Friday, August 28, 2026
 

ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ ٹیرف دشمنی کی آڑ میں جھیل اونٹاریو کا نام جھیل امریکا رکھ دیا

 



امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی جنگ شدت اختیار کرگئی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے جھیل امریکا رکھنے کے حکم پر دستخط کردیے۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صدارتی حکم پر دستخط کرتے ہوئے امریکی محکمہ داخلہ کو جغرافیائی ناموں کے سرکاری نظام میں جھیل اونٹاریو کا نام جھیل امریکا درج کرنے کی ہدایت کی۔ جھیل اونٹاریو امریکا کی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے درمیان واقع ہے تاہم امریکی صدر کے فیصلے کا اطلاق امریکی وفاقی حکومت کے سرکاری ریکارڈ اور حوالہ جات تک ہوگا۔ یہ ٹرمپ کی جانب سے جغرافیائی نام تبدیل کرنے کا ایک اور بڑا اقدام ہے۔ اس سے قبل ان کی انتظامیہ نے خلیج میکسیکو کو امریکی وفاقی سطح پر خلیج امریکا کہنے کی ہدایت کی تھی۔ جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان ٹیرف اور تجارت کے معاملے پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ٹرمپ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کینیڈا میں اس آبی گزرگاہ کو جھیل اونٹاریو ہی کہا جائے گا۔ کارنی کے مطابق نام تبدیل کرنے کے امریکی فیصلے سے کینیڈا میں اس جھیل کا تاریخی نام تبدیل نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کے دوران یہ بھی عندیہ دیا کہ مستقبل میں بحرِ اوقیانوس یا بحرِالکاہل جیسے بڑے آبی خطوں کے نام تبدیل کرنے پر بھی غور کیا جاسکتا ہے جس نے ان کے نام تبدیل کرنے کے سلسلے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ امریکی فیصلے کے بعد یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ مشترکہ سرحد رکھنے والی جھیل کا نام ایک ملک تبدیل کرے تو دوسرے ملک میں اس نام کو کس حد تک تسلیم کیا جائے گا تاہم کینیڈا نے واضح کردیا ہے کہ اس کے لیے جھیل کا نام اونٹاریو ہی رہے گا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل