Tuesday, August 25, 2026
 

اس چمن کو کبھی صحرا نہیں ہونے دوں گا

 



’’لوگوں کو گدگدانے اور ہنسانے والے معروف شاعر اور باکمال منتظم ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے مجھے اپنی مزاحیہ شاعری کی کتابوں کے مجموعے کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آپ اس پر گفتگو بھی کریں گے۔ میں نے کہا ’’بڑے بڑے ادیب اور شاعر آپ کے مدّاح ہیں، وہ بات کریں تو زیادہ مناسب ہے۔‘‘ کہنے لگے ’’نہیں آپ بھی تو رائٹر ہیں۔‘‘ میں نے کہا ’’پولیس والے تو ایف آئی آریں اور ضمنیاں لکھنے کے عادی ہوتے ہیں، آپ دیکھ لیجیے۔‘‘ انھوں نے اصرار کیا تو میں ناں نہ کرسکا۔ دوسرے روز میں نے تقریب کی تفصیل یعنی time and place وغیرہ جاننے کے لیے فون کیا تو میرے منہ سے نکل گیا، ’’ڈاکٹر صاحب جائے وقوعہ کونسی ہے؟‘‘ کہنے لگے ’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، میں نے آپ کو کسی واردات کی اطلاع نہیں دی، ایک ادبی تقریب کی دعوت دی ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’معاف کیجیے پرانی محکمانہ زبان منہ سے نکل جاتی ہے، آہستہ آہستہ ہی چھوٹے گی، ؎ چُھٹتی نہیں ہے، منہ پہ یہ بولی چڑھی ہوئی ۔‘‘ انھوں نے کہا ’’تقریب اکیڈیمی آف لیٹرز کے آڈیٹوریم میں ساڑھے چار بجے شروع ہوگی اور ساڑھے چھ بجے اختتام پذیر ہوجائے گی۔ اختتام والی بات اس لیے بتارہا ہوں کہ پرانی زبان کے زیرِ اثر آپ یہ نہ پوچھ لیں کہ ’’مجمع کس وقت منتشر ہوگا۔‘‘ ڈاکٹر انعام صاحب کے ہاں موضوعات کا تنّوع بھی ہے اور فراوانی بھی۔ وہ نہ کبھی افلاسِ تخیّل کا شکار ہوئے ہیں اور نہ ہی اقتصادی افلاس کا۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ شروع سے ہی کسی نہ کسی اچھے ادارے سے منسلک رہے ہیں، ورنہ میں جانتا ہوں کہ شاعروں اور بیرونی مداخلت کے بغیر رشوت سے پرہیز کرنے والے پولیس افسروں کے معاشی حالات آج کل کے کسان کی طرح ابتر ہی رہے ہیں۔کسانوں کی سن لیں۔ ہمارے گاؤں کا ایک کسان اپنی فصل کو پانی دے رہا تھا کہ اس کے پاس سے گذرتے ہوئے دوسرے علاقے کے ایک آدمی نے اس کی آمدنی پوچھنے کے لیے سوال کیا ’’چوہدری! خرچہ کڈھ کے کیہہ بچ جاند ا ای؟‘‘ (چوہدری! اخراجات نکال کر آپ کو فصل میں سے کتنی بچت ہوجاتی ہے) کسان نے جواب دیا ’’اے جیہڑا توں مینوں چوہدری آکھیا اے بس ایوا کُج ای بچدا اے۔‘‘ (یہ جو آپ نے مجھے چوہدری کہہ کر مخاطب کیا ہے، بس یہی میری بچت اور آمدن ہے) آج بلاشبہ پروفیسر انور مسعود صاحب کے بعد مزاحیہ شاعری میں سب سے بڑا نام انعام الحق جاوید کا ہے۔ میرا ان سے پہلا تعارف اس وقت ہوا جب میں ایک نوجوان پولیس افسر تھا اور لاہور میں تعینات تھا۔ ایک روز صبح اٹھتے ہی کسی اخبار میں ان کا قطعہ نظر سے گزرا: اِدھر ناکے پہ ناکا چل رہا ہے اُدھر ڈاکے پہ ڈاکہ چل رہا ہے اِدھر منصوبہ بندی کے ہیں چرچے اُدھر کاکے پہ کاکا چل رہا ہے قطعے سے گدگداہٹ بھی ہوئی اور مسکراہٹ بھی آئی۔ میں تو قطعے کے طنز اور مزاح سے لطف اندوز ہوا، مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس سے پولیس کے کچھ دفتروں میں بھونچال آجائے گا۔ اس کے اگلے روز میں دفتر پہنچا ہی تھا کہ انوسٹی گیشن کے انچارج ایس ایس پی کا فون آیا کہ ’’فوراً میرے دفتر پہنچیں۔ بہت سیریس کیس ہے۔‘‘ میں نے پوچھا ’’کیس ڈاکے کا ہے یا اغوا کا‘‘ کہنے لگے اس سے بھی سنگین ہے فوراً پہنچو۔ میری ایک میٹنگ تھی جس سے فارغ ہوکر میں ان کے دفتر میں کچھ تاخیر سے پہنچا تو تین پولیس افسر وہاں پہلے سے موجود تھے، مجھے دیکھتے ہی ان میں سے ایک کہنے لگا ’’مجرم کا جرم بہت سنگین ہے، ہم نے متفقہ طور پر مجرم کے لیے جو سزائیں تجویز کی ہیں، ان کے بارے میں آپ کی رائے درکار ہے۔ اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا جو سزائیں تجویز ہوئی ہیں، ان کے مطابق پولیس مقابلہ بھی خارج از امکان نہیں ہے‘‘ یہ سن کر میں ٹھٹک کر رہ گیا اور کہا ’’مجھے مجرم کا نام اور کام بتاؤ‘‘ ایک ایس پی نے کہا ’’اس کا نام ہے انعام الحق جاوید اور جرم یہ ہے، انھوں نے اخبار میں ناکے اور ڈاکے والا قطعہ میرے سامنے رکھ دیا۔ میں دیکھ کر پہلے مسکرایا اور پھر کہا کہ کچھ عقل کو ہاتھ مارو۔ ایک مزاحیہ شاعر کے light humourous اشعار انجوائے کرنے کے بجائے آپ نے عجیب طوفان برپا کردیا ہے، انھوں نے بیک زبان کہا ’’اس نے ادارے پر حملہ کیا ہے اور ادارے پر حملے کا مطلب ہے، ملکی سلامتی پر براہِ راست حملہ، اس جرم کی سخت ترین سزا ملنی چاہیئے۔‘‘ میں نے کہا ایک بے ضرر سے شاعر کا Encounter کروگے تو وہی گھسی پٹی کہانی بناؤ گے کہ اس کے ساتھی اسے چھڑانے کے لیے آئے جن کی فائرنگ سے یہ ہلاک ہوگیا، جانتے ہو اس کے ساتھی کون ہیں؟ ملک کے نامور شاعر جناب افتخار عارف، عطاء الحق قاسمی، ڈاکٹر نجیبہ عارف وغیرہ۔ اپنی کہانی میں جب لکھو گے کہ ایک طرف سے عطاء الحق قاسمی نے ہینڈ گرنیڈ مارا اور دوسری طرف سے نجیبہ عارف کلاشنکوف لے کر حملہ آور ہوئیں تو اسے کون مانے گا؟ کہنے لگے ’’نہ مانیں، ہماری کہانی پہلے کون مانتا ہے، اس بار نہیں مانیں گے تو کیا فرق پڑے گا‘‘ دوسرے افسر نے کہا ’’چلیں آپ کہتے ہیں تو پولیس مقابلے والا آپشن ختم کردیتے ہیں مگر اس کے خلاف کیس تو ضرور بنے گا‘‘ میں نے پوچھا کونسا؟ کہنے لگا، اغوا کا کیس بنائیں گے۔ میں نے کہا ’’ویسے تو اپنی منکوحہ کے علاوہ کسی بھی مشکوک کردار کی خاتون کے ساتھ پکڑے جانے یا بھاگ جانے کی حسرت ہر شاعر کے دل میں ہوتی ہے مگر کیس بنانے کے لیے ایک عدد زندہ عورت کاہونا بھی ضروری ہے اور خاتون کوئی چرس نہیں جو آپ تھانے کے مال خانے سے لے کر ڈال دیں‘‘ اس پر ایس ایس پی نے کہا دیکھیں کس قدر سنگین جرم ہے اس کا، پولیس کے ناکوں کا سرِعام مذاق اڑا رہا ہے۔ اغوا کا نہیں تو منشیات کا کیس تو ڈالیں گے۔ کچھ نہ کچھ تو اس پر ضرور ڈالیں گے۔‘‘ میں نے کہا ’’اگر کچھ ڈالنا ہی ہے تو اسے بلا کر اس کے گلے میں ہار ڈالو، چائے پلاؤ اور اس کے طنزومزاح سے لطف اٹھاؤ، شاعر اور رائٹر دراصل افراد اور اداروں کے بدنما داغوں کی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ ہم اپنے دامن سے وہ داغ صاف کردیں۔ رہی ادارے کی عزت کی بات تو ادارے کو بھی سوچنا چاہیئے اور ایسے غلط اور برے کام نہیں کرنے چاہیئیں جن کے باعث دوسروں کو چٹکی کاٹنے یا اس کا مذاق اڑانے کا موقع ملے۔‘‘ اگرچہ انھوں نے میری باتوں کو پولیس کے محکمانہ مفاد کے خلاف قرار دیا مگر میرے اصرار پر وہ مقدمہ درج کرنے سے باز رہے۔ خواتین وحضرات! ڈاکٹر انعام الحق صاحب ایک جیّد شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ پائے کے منتظم بھی ہیں۔ وہ کئی سال تک قلم اور کتاب کا نور پھیلانے کے لیے اسلام آباد کے پاک چائنہ سینٹر میں انتہائی شاندار اور یادگار کتاب میلے سجاتے رہے ہیں جو اسلام آباد کے شہریوں کو ہمیشہ یاد رہیں گے۔ ان کتاب میلوں نے نہ صرف اسلام آباد کو ایک ثقافتی شناخت دی بلکہ دارالحکومت کی سماجی، ادبی اور ثقافتی زندگی میں ایک تابناک روایت کا اضافہ کیا۔ آخر میں یہ کہوں گا کہ اِس ہال میں پڑھنے اور لکھنے والے خواتین وحضرات بیٹھے ہیں، آپ جیسے پڑھے لکھے اور ملک کا درد رکھنے والے حسّاس لوگ سمجھتے ہیں کہ صحنِ چمن میں اندھیرا بڑھ رہا ہے۔ لاقانونیت، بدامنی، بے انصافی اور عدمِ استحکام کا اندھیرا۔ اور روشنی کم ہورہی ہے۔ حرف کی حرمت کی روشنی، قانون کی حکمرانی کی روشنی اور عدل اور انصاف کی روشنی۔ ان حالات میں ہم میں سے ہر شخص اندھیرا کم کرنے کے لیے اپنے اپنے حصے کی شمع روشن کرے اور ساتھ وطنِ عزیز کے حوالے سے یہ عہد کرے کہ اس چمن کو کبھی صحرا نہیں ہونے دوں گا اپنی دھرتی میں اندھیرا نہیں ہونے دوں گا دفن ہوجائے گا خود رات کے اندھیروں میں جو یہ کہتا ہے سویرا نہیں ہونے دوں گا (یہ گفتگو/ تقریر، کلیاتِ جاوید کی تقریب میں کی گئی، جس میںوفاقی وزیر قومی ورثہ کے علاوہ ڈاکٹر نجیبہ عارف، سیّد طاہر شہباز اور ڈاکٹر ارشد محمود نے بھی اظہارِ خیال کیا)

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل