Thursday, August 27, 2026
 

کالانعام کا فرض

 



بات کچھ نئی سی ہے اور پاکستانیوں نے قسم کھا رکھی ہے کہ کسی بھی نئی چیز یا بات کو منہ نہیں لگائیں گے اورانھی ’’پرانوں ‘‘ کو باربار آزماتے رہیں گے،انھی ’’خدمت گاروں‘‘ کو منتخب کرکے اسمبلی میں بھیجتے رہیں گے ، پھر توبہ توبہ بھی کرتے رہیں گے اورپھر میرتقی میر کی طرح اسی ’’عطار‘‘کے اسی ’’لونڈے‘‘ سے وہی دوا لیتے رہیں گے ؎ جس نے سوباردل کو توڑا ہے  ہم ابھی تک ہیں اس کے دیوانے  لیکن جب دلائل پر دلائل، دلائل پر دلائل کا ڈھیر لگادیں اورجدید کالم یا طومارنگاری کی دانش بگھاریں گے تو آپ قائل ہوجائیں گے کہ ؎ گرچہ چھوٹی ہے ذات بکری کی دل کو لگتی ہے بات بکری کی  اب یہاں شاید اس بات پر بھی سوال اٹھائیں گے کہ ہم نے خود کو ’’بکری‘‘ یا بکرا کیوں کہا ۔تو ہم پہلے ہی سے وجہ بتا دیں گے ۔ جو روزانہ ذبح ہوتا ہو جسے ہر کوئی ہرجگہ ہروقت ذبح کرتا ہو تو وہ خود کو ’’بکری‘‘ نہیں تو اورکیا کہہ سکتا ہے ، بقول مرشد جسے نصیب ہو روز سیاہ میرا سا وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو  ویسے بھی آج کل سیاسی اور انتخابی میدان میں سارے ہی سانڈ بھینسے اور ہاتھی ہی ہوں، تو عام آدمی بیچارا کس شمار وقطار میں شامل ہوگا ۔ ہاں تو ہم جو نئی بات بتانے جا رہے ہیں وہ بات واقعی نئی بات ہے حالانکہ اس دنیا میں کبھی نہ کوئی نئی بات ہوئی ہے نہ ہوگی۔  صرف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں صرف اپنے پاکستان عرف ’’بیانستان‘‘ کو لے لیجیے، چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے چودہ اگست دوہزار چھبیس تک آپ نے کوئی نئی بات نیا بیان سنا یا پڑھا ہے ؟ لیکن ہماری یہ نئی بات بالکل نئی نویلی نئی نکورہے،گارنٹی اور ورانٹی دونوں کے ساتھ … اوراس بات پر ہم کافی عرصے سے سوچتے اور بچارتے رہے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ یہ جو ہمارے حکمران اور ارکان اسمبلی یعنی جدی پشتی خدمت گار ہیں جو اگلے زمانوں میں شاہوں، شہنشاہوں اورظل اللہ ، ظل الٰہی کے ناموں سے وزیروں باتدبیروں کے نام سے یا سکندروں، چنگیزوں ، ہلاکوں ،تیموروں، بابروں کے نام سے عوام کی خدمت کرتے تھے اورآج جمہوروں، سیاسیوں اورمنتخب نمائندوں کے نام سے ، دن رات خدمات میں لگے رہتے ہیں ، اپنے اوپر خواب وخور حرام کیے ہوئے ہیں ، نہ قیام نہ طعام بس عوام کالانعام کے خدام بنے ہوئے ہیں اوریہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد بلکہ صدر، وزریراعظم ،وزیراعلیٰ، وز یر، مشیر اور’’معاون شد‘‘  اورآج کل تو اوورٹائم بھی کرنے لگے ہیں کہ خدمات کے ساتھ ساتھ بیانات بلکہ خوشخبریات سے بھی عوام کو ’’نواز‘‘ رہے ہیں لیکن بہت ہوگیا ان ظالم عوام کالانعام نے ان سے بہت خدمت بلکہ خدمات وصول کیں۔ اندازہ اس سے لگائیں کہ ان کی مسلسل خدمات کی برکت سے عوام کالانعام جنت الماویٰ کے گیٹ پر پہنچ چکے ہیں صرف حضرت عزرائیل سے ایک سرٹیفیکیٹ کی ضرورت ہے وہ بھی بہت جلد مل جائے گا۔ ؎ ایک خوشبو کے شناسا جو صبا لائی ہے  وہ بھی آجائے گی آنے کی خبر آئی ہے  چنانچہ اب وقت آگیا ہے کہ یہ نالائق،  ناشکرے،ناشناس عوام کالانعام بھی ان کی خدمات کا بدلہ چکا دیں اوران کی خدمت کرکر کے ان کومخدوم بنا دیں۔ان کو تو جو کچھ کرنا تھا وہ کرچکے ہیں، اب عوام کی باری ہے کہ ان کے بے حساب احسانوں اورخدمات کا بدلہ چکا دیں۔ معافی چاہتا ہوں اب تک میں نے ایک بات چھپائی ہے وہ بھی طشت ازبام کردوں کہ دراصل میں نے یہ زبردست آئیڈیا اپنی صوبائی حکومت کے کچھ اعلانات اوراقدامات سے اخذ کیا ہے ، صوبہ کے پی کے عرف خیر پہ خیر نے ان صوبائی ارکان اسمبلی یعنی جدی پشتی خدمت گزاروں کے لیے کچھ مراعات، سہولیات اورعنایات کا سلسلہ شروع کیا ہے لیکن وہ بھی ناکافی ہے ۔صرف بلیو پاسپورٹ اوروہ بھی صرف خادم اورخادمہ کے لیے ؟نہیں نہیں یہ بہت ناانصافی ہے، سارے خاندان اور’’سات پشتوں‘‘ تک یہ سہولت ہونی چاہیے اورہرفرد کے لیے بھی بلٹ پروف، بم پروف اورشرم پروف گاڑیاں ہونی چاہیے اوریہ گاڑیاں پانی سے تو نہیں چلیں گی اس کے لیے ایک گیس، پٹرول اورڈیزل پمپ بھی ہونا چاہیے ،بچوں کاجیب خرچ اورخواتین کی شاپنگ کے لیے الگ فنڈ بھی ضروری ہے چونکہ یہ سارے جمہوری یاسلیکٹڈ خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے الیکشن فنڈ بھی ضروری ہے وہ انکم سپورٹ اورکارڈزوغیرہ بھی تو ہیں لیکن وہ ناکافی ہیں۔ ہاں سال میں ایک دوبار بلیو پاسپورٹ پر بیرون ملک دورہ بھی ضروری ہے تاکہ اپنے ’’بھیجے ہوئے ‘‘ کاجائزہ لے سکیں اور’’ عوامی خدمت‘‘ کی وجہ سے لاحق تھکان دورکرسکیں ۔ اوربھی بہت کچھ ہوناچاہیے جو ان خدمت گاروں کاحق ہے اورکالانعام کافرض ہے آخر اتنی خدمات کاصلہ دینا عوام کافرض اولین ہے ۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل