Loading
نیپال اور تبت کی سرحد پر اچانک آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
نیپال کے ٹورازم بورڈ کے مطابق ہلاکتیں 150 ہوگئیں جبکہ سیکڑوں سیاح لاپتا ہیں جن میں 100 سے زائد بھارتی شہری اور 12 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔
تبت سے سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں پانی اور کیچڑ کا ایک بڑا ریلا سرحدی گزرگاہ کی عمارتوں سے ٹکراتا دکھائی دیتا ہے۔
نیپال سے آنے والی تصاویر میں بھی سیلابی ریلے کے اچانک آنے پر لوگوں کو جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب بھاگتے دیکھا جا سکتا ہے۔
نیپال کے وزیر خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس تباہ کن سیلاب کے پیچھے ممکنہ طور پر زلزلہ اور اس کے نتیجے میں برفانی تودہ گرنے کا واقعہ ہو سکتا ہے۔
تاہم حادثے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب تبت میں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے واقعے پر ذاتی طور پر ہدایات جاری کی ہیں۔
چینی حکام نے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے پر زور دیا ہے۔
نیپال میں اس قدرتی آفت کو 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد ملک کی سب سے بڑی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔ 2015 کے زلزلے میں تقریباً 9 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق سب سے بڑا چیلنج دشوار گزار پہاڑی علاقے، خراب موسم اور سیلاب کے باعث متاثرہ مقامات تک رسائی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں لاپتا سیاحوں سمیت دیگر متاثرین کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل