Loading
اِس مرگِ انبوہ پر کیا لکھا جائے ؟ لکھتے ہُوئے الفاظ تھر تھرا رہے ہیں اور انگلیاں کانپ رہی ہیں۔ وفاقی دارالحکومت، اسلام آباد، کے سب سے بڑے اسپتال میں پلک جھپکتے ہی 14معصوم پھول جل کر بھسم ہو گئے ۔ سارا ملک اُداس اور دلگیر ہے ۔ چودہ نَو مولود، بے گناہ اور معصوم ہی موت نے ہڑپ نہیں کیے بلکہ چودہ ماؤں کی کوکھ اُجڑ گئی ہے ۔ چودہ خاندانوں میں صفِ ماتم بچھ گئی ۔کئی ایسے خاندان بھی سامنے آئے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے برسوں کے انتظار کے بعد اولاد کی نعمت سے نوازا تھا، مگر بے رحم اور لاپروا اسپتال انتظامیہ کے کارن وہ بھی اپنی پہلی پہلی اولاد سے محروم کر دیئے گئے ۔
ایسے المناک سانحے پر کیونکر لکھا جائے ؟ اُنگلیاں فگار اپنی ، خامہ خونچکاں اپنا!یہ حادثہ فاجعہ اسلام آباد کے مرکز میں واقع سب سے قدیم اور عظیم اسپتال ، پمز، میں بروز بدھ، بتاریخ 26اگست2026ء ، اُس وقت پیش آیا جب پورے ملک میں جشنِ عیدِ میلادالنبی کی تیاریاں کی جا رہی تھیں ۔ اس لیے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں چُھٹی بھی تھی ۔ پِمز(PIMS،پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ) کے شعبہ بچگان میں آگ اچانک بھڑک اُٹھی ۔ مبینہ طور پر وہاں اُس وقت 15بچے انکیوبیٹرز میں پڑے تھے ۔ ساتھ ہی وارڈ میں داخل بچوں کی مائیں علی الصبح چھ بجے وقوع پذیر ہونے والے سانحہ سے بے خبر تھیں ۔ مبینہ طور پر ائر کنڈیشنر کا کمپریسر پھٹا، آگ کا شعلہ بھڑکا اور لمحوں میں بچوں کا وارڈ آگ کی لپیٹ میں آگیا ۔ صرف ایک خوش بخت بچہ بچ گیا ۔ چودہ نَومولود جہاں سے آئے تھے ، وہیں واپس چلے گئے ۔
اِس سانحہ نے سارے ملک کو سوگوار کررکھا ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے ۔ عیدِ میلادالنبی کی خوشیاں اور مسرتیں بھی اِسی سانحہ کی نذر ہو گئیں۔ کس کو ذمے دار ٹھہرایا جائے؟ جو براہِ راست ذمے دار ہیں یا ذمے دار سمجھے جارہے ہیں، وہ سبھی پلّہ جھاڑ کر ایک طرف بیٹھ گئے ہیں، یہ کہہ کر کہ’’انکوائری اور تحقیقاتی کمیٹی بٹھا دی گئی ہے ۔ رپورٹ آنے پرہی معلوم ہو سکے گا کہ کون اصل ذمے دار تھا۔‘‘ چلیے جی ، اللہ اللہ خیر صلّا۔ انکوائری کمیٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کب آئے گی ؟ رپورٹ لکھنے والے قابلِ اعتبار بھی ہوں گے ؟ اور اگر سانحہ کے ذمے داروں ہی کے سپرد انکوائری کمیٹی کر دی گئی تو ؟ کون پہنچا ہے تری زلف کے سر ہونے تک۔ ہمارے ہاں انکوائری کمیٹیاں اپنی نااہلیوں اور جانبداریوں کے کارن اس قدر بدنام ہو چکی ہیں کہ اعتبار کرنا تقریباً نا ممکن ہو چکا ہے ۔جو چودہ بچے جنت میں واپس چلے گئے ہیں۔
اُن کی ماؤں کا متفقہ بیان سامنے آیا ہے (اور نجی ٹی ویوں کے رُوبرو سامنے آیا ہے) کہ جب آگ کی لپٹیں معصوم بچوں کو خاکستر کررہی تھیں، اُس وقت(۱) متعلقہ وارڈ کا دروازہ باہر سے مقفّل تھا(۲) وارڈ کے اندر اور باہر کوئی نرس موجود نہیں تھی (۳) ڈیوٹی پر جس ڈاکٹر کو موجود ہونا چاہیے تھا، وہ بھی غیر حاضر تھی(۴) وارڈ کے نزدیک ترین حصے میں بھی آگ بجھانے والے آلات نہیں تھے (۵) نزدیکی وارڈ میں داخل بچوں کی ماؤں اور اُن کے لواحقین کو اندر جانے ، آگ بجھانے اور اپنے معصوموں کو بچانے کی اجازت نہیں دی گئی(۶)پولیس اور فائر بریگیڈ ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچی ، حالانکہ فائر بریگیڈ لگنے والی آگ سے نزدیک ہی واقع ہے ۔
تاسف انگیز اور اشکبار سوالات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے ۔ جواب دینے والے مگر خاموش ہیں ۔ مجرمانہ خاموشی کے مرتکب!وزیر اعظم، صدرِ مملکت، وفاقی وزرا ، وزرائے اعلیٰ، اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے جنتوں میں پھر سے سدھار جانے والے نَو مولودوں کے والدین کی اشک شوئی کے لیے ہمدردی کا اظہار تو کیا ہے ، مگر کیا یہ اعلیٰ ترین سرکاری حکام اُن ماؤں کی کوکھیں آباد کر سکیں گے جن کی گودیں ’’پمز‘‘ والوں نے اُجاڑ ڈالی ہیں ؟ واقعہ یہ ہے کہ پمز اسپتال کے سنگین اور المناک سانحہ نے وفاقی حکومت و اسلام آباد انتظامیہ کی اہلیت کی قلعی کھول دی ہے ۔
حکومت بے نقاب ہو گئی ہے۔ پاکستان کے عوام کو تو ویسے پہلے بھی اپنے وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کی ’’عوام دوستی‘‘ بارے کوئی شک نہیں تھا، مگر اب تو 26اگست کے اِس تازہ ترین سانحہ نے سب پردے چاک کر ڈالے ہیں ؛ چنانچہ نقادوں کی جانب سے بجا طور پر درست کہا جارہا ہے کہ : ملک کے چاروں صوبوں کو مزید تقسیم کرنے کی نیت رکھنے والے اِن حکمرانوں سے اسلام آباد کا چھوٹا سا علاقہ (جو صرف 900مربع کلومیٹر پر محیط اور جس کی آبادی30لاکھ ہے)تو انتظامی طور پر سنبھالا نہیں جارہا ہے، یہ مجوزہ درجنوں چھوٹے چھوٹے صوبے کیسے سنبھال سکیں گے ؟
حقیقت یہ ہے کہ پمز اسپتال کے سانحہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ وطنِ عزیز کا ہر سرکاری اسپتال تیزی سے عوامی اعتباروں سے محروم ہوتا جا رہا ہے ۔ کوئی صاحبِ حیثیت آج کسی سرکاری اسپتال میں علاج معالجے کے لیے داخل ہونے کا رسک لینے کو تیار نہیں۔ پمز میں صورتِ احوال تو اور بھی گمبھیر اور ناگفتہ ہے۔ راقم کو خود بھی پمز کے ڈاکٹروں اور نرسوں کی بدسلوکیوں سے کئی بار گزرنا پڑا ہے ۔
اس لیے پمز کی ہڈ حرامیوں اور نااہلیوں بارے راقم کو ، کم از کم، کوئی شبہ نہیں ہے۔ جناب وزیر اعظم ، شہباز شریف، نے ترنت وفاقی سیکرٹری ہیلتھ کو معطّل تو کر دیا ہے ، مگر سوال پوچھنے والے پوچھ رہے ہیں کہ اِس سنگین ترین سانحہ کا ذمے دار صرف سیکرٹری ہیلتھ ہی ہے ؟ یعنی نزلہ بر عضوِ ضعیف؟سارا ملک وفاقی وزیر صحت کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہا ہے تو موصوف کیوں استعفیٰ نہیں دے رہے؟ وزیر اعظم صاحب نے ابھی تک اُن سے استعفیٰ کیوں نہیں مانگا؟ اگر وفاقی وزیر صحت کو مرنے والے 14معصوموں کا کچھ ہلکا سا غم بھی ہوتا تو اُنہیں اب تک وزارت کا پیچھا چھوڑ دینا چاہیے تھا ۔
وزیر اعظم ، وفاقی وزیر صحت اور دیگر اعلیٰ ترین سرکاری حکام نے ویسے بڑے زوروں سے بیانات دیئے ہیں کہ پمز اسپتال سانحہ کے اصل ذمے داروں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ اصل مجرموں کو جَلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ مگر ہمارے سابقہ حکمرانوں نے ملک میں وقوع پذیر ہونے والے سابقہ سانحات پر جس طرح مٹی ڈالتے رہے اور خونی سانحات کے مجرم صاف بچ گئے یا بچا لیے گئے ، اِس پس منظر میں اِس بار بھی عوام کی توقعات یہی ہیں کہ پمز اسپتال سانحہ کے مجرم بھی سزا سے صاف بچ جائیں گے ۔
پمز اسپتال سانحہ نے ہم سب پاکستانیوں کے پرانے زخم پھر سے ہرے کر دیئے ہیں۔ پورے ملک میں یہ بات بیک زبان کہی اور سُنی جارہی ہے کہ اگر (۱) دسمبر2014ء کو پشاور میں APSکے خونی سانحہ (جس میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نے 132 معصوم طلباء کو بیدردی سے شہید کر دیا تھا) کے مجرموں کو بروقت، فوری اور سخت سزائیں دی جاتیں تو آج پمز سانحہ بھی پیش نہ آتا (۲) اگر ستمبر2012ء کو کراچی کے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں پیش آنے والا سانحہ (جس میں 260 افراد جلا کر قتل کر دیئے گئے تھے) کے قاتلوں اور مجرموں کو سزائیں دے دی جاتیں تو آج اگست 2026ء کو بھی ہم پمز اسپتال سانحہ سے محفوظ رہ سکتے تھے ۔
مگر کوئی ایک بھی مجرم اور قاتل تختہ دار تک نہیں پہنچ سکا ۔ یہ ہمارے آج کے وفاقی وزیر صحت ،جناب مصطفی کمال، اُسی کراچی شہر سے تعلق رکھتے ہیں جہاں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کا یہ دہشتناک واقعہ پیش آیا تھا۔ وہ تو اِس خونی سانحہ کی اصلیت سے آگاہ ہوں گے۔ مگر یاد رکھا جائے کہ پمز (PIMS) میں 26اگست کا سانحہ نیا اور پہلا نہیں ہے ۔ پمز کی پچھلی 6سالہ تاریخ کا تحقیقی جائزہ لیا جائے تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ اِس سے قبل بھی اِس اسپتال کے ڈاکٹرز اور نرسیں غریب اور بے بس مریضوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرتے رہے ہیں ۔ مگر افسوس ، صد افسوس کہ کسی حاکم کے کانوں تک جُوں تک نہ رینگی۔ ایک انگریزی معاصر نے تو 27اگست 2026ء کو پورے ملک کے کئی سرکاری اسپتالوں میں لگنے والی مہلک آگ کے کئی سانحات کی مکمل فہرست شائع کر دی ہے ، مگر کسی نے سبق سیکھا نہ کسی کو شرم آئی ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل