ مکالمے کا راستہ اختیار کر لیں تو بحرانوں کے گہرے بادل چھٹنے میں دیر نہیں لگے گی۔ جب ملک میں سیاسی استحکام کی فضا بنے گی، سیاسی تنازعات افہام و تفہیم سے حل ہوں گے اور پارلیمان ایک فعال اور بااختیار فورم بنے گا تو عوام میں پائی جانے والی مایوسی اور بے چینی امید کے چراغوں میں بدل جائے گی۔ سیاسی درجہ حرارت کم ہوتے ہی معیشت کے حوالے سے مارکیٹ کا اعتماد بحال ہوگا، صنعتی پہیہ پوری رفتار سے گھومے گا اور بین الاقوامی سرمایہ کار پاکستان کو ایک پرکشش اور محفوظ ریاست کے طور پر دیکھنا شروع کریں گے۔ تاریخ کے اس کٹھن موڑ پر کھڑے ہو کر ہمارے پاس غفلت یا تاخیر کی گنجائش باقی نہیں بچی۔ تاریخ افراد اور جماعتوں کے عارضی اقتدار کو یاد نہیں رکھتی بلکہ ان کے ان فیصلوں کو سنہری حروف میں رقم کرتی ہے جنھوں نے قوموں کو بحرانوں کے بھنور سے نکالا ہو۔ ہمارے رہنماؤں نے تدبر، رواداری اور باہمی برداشت کا مظاہرہ نہ کیا اور عدم استحکام کے اسی دائرے میں گھومتے رہے تو آنی والی نسلیں تاریخ کے اس خسارے کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ ریاست کو اس گرداب سے نکالنے کا راستہ صرف اور صرف ذاتی انا کی قربانی، غیر مشروط سیاسی ڈائیلاگ اور وسیع تر ملکی مفاد پر متحد ہونے میں مضمر ہے۔ یہی وہ واحد شاہراہ ہے جس پر چل کر میثاق بقاء کیا جائے جو قوم کو ایک بار پھر جوڑ دے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل