Loading
کہتے ہیں قدیم یونان میں ایک ماہر مجسمہ ساز نے اتنا حسین و جمیل پتھر کا مجسمہ تراشا کہ وہ خود اسی کے عشق میں گرفتار ہوگیا۔ وہ پتھر سے باتیں کرتا، اسے چھوتا، اس کے ساتھ جیتا اور اسی کے ساتھ اپنے مستقبل کے خواب بُننے لگا۔ اس حکایت کو صدیوں تک محض ایک رومانوی افسانہ سمجھا جاتا رہا، مگر اکیسویں صدی میں انسان نے ثابت کردیا کہ اصل مجسمے پتھر کے نہیں ہوتے، وہ ذہن کے اندر تراشے جاتے ہیں۔ آج انسان اپنے تخیل سے محبت کرتا ہے، اپنی تعمیر کردہ دنیا میں جیتا ہے اور پھر اسی کے بکھرنے پر آنسو بہاتا ہے۔
کچھ عرصہ قبل بلغاریہ کے ایک ٹیلی وژن مقابلے میں ایک نوجوان فنکارہ نے اسٹیج پر قدم رکھا۔ اس نے ایک لفظ نہیں بولا۔ اس کے سامنے کوئی اداکار بھی نہ تھا، صرف ایک کوٹ ٹانگنے والا اسٹینڈ تھا۔ چند ہی لمحوں میں وہ بے جان اسٹینڈ ایک محبوب، ایک رفیق، ایک شریک حیات اور پھر ایک یادگار میں تبدیل ہوگیا۔ جب منظر ختم ہوا تو لاکھوں لوگ خاموش تھے، مگر ان کی خاموشی ایک جیسی نہ تھی۔ کسی نے اسے لازوال محبت کی داستان کہا، کسی نے تنہائی کا نوحہ اور کسی نے انسان کے خود ساختہ فریب کا استعارہ۔
سوال یہ نہیں کہ اس فن پارے کا صحیح مطلب کیا تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ہی منظر ہر دیکھنے والے کو الگ معنی کیوں دیتا ہے؟
آج کا انسان جب کسی سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ دراصل اس وجودِ حقیقی سے محبت نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ اس شبیہہ سے محبت کر رہا ہوتا ہے جو اس نے اپنے ذہن کی فیکٹری میں خود تراشی ہوتی ہے۔شاید ہم دوسرے انسان کو ایک جیتی جاگتی، آزاد اور خدا کی پیدا کردہ مخلوق کے طور پر قبول کرنے کے بجائے، اسے اپنی خواہشات کا کوٹ ریک بنا لیتے ہیں۔
ہم اسے اپنی مرضی کے لباس پہناتے ہیں، اپنے خوابوں کی ٹوپیاں سجاتے ہیں اور پھر اس بے جان تصور کے گرد رقص کرتے ہوئے یہ گمان کرتے ہیں کہ ہمیں عشق ہو گیا ہے۔ ہم دراصل کسی اور سے نہیں، شایداپنی ہی ذات، اپنی ہی خواہش اور اپنی ہی نرگسیت کے سحر میں مبتلا ہوچکے ہوتے ہیں۔
جدید انسان کا اصل المیہ یہ نہیں کہ وہ غلط محبوب چن لیتا ہے، اصل المیہ یہ ہے کہ اس نے محبوب، محبت اور ان کے معنی متعین کرنے کا اختیار بھی خود ہی لے لیا ہے۔ جب انسان خود معنی کا خالق بن بیٹھتا ہے تو ہر رشتہ اس کے تخیل کا عکس بن جاتا ہے، حقیقت کا نہیں۔ پھر وہ دوسرے انسان سے نہیں، اپنے ہی ذہن میں تراشے ہوئے مجسمے سے محبت کرتا ہے اور اسی کے ٹوٹنے پر اس کی پوری زندگی نوحہ بن جاتی ہے۔
(جاری ہے)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل