Loading
پیٹ کے حصے میں جمع ہونے والی چربی کو ویسیرل فیٹ بھی کہا جاتا ہے جو کہ صرف ظاہری شخصیت کو متاثر نہیں کرتی بلکہ صحت کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس کو کم کرنا اکثر مشکل محسوس ہوتا ہے مگر روزمرہ زندگی میں کی جانے والی چند چھوٹی تبدیلیاں اس سفر کو آسان بنا سکتی ہیں۔
آئیے جانتے ہیں ایسے ہی چند آسان طریقے جو پیٹ کی چربی کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
پیٹ کی چربی بڑھنے کی وجوہات
جسم میں چربی جمع ہونے کی چند عام وجوہات یہ ہیں:
جسمانی سرگرمی یا ورزش کی کمی
غیر صحت بخش غذائی عادات، خصوصاً چینی، نمک، تلی ہوئی اور پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال
ہائپوتھائیرائیڈزم (تھائیرائیڈ غدود کی کم فعالیت)
بعض ادویات، جیسے اینٹی ڈپریسنٹس، کورٹیکوسٹیرائیڈز، اینٹی سائیکوٹکس اور ہارمونل ادویات
حمل
مینوپاز
ذہنی دباؤ
نیند میں خلل
سگریٹ نوشی
کم کرنے کے گھریلو طریقے:
روزانہ ورزش کو معمول بنائیں
روزانہ تقریباً 30 منٹ معتدل سے تیز جسمانی سرگرمی وزن اور پیٹ کی چربی کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ اسٹرینتھ ٹریننگ کو بھی مفید قرار دیا گیا ہے۔ ورزش کا دورانیہ اور شدت بتدریج بڑھانا بہتر ہے۔
خوراک میں تبدیلی
سبزیوں، پھلوں اور ثابت اناج کو روزمرہ غذا کا حصہ بنانا جبکہ سفید بریڈ، میٹھے مشروبات اور ریفائنڈ اناج کا استعمال محدود کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ انتہائی کم کیلوریز والی سخت ڈائٹس اپنانے کے بجائے متوازن غذا، مناسب مقدار اور صحت بخش اسنیکس پر توجہ دینی چاہیے۔
ادرک، ہلدی اور زیرہ
ادرک، ہلدی اور زیرے کو جسم میں چربی کے میٹابولزم اور وزن کے انتظام کیلئے ممکنہ طور پر مفید پایا گیا ہے۔ تاہم ان گھریلو طریقوں کے فوائد سے متعلق شواہد ابھی محدود ہیں۔
گرین ٹی اور لیموں
گرین ٹی کو میٹھے اور پیک شدہ مشروبات کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا کیلوریز کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جبکہ مضمون میں لیموں کو بھی وزن اور چربی کے انتظام سے جوڑا گیا ہے۔ صرف لیموں پانی یا گرین ٹی پر انحصار کر کے پیٹ کی چربی کم ہونے کی توقع نہیں کرنی چاہیے۔
ذہنی دباؤ کو بھی نظرانداز نہ کریں
ذہنی دباؤ وزن بڑھنے کا ایک ممکنہ سبب ہے، اس لیے یوگا اور ذہنی سکون پر توجہ بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مائنڈ فل ایٹنگ یعنی کھاتے وقت اپنی بھوک، مقدار اور غذائی انتخاب پر توجہ دینا زیادہ کھانے سے بچنے میں مدد دے سکتا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیے؟
اگر پیٹ کی اضافی چربی روزمرہ سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہو، ذہنی یا نفسیاتی پریشانی کا باعث بن رہی ہو یا اس کے نتیجے میں صحت کے خطرات کے بارے میں تشویش ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پیٹ کی چربی کم کرنے کیلئے صرف گھریلو نسخوں پر انحصار مناسب نہیں۔ اگر وزن یا پیٹ کی چربی میں بہتری نہ آئے تو کسی مستند ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ اس کی ممکنہ بنیادی وجہ کا عین کر کے مناسب طریقہ اختیار کیا جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل