Tuesday, August 25, 2026
 

پولیس کے نظام کی بدحالی

 



کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے۔ پولیس جدید ٹیکنالوجی کے باوجود انھیں تلاش نہ کرسکی، بعدازاں گلستانِ جوہر کے سنسان علاقے میں اس نوجوان کی لاش ملی مگر تاحال پولیس قاتلوں کی نشاندہی نہیں کرپائی۔ کراچی کے نوجوان شاہراہِ قائدین اور شاہراہِ فیصل پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ لواحقین کو خدشہ ہے کہ متعدد مقتولین کی طرح میر رضا کے قاتلوں کا سراغ بھی نہیں ملے گا اور اس کیس کی فائل بھی دیگر فائلوں میں گم ہوجائے گی۔ اس قتل کیس کے بارے میں اخبارات اور ٹی وی چینلز پر مسلسل ذکر ہوررہا ہے۔ سوشل میڈیا پر مختلف گروہ اپنے چھپے ہوئے مقاصد کے لیے نادانستگی میں مختلف معروضات کو حقیقت کی شکل دے کر پیش کررہے ہیں مگر حقائق کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کراچی پولیس نے ابتدائی دنوں میں اس کیس کو سلجھانے کے لیے سائنٹیفک بنیادوں پر کام نہیں کیا۔ روایت کے مطابق پولیس لاش ملنے کی جگہ دیر سے پہنچی۔کرائمز سین محفوظ کرنے والے ماہرین کی ٹیم بھی دیر سے پہنچی۔ آغاز میں پولیس ریکارڈ میں یہ نامعلوم لاش تھی، پولیس والے نامعلوم لاشوں کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتے، عموماً نامعلوم لاشیں غریبوں کی ہوتی ہیں۔ ان میں کچھ ٹریفک حادثات کا شکا رہوجاتے ہیں اور کچھ ذاتی وجوہات پر قتل ہوتے ہیں جب کہ دیگر کی لاشیں خودکشی کرنے والوں کی ہوتی ہیں ۔  شاید ابتدائی مرحلے میں میر رضا کی لاش ملنے پر یہی پالیسی اختیار کی گئی ۔ لاش کا پہلا پوسٹ مارٹم ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر نے کیا۔ سول سرجن نے کئی دنوں تک اس رپورٹ کو اپنی میز پر رکھا۔ کراچی کے سول سرجن اعلیٰ تعلیم یافتہ ،Forensic Expert اور ایک میڈیکل یونیورسٹی میں پروفیسر کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ انھوں نے گزشتہ دنوں ایک انٹرویو میں اس بات کا اقرار کیا تھا کہ وہ چار برسوں میں اس وقت سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔ انھوں نے اس رپورٹ کے اجراء کے بعد اس کی خامیوں کی نشاندہی کی۔ جب مجسٹریٹ کے حکم پر میر رضا کی قبر کشائی کا فیصلہ ہوا تو خاتون سول سرجن کی قیادت میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا، پھر ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے اس میڈیکل بورڈ میں کچھ اور ماہرین کو شامل کیا گیا جس پر مقتول کے والد نے عدم اعتماد کا اظہار کیا، یوں پھر ایک نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جس نے پوسٹ مارٹم کیا۔ سوال یہ ہے کہ بغیر کسی وجہ کے میڈیکل بورڈ تبدیل کیوں کیا گیا ؟جس سے اس مقدمہ کے بارے میں کنفیوژن پیدا ہوئی۔ اگرچہ حکومت سندھ نے ایک اہم فیصلے میں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ، میر رضا کے والدین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کی تجویز دی جس کی بناء پر یہ فیصلہ عملی شکل اختیار نہیں کرسکا۔ وزیر داخلہ ضیاء النجار خود میررضا کے گھر گئے اور اہل خانہ کو مکمل تعاون کا یقین دلایا ۔  ابتدا میں پولیس افسران یہ کہتے ہیں کہ یہ خودکشی کا معاملہ ہے، وہ اہل خانہ کے تعلقات، مقتول کی لاپتہ ہونے والی رات کو سرگرمیوں، اس کے مقروض ہونے اور دیگر شواہد کی بناء پر خودکشی کے مفروضے کو عام کرتے رہے مگر پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ان کا مفروضہ ہوا میں تحلیل ہوگیا۔ نئی تحقیقاتی ٹیم کی تحقیقات سے ہر روز ایک نیا انکشاف سامنے آتا ہے۔ اس انکشاف پر غور کرنے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ پہلی تحقیقاتی رپورٹ نقائص سے بھری ہوئی تھی۔ مقتول کے وکیل نے کہنا ہے کہ نئی تحقیقاتی ٹیم بھی خودکشی کے مفروضہ کے گرد گھوم رہی ہے ۔ انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خود اس کیس کی نگرانی کریں۔ پولیس کا موقف ہے کہ اب تک 40 افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں، ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں جنھوں نے متوفی کو کروڑوں روپے قرض کے طور پر دیے تھے۔  اس موقع پر میر مرتضیٰ قتل کیس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ناصر اسلم زاہد کی رپورٹ کا ذکر کرنا بڑا مناسب لگتا ہے۔ میر مرتضیٰ بھٹو ، سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت میں اپنی جلاوطنی ختم کرکے پاکستان آئے تھے، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو چاہتی تھیں کہ وہ ابھی پاکستان نہ آئیں۔ بہرحال میر مرتضیٰ بھٹو وطن واپس آگئے اور سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، انھوں نے اپنی ایک علیحدہ پارٹی قائم کرلی تھی۔ 20 ستمبر 1996کو رات گئے ان کی قیام گاہ 70 کلفٹن کے قریب پولیس کے مسلح دستے سے تصادم کے دوران وہ جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے کے عینی شاہد ایک سینئر رپورٹر کہتے ہیں کہ پولیس والے زخمی مرتضیٰ کو فوری طور پر اسپتال نہیں لے گئے ، انھیں کافی دیر تک فٹ پاتھ پر بٹھائے رکھا، اس وقت مرتضیٰ کے منہ سے خون بہہ رہا تھا مگر پولیس والے کسی اشارے کے منتظر تھے، انھیں سابقہ مڈ ایسٹ اسپتال لے جایا گیا جہاں بنیادی سہولتیں موجود نہیں تھیں۔ اس ٹریبونل کی کارروائی کئی ماہ تک جاری رہی تھی اور سیکڑوں صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں میر مرتضیٰ بھٹو کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں خامیوں کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا تھا۔ رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ میر مرتضیٰ کی لاش کا قانون کے مطابق پوسٹ ماٹم نہیں ہوا تھا، اس بناء پر ٹریبونل کو میڈیکل سرٹیفکیٹ، گواہوں، شہادتوں اور اسپتال کے ریکارڈ پر انحصار کرنا پڑا۔ ٹریبونل نے اس صورتحال میں پولیس فورس کی طاقت کے غیر قانونی استعمال اور اہم شخصیتوں پر گولیاں چلانے کے احکامات دینے والے حکام کا پتہ چلانے پر زیادہ زور دینا پڑا تھا، یہی وجہ تھی کہ پولیس افسران سمیت جو افراد اس مقدمے میں ملوث قرا ر پائے تھے، انھیں عدالتوں نے رہا کردیا اور پولیس افسران دوبارہ اپنے عہدوں پر بحال ہوگئے۔ ناصر اسلم زاہد ٹریبونل کی رپورٹ کے مندرجات پر بعد میں آنے والی حکومتوں نے بھی غور نہیں کیا اور اس رپورٹ پر غور ہوتا اور پولیس کی تحقیقات ،میڈیکل لیگو افسر کے فرائض،ان کے کام کے ضوابط کو بہتر بنانے کے لیے غور و فکر ہوتا تو شاید مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے حقائق سامنے آجاتے۔  جدید دستیاب Forensic Scienceمیں جو تبدیلیاں آئی ہیں اور خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نئے ٹولز کے استعمال سے جرائم کی تحقیقات کا طریقہ کتنا آسان ہوگیا ہے ۔اس کی بنیاد پر پولیس کے محکمے کی تنظیم نو ہوتی تو آج کراچی کے عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے نہ ہوتے، اس وقت تو یہ حالت ہے کہ اگر پولیس حقیقی مجرم کو پکڑ بھی لیتی ہے تب بھی عوام پولیس پر یقین نہیں کرتے۔  کراچی شہر سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی کی بناء پر بہت سے تضادات کا شکار ہے۔ عجیب صورتحال یہ ہے کہ حکومت ان تضادات کو کم کرنے کے باوجود ایسے اقدامات کرتی ہے کہ تضادات گہرے ہورہے ہیں اور جس کا فائدہ مخصوص مفادات کے حامل گروہ اٹھارہے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ میٹروپولیٹن پولیس کے قیام کے لیے سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ اب حکومت سندھ نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے مگر اہل خانہ اس پر تیار نہیں ہیں، یوں معاملہ مزید گھمبیر ہوگیا ہے۔ ضروری ہے کہ سندھ میں پولیس کو ایک خودمختار ادارہ ہونا چاہیے۔ پولیس میں تقرریاں میرٹ پر ہونی چاہئیں اور پولیس کو میرٹ پر فرائض انجام دینے چاہئیں۔ جرائم کی تحقیقات کے لیے ہر پولیس اسٹیشن کو خاطرخواہ فنڈز ملنا چاہیے اور پولیس میں احتساب کا نظام سخت ہونا چاہیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل