Loading
ہر زمانے میں ترقی کرنے کے اپنے پیمانے اور انداز ہوتے ہیں۔ ہمارا عہد سائنس اور ٹیکنالوجی کے انقلاب کا ہے۔ آئے دن کائنات کے پوشیدہ راز منکشف ہو رہے ہیں اور اظہار دنیا کے تناظر بدل رہے ہیں۔ اس علمی انقلاب میں پاکستانی نسلِ نو کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک زمانہ گزر گیا ہم متحرک نہ رہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ ملکی حالات خصوصاً سیاسی معاملات کی وجہ سے تعلیمی معیار جوں کا توں رہا۔
ایک وہ وقت تھا جب دنیا ہر اصول اور جدت کے لیے ہمارے اسلاف کی جانب دیکھتی تھی۔ نظامِ عالم ہم طے کرتے تھے۔ ہر شعبہ ہائے زندگی یعنی سائنس، ریاضیات، شماریات، فلکیات، معدنیات، حتیٰ کہ فنونِ لطیفہ تک میں ماہر مسلمانوں کا طوطی بولتا تھا۔ لیکن آج صورتحال اس کے برعکس ہے۔ گلوبل آرڈر کی ترقی میں ہمارا کوئی کردار نہیں ہے۔ مانا کہ ہمارا ملک ترقی پذیر ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ہم غربت، بے روزگاری، آبادی میں تیزی سے اضافہ، قدرتی وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور بے شمار مسائل سے نبد آزما ہیں۔
تاہم کچھ ایسا ہی حال ہمارے پڑوسی ملک بھارت کا ہے، لیکن ایک مضبوط تعلیمی نظام کی وجہ سے وہاں کے نوجوان دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ ہمارے ہم عصر خلائی ٹیکنالوجی (اسپیس ٹیکنالوجی) کے ذریعے ستاروں کے جہاں تسخیر کر کے نئی دنیا بسانے کے خواب دیکھ رہے ہیں، وہ آسمانوں کی حدوں کو چھونے کی آرزو رکھتے ہیں۔آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور روبوٹک ٹیکنالوجی کے ذریعے تمام شعبہ ہائے زندگی میں جدت اختیار کر رہے ہیں، لیکن ہمارے ملک کے ناقص نظامِ تعلیم اور سیاسی طور پر غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے ہماری نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے مواقع میسر نہیں ہیں۔
اسی طرح جیولوجیکل یا ارتھ سائنسز میں عدم دل چسپی اور ان سے لاعلمی، پاکستان جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ملک کو اپنے معدنی وسائل سے استفادہ کرنے کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اب ضروری ہوگیا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی نظام کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، مستقل اور مربوط پالیسیاں بنائی جائیں جنھیں تبدیل کرنے کا حق کسی بھی حکم راں کو حاصل نہ ہو۔ تمام ملک میں تعلیم کا معیار یکساں ہو، سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں یکساں نصاب پڑھایا جائے تاکہ امیر غریب کی تقسیم ختم ہوسکے اور غربت کی وجہ سے ہمارے وہ بچے جو باصلاحیت ہونے کے باوجود موجودہ غیرمنصفانہ نظام کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، وہ اپنی صلاحیتیں آزمائیں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے میں انھیں کوئی دقت پیش نہ آئے۔ ہمیں اپنی نسلِ نو کو مستقبل کی مارکیٹ اور صنعتی تقاضوں کے مطابق ماہر افرادی قوت بنانا ہوگا، ان کے ہاتھوں سے موبائل فون لے کر کتابیں پکڑانی ہوں گی اور تعلیمی نظام کو اتنا دل چسپ بنانا ہوگا کہ بچے خود ہی اس کی جانب راغب ہوں۔ نسلِ نو کو ترقی یافتہ ممالک کے مادی اور پرتعیش طرزِزندگی کے سحر سے نکالنا ہو گا تاکہ وہ ترقی یافتہ دنیا سے بے حیائی اور عارضی بدنما مادی تخیلات قبول کرنے کی بجائے ان کی ترقی کے وہ بنیادی اصول اپنائیں جن پر کاربند ہوکر دنیا نے زمانے کی ترقی کا رخ اپنی طرف موڑ لیا ہے۔
فطرت انصاف پسند ہے، وہ بلاوجہ کسی قوم کے سر پر حکم رانی کا تاج نہیں سجاتی، اپنے آپ کو اس قابل بنانا پڑتا ہے کہ نظامِ عالم کا بوجھ اٹھاسکیں۔ عروج کسی ایک پہلو میں ترقی کرنے سے نہیں آتا، قوم کے معماروں کو بیک وقت ہر شعبۂ زندگی میں آگے بڑھنے اور ملک میں رہتے ہوئے ملکی وسائل کو بروئے کار لا کر ترقی کرنے کے فن میں ماہر کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی اپنے بنیادی عقائد، روایات اور فلسفۂ حیات پر کاربند رہتے ہوئے آگے بڑھنے کے اطوار سکھانے ہوں گے۔
موجودہ دور میں دنیا جس تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس دوڑ میں پاکستانی نوجوانوں کو شامل کرنے اور اپنا لوہا منوانے کے لیے ایسا تعلیمی نظام ترتیب دینا ہو گا جس کی بنیاد اسلام کے اصولوں پر رکھی جائے اور مادیت کے تمام شعبوں میں جدید سائنسی و تکنیکی مہارتوں کو شامل کیا جائے، تاکہ ہمارے نوجوان نہ صرف دینی اور اخلاقی قدروں کے امین بنیں بلکہ عالمی سطح پر قوم و ملک کی قیادت کا فریضہ بھی احسن طریقے سے انجام دیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل