Friday, August 28, 2026
 

آبنائے ہرمز کھولنے کی تیاری، ایران نے امریکا کے سامنے بڑی شرائط رکھ دیں

 



تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط طے کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے مطابق ثالث ممالک نے تہران سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اپنی شرائط واضح کرنے کو کہا ہے، جن میں خطے میں جاری جنگ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق محسن رضائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی شرائط کی ایک فہرست تیار کررہا ہے۔ ان کے مطابق ان شرائط میں سب سے اہم مطالبات میں سے ایک خطے میں جاری جنگ اور فوجی کشیدگی کا خاتمہ ہے۔ محسن رضائی نے کہا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک عارضی بحری راہداری پر بھی متفق ہوگئے ہیں۔ اس مجوزہ راستے کا کچھ حصہ عمان کی سمندری حدود اور کچھ حصہ ایرانی پانیوں سے گزرے گا۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق اس بحری راہداری میں ایک مخصوص مرکزی چینل مقرر کیا جائے گا، جسے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔ تاہم اس نظام پر مکمل عمل درآمد ایران کی جانب سے مقرر کردہ شرائط کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ محسن رضائی کے مطابق اگر امریکا ایران کی شرائط پوری کرتا ہے تو تجارتی بحری جہازوں کو اس مخصوص راستے سے گزرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ اس طرح آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو مرحلہ وار بحال کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایران کی جانب سے شرائط کی فہرست تیار کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف ممالک دونوں جانب رابطوں اور سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی انتظام میں ایران کے مفادات اور خودمختاری کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان مجوزہ بحری راہداری اس معاملے میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے، کیونکہ اس سے مخصوص شرائط پوری ہونے کی صورت میں تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ آمدورفت کا محدود نظام قائم ہوسکتا ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز کی مکمل اور مستقل بحالی کا انحصار ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع اور مذاکرات میں پیش رفت پر ہوگا۔ محسن رضائی کے بیان کے مطابق خطے میں جنگ کا خاتمہ ایران کی اہم شرائط میں شامل ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل