Loading
پاکستان کرکٹ بورڈ نے لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز کی کوریج کے دوران لنچ بریک میں عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان خان کا انٹرویو نشر کرنے پر اسکائی اسپورٹس کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرادی۔
دی گارڈین کے مطابق یہ انٹرویو پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے نشر کیا گیا، جن کے بارے میں ان کے بیٹوں نے حکومت کے مبینہ ناروا سلوک اور ان کی قید پر تشویش کا اظہار کیا۔ عمران خان گزشتہ تین سال سے قید میں ہیں اور انہیں مبینہ طور پر تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
قاسم خان نے انٹرویو میں کہا کہ یہ واضح نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور انہیں زیادہ سے زیادہ عرصے تک قید میں رکھ کر ان کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے وکلا ان کی جیل کی صورتحال کو خطرناک قرار دے چکے ہیں جبکہ ان کی بہن نے بھی دورانِ قید تشدد کے الزامات عائد کیے ہیں۔ گزشتہ ہفتے 73 سالہ عمران خان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
دی گارڈین کے مطابق پی سی بی کی شکایت کی مکمل نوعیت واضح نہیں، تاہم امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ اعتراض اسکائی اسپورٹس کی جانب سے ایسے افراد کو پلیٹ فارم دینے سے متعلق ہے جو حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔ اسکائی اسپورٹس نے شکایت موصول ہونے کی تصدیق کی ہے مگر اس پر مزید تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ انٹرویو نشر کرنے سے روکنے کی کوشش بھی کی تھی۔ لارڈز میں بارش کی وجہ سے کھانے کا وقفہ پہلے ہی تاخیر کا شکار تھا۔ انٹرویو نشر ہونے کے بعد پی سی بی کے حکام نے پاکستانی کھلاڑیوں کو دوبارہ میدان میں بھیجنے سے روکنے کی دھمکی دی۔
تاہم انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے حکام نے گفت و شنید کے ذریعے معاملہ حل کر لیا اور کھیل دوبارہ شروع ہوگیا۔ ’دی گارڈیئن‘ نے بتایا کہ اس معاملے پر پاکستانی حکام کی ناراضی اب بھی برقرار ہے اور اطلاعات کے مطابق انہوں نے یہ مسئلہ برطانوی حکومت کے فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس کے سامنے بھی اُٹھایا ہے۔
پی سی بی کی جانب سے ای سی بی حکام کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستانی ٹیم لارڈز ٹیسٹ کے دوسرے دن کے کھیل میں بھی حصہ لے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل