Loading
شہر قائد کے ناظم آباد گول مارکیٹ میں واقع نجی اسپتال میں اس وقت ایک دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب ایک 38 ماہ کی حاملہ خاتون کو ڈیلیوری کے لیے لایا گیا مگر آپریشن کے بعد ڈاکٹرز نے خاتون کے حاملہ ہونے سے انکار کر دیا جس پر خاتون کے ورثاء نے شدید احتجاج کیا۔
خاتون کے ورثاء نے اسپتال انتظامیہ پر نومولود بچے کو مبینہ طور پر غائب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی جس کے بعد پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔
متاثرہ شخص ارشد اقبال کے مطابق وہ اپنی اہلیہ کو ڈیلیوری کے لیے نجی اسپتال لائے تھے جہاں ان کی اہلیہ کا آپریشن کیا گیا تاہم آپریشن کے بعد ڈاکٹرز نے بتایا کہ بچہ موجود نہیں ہے۔
ارشد اقبال کا کہنا ہے کہ ان کی اہلیہ کے حمل سے متعلق تمام الٹراساؤنڈ رپورٹس موجود ہیں اور 38 ہفتوں کا مکمل ریکارڈ بھی موجود ہے جس سے حمل کی تصدیق ہوتی ہے لیکن آپریشن کے بعد ڈاکٹرز یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی اہلیہ حاملہ ہی نہیں تھیں۔
شوہر کے مطابق آپریشن کے بعد ڈاکٹرز مبینہ طور پر پیٹ کھلا چھوڑ کر وہاں سے چلے گئے جس کے بعد معاملہ مزید پراسرار ہوگیا۔
واقعے کے بعد بچے کی والدہ کو طبی امداد کے لیے نارتھ ناظم آباد کے ایک نجی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
دوسری جانب ناظم آباد تھانے کی پولیس نے واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے اور نومولود کی تلاش کے لیے نجی اسپتال میں نصب کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق اسپتال کے آئی ٹی شعبے سے وابستہ ایک ملازم کو مریضوں کے لباس میں بھی پولیس نے پکڑا ہے جس کی مدد سے کیمروں کی فوٹیج تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
پولیس مختلف پہلوؤں سے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ اسپتال انتظامیہ پر نومولود کو غائب کرنے کے الزام کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ واقعے کی اصل حقیقت تحقیقات اور دستیاب شواہد سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل